مسلمانوں پر ظلم کی حرمت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسلمانوں پر ظلم کی حرمت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 10

’’ اگر تجھے کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں بری لگتی ہے اور اگر تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو کہتے ہیں ہم نے تو پہلے ہی اپنا بچاؤ کر لیا تھا اور اس حال میں پھرتے ہیں کہ وہ بہت خوش ہوتے ہیں ۔‘‘

اسی لیے فرمایا ہے:﴿مَآ اَصَابَکَ ﴾’’جو آپ کو پہنچے۔‘‘ یہ نہیں فرمایا:’’مَآ اَصَبْتَ ‘‘ جس تک آپ پہنچیں ۔ سلف صالحین اس آیت کی تفسیر میں یوں فرماتے ہیں: 

ابو صالحؒ نے حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت کیا ہے؛ فرمایا: حسنہ سے مراد ہریالی اور بارش ہے۔ اور سئیہ سے مراد: خشک سالی اور مہنگائی ہے۔

آپ سے والی کی روایت میں یوں ہے: : حسنہ سے مراد فتح اور غنیمت ہے۔ اور سئیہ سے مراد:ہزیمت ؛ زخم اور اس طرح کے امور ہیں ۔اس روایت میں ہے: جو آپ کو بھلائی پہنچی اس سے مراد وہ فتح تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے بدر کے موقع پر سر فراز کیا۔ اور سئیہ [برائی] سے مراد وہ شکست تھی جس سے بدر کے موقع پر دو چار ہوئے۔ ایسے ہی ابن قتیبہؒ سے مروی ہے کہ: : حسنہ سے مراد غنیمت اور نعمت ہے۔ اور سئیہ سے مراد: آزمائش ہے۔یہ تفسیر ابو عالیہ سے بھی روایت کی گئی ہے۔ اور ان سے یہ بھی منقول ہے کہ:: حسنہ سے مراد اطاعت قُلْہے۔ اور سئیہ سے مراد: معصیت ہے۔

بعض متأخرین نے یہی کچھ خیال کیا ہے۔ پھر ان لوگوں کا اختلاف ہے۔ تقدیر کا اثبات کرنے والے کہتے ہیں :یہ ہمارے حق میں حجت ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ قُلْ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ﴾ [النساء 78]

’’ کہہ دے سب اللہ کی طرف سے ہے۔‘‘

جبکہ تقدیر کی نفی کرنے والے کہتے ہیں : یہ ہمارے حق میں حجت ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مَآ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ ﴾[النساء:79]

’’ اور جو برائی تجھے پہنچے سو تیرے نفس کی طرف سے ہے ۔‘‘

ان میں سے ہر ایک فریق کی دلیل دوسرے کی دلیل کے فساد پر دلالت کرتی ہے۔ جب کہ اس آیت کی تفسیر میں یہ دونوں قول باطل ہیں ۔ کیونکہ اس سے مراد نعمتیں اور مصایب ہیں ۔ اسی لیے فرمایا: ’’إن تصبہم ۔‘‘اگر انہیں پہنچتی ہے ۔‘‘ تو یہاں پر ضمیر منافقین پر لوٹتی ہے۔اور یہ بھی کہا گیا ہے: ضمیر کا مرجع یہود ہیں ۔ اور یہ بھی کیا گیا ہے کہ اس سے دونوں گروہ مراد ہیں ۔ 

