مسلمانوں پر ظلم کی حرمت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسلمانوں پر ظلم کی حرمت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 10

اگر مصیبت والد یا دادا کے فعل کی وجہ سے تھی۔تو بیشک حضرت آدم علیہ السلام نے بھی تو وہ درخت کا پھل کھانے سے توبہ کر لی تھی۔ تو اب ان پر کوئی ملامت توبہ کے بعد نہیں کی جاسکتی۔ اور یہ مصیبت مقدر میں لکھی جا چکی تھی۔ تو اس پر حضرت آدم علیہ السلام کو ملامت کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ پس کسی انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ اگر کسی مؤمن کی وجہ سے اسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ اسے تکلیف دے۔ مؤمن یا تو معذور ہے؛ یا پھر مغفور لہ ہے اور اکثر طور پر جو کوئی مصیبت کسی کی وجہ سے آتی ہے؛ بھلے وہ بعض اغراض کے فوت ہونے کی صورت میں ہو؛تو لوگ اس پر لعن و ملامت کرنے میں جلد بازی کرتے ہیں ۔ جیسا کہ بعض روافض کرتے ہیں ۔ روافض کا خیال ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے ظلم کی وجہ سے ان کا حق روکنے