مسلمانوں پر ظلم کی حرمت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسلمانوں پر ظلم کی حرمت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 10

’’ یہی ہیں جو کہتے ہیں ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں ، یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں ، حالانکہ آسمانوں کے اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں اور لیکن منافق نہیں سمجھتے ۔‘‘

اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے :

﴿وَمِنْہُمْ مَنْ یَّسْتَمِعُ اِِلَیْکَ حَتّٰی اِِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِکَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَاتَّبَعُوا اَہْوَائَ ہُمْ﴾[محمد:16]

’’ اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تیری طرف کان لگاتے ہیں ، یہاں تک کہ جب وہ تیرے پاس سے نکلتے ہیں تو ان لوگوں سے جنھیں علم دیا گیا ہے، کہتے ہیں ابھی اس نے کیا کہا تھا؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چل پڑے ۔‘‘

تو یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ قرآن سمجھنے کے قریب بھی نہ تھے۔لیکن یہاں پر[ حَدِیْثًا ] کا لفظ نفی کے سیاق میں نکرہ لایا گیا ہے ؛ جو کہ عموم پر دلالت کرتا ہے۔ جیسا کہ سورت کہف میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿ِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِہِمَا قَوْمًا لَّا یَکَادُوْنَ یَفْقَہُوْنَ قَوْلًا ﴾[ الکہف:93]

’’ ان کے اس طرف کچھ لوگوں کو پایا جو قریب نہ تھے کہ کوئی بات سمجھیں ۔‘‘

یہ بات تو معلوم شدہ ہے کہ وہ لوگ لازمی طور پر کچھ باتیں تو سمجھتے تھے۔ وگرنہ اس کے بغیر انسان زندگی نہیں گزار سکتا۔تو اس سے معلوم ہوا کہ وہ نہ سمجھنے کے قریب تر ہوکر بھی کچھ نہ کچھ سمجھ لیتے تھے۔روایت میں ایسے ہی ہے۔اور یہ نحویوں کا مشہور قول ہے جو کہ زیادہ ظاہر لگتا ہے۔

یہاں پر مقصود یہ ہے کہ: یہ لوگ اگر قرآن کو سمجھ لیتے تو انہیں پتہ چل جاتا کہ آپ انہیں صرف بھلائی اور نیکی کا حکم دیتے ہیں ۔ اور برائی اور شر سے منع کرتے ہیں ۔ اور آپ کی وجہ سے ان پر کوئی مشکل یا مصیبت نہیں آتی؛ بلکہ یہ ان کے اپنے گناہوں کی وجہ سے ہے ۔ پھراللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿مَآ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ وَ مَآ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ﴾[النساء:79]

’’ جو کوئی بھلائی تجھے پہنچے سو اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی تجھے پہنچے سو تیری اپنی طرف سے ہے ۔‘‘

حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں : ’’ میں نے یہ تجھ پر لکھ دیا ہے۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ: یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک تحریر میں ہے؛ اور میں نے اسے تیرے لیے مقدر کردیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیْرٍ ﴾[الشوری:30]

’’ اور جو بھی تمہیں کوئی مصیبت پہنچی تو وہ اس کی وجہ سے ہے جو تمھارے ہاتھوں نے کمایا اور وہ بہت سی چیزوں سے در گزر کر جاتا ہے ۔‘‘

اور جیسے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ اَوَ لَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْہَا قُلْتُمْ اَنّٰی ھٰذَا قُلْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ﴾[آل عمران:165 ]

’’اور کیا جب تمھیں ایک مصیبت پہنچی کہ یقیناً اس سے دگنی تم پہنچا چکے تھے تو تم نے کہا یہ کیسے ہوا؟ کہہ دے یہ تمھاری اپنی طرف سے ہے ۔‘‘

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَاِِنْ تُصِبْہُمْ سَیَِّٔۃٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ فَاِِنَّ الْاِِنسَانَ کَفُوْرٌ ﴾[الشوری:48]

’’ اور اگر انہیں اس کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی ہے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو بے شک انسان بہت نا شکرا ہے۔‘‘

یعقوب سے کردم کی روایت میں ﴿فمن نفسک ﴾آیا ہے۔ اس کا معنی متواتر قرأت کے خلاف ہے۔ پس اس پر کوئی اعتماد نہیں کیا جائے گا۔

اس آیت کا یہ معنی ایک حدیث قدسی میں بھی پایا جاتا ہے؛ [اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ]

’’ اے میرے بندو یہ تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں میں تمہارے لیے اکٹھا کر رہا ہوں پھر میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا تو جو آدمی بہتر بدلہ پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو بہتر بدلہ نہ پائے تو وہ اپنے نفس ہی کو ملامت کرے۔‘‘ [صحیح مسلم:جلد:3:ح:2071]

پس اس آیت کریمہ کا معنی ان تمام لوگوں کو شامل ہے جو اپنے اوپر آنے والی ہر مصیبت کو اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی وجہ سے قرار دیتے ہیں ؛ بھلے ایسا کہنے والا کوئی بھی ہو۔ پس جو کوئی یہ کہتا ہے کہ :ایسا رسول اللہﷺ کے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو تقدیم بخشنے اور حضرت ابوبکرؓ کو نماز میں آگے کرنے ؛ اور ان دونوں کی [ولایت اوردوستی] کی وجہ سے ایسے ہوا؛ اور ان پر یہ مصیبت آن پڑی۔

تو ان سے کہا جائے گا : یہ مصیبت تمہارے اپنے گناہوں کی وجہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا () وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَحْتَسِبُ ﴾[الطلاق:2ـ3]

’’ اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا۔اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا ۔‘‘

بلکہ یہ تمام باتیں اہل ایمان کے لیے ناحق ایذا رسانی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ لَا یَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا﴾ (الحجرات:12)

’’ایک دوسرے کی غیبت مت کرو۔‘‘

احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

’’غیبت کے معنی یہ ہیں کہ تم اپنے مسلمان بھائی کا ذکر ایسے انداز میں کرو کہ وہ اسے ناپسند کرے۔ آپ سے دریافت کیا گیا اگر اس میں وہ عیب موجود ہو تب بھی اس کا ذکر کرنا مناسب نہیں ؟ فرمایا:

صفحہ 4 از 10