حقیقت یہ ہے کہ یہ ضمیر اس عقیدہ کے حامل لوگوں کی طرف لوٹتی بھلے وہ کسی بھی گروہ سے ہوں ۔ اسی کہا گیا ہے کہ: اس کے قائل کو متعین نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ لوگ ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں ۔ پر جو کوئی بھی ایسا عقیدہ رکھے؛ یہ آیت اسے شامل ہوتی ہے۔ بیشک رسول اللہﷺ کے لائے ہوئے پیغام پر طعنہ زنی کرنے والے کافر بھی ہیں اور منافق بھی۔ بلکہ وہ لوگ بھی ہیں جن کے دلوں میں بیماری ہو؛ یا وہ کسی جہالت کا شکار ہو؛ وہ ایسی بات کہہ سکتا ہے۔ اور بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو رسول اللہﷺ کے لائے ہوئے کچھ پیغام رسالت کے متعلق ایسی بات کہہ دیتے ہیں ۔ مگر انہیں یہ علم نہیں ہوتا کہ یہ آپﷺ کا لایا ہوا پیغام ہے۔ کیونکہ وہ اپنے فریق مخالف کو ہی غلطی پر خیال کرتا ہے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خود غلطی کا ارتکاب کررہا ہو۔ پس جب انہیں نصرت اور رزق سے نوازا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں : یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اسے رسول اللہﷺ کے لائے ہوئے پیغام کی طرف منسوب نہیں کرتے۔ اگرچہ اس کا سبب وہی ہو اور اگر ان کے رزق میں کمی آتی ہے؛ اور انہیں دشمن کی طرف سے یا ان کے غلبہ کا خوف محسوس ہوتا ہے؛ تو کہتے ہیں : یہ تمہاری وجہ سے ہے؛ اس لیے کہ آپ نے ہی جہاد کا حکم دیا تھا؛ تو پھر جو کچھ ہونا تھا وہ ہوا۔ تو یہ لوگ آپ کے لائے ہوئے پیغام سے بد فالی لینے لگ گئے؛ جیسے قومِ فرعون کے لوگ حضرت موسی علیہ السلام کے لائے ہوئے پیغام سے بد فالی لیتے تھے ۔

سلف صالحین نے اس کے دو معانی بیان کئے ہیں ۔حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے؛ کہا: تیری نحوست کی وجہ سے اور ابن زید کہتے ہیں : ’’تمہاری تدبیر کی خرابی کی وجہ سے ۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ قُلْ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ﴾[النساء:78]

’’ کہہ دیں سب اللہ کی طرف سے ہے۔‘‘

حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں : ’’حسنہ اور سیئہ :[بھلائی اور برائی]:حسنہ وہ ہے؛ جو آپ پر انعام کیا گیا ہو؛ اور برائی وہ ہے : جس سے آپ آزمائے گئے ہوں ۔‘‘

پس ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات نہیں سمجھتے ۔ اور ایسی ہی بات نہ سمجھنے کے متعلق بھی کہی گئی ہے۔ انہیں کیا ہوگیا ہے :وہ نہ ہی سمجھتے ہیں ؛ نہ سمجھنے کے قریب لگتے ہیں ۔‘‘ یہاں پر نفی اثبات کے مقابلہ میں ہے۔ اوریہ بھی کہا گیاہے کہ :وہ سمجھنے والے لگتے نہیں تھے؛مگر پھر بھی آخرکار سمجھ گئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَمَا کَادُوْا یَفْعَلُوْنَ﴾[البقرۃ:71]

’’ اور وہ قریب نہ تھے کہ کرتے ۔‘‘

یہاں پر جس کی منفی کی گئی ہے وہ مثبت ہے؛ اور مثبت کی منفی ہے۔ عوام الناس کے ہاں اس طرح کے جملوں کا استعمال مشہور ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے کبھی یہ مراد ہوتا ہے او رکبھی یہ ۔جب کسی فعل کے اثبات کی صراحت ہو تو اس کا وجود ہوتا ہے۔ اور جب نفی محض کی صورت میں ہو؛ جیسے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿لم یکد یراہا ﴾[النور4]

’’لگتا نہیں تھا کہ وہ اسے دیکھیں گے ۔‘‘

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ِ لَا یَکَادُوْنَ یَفْقَہُوْنَ حَدِیْثًا ﴾[النساء:78]

’’ پھر ان لوگوں کو کیا ہوا کہ کوئی بات سمجھنے کے قریب بھی نہیں ۔‘‘

یہ نفی مطلق ہے۔ اور اس کے ساتھ کوئی قرینہ نہیں پایا جاتا جو اثبات پر دلالت کرتا ہو؛ اور پھر اس کے مطلق اور مقید میں فرق کیا جائے۔

نحوی حضرات کے یہ تین اقوال ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک قول کو ایک جماعت نے اختیار کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے منافقین کی ایک جماعت کی مذمت کی ہے کہ وہ سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ہُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لاَ تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنْفَضُّواوَلِلَّہِ خَزَائِنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلٰ۔کِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لاَ یَفْقَہُوْنَ ﴾[المنافقون:7]

صفحہ 3 از 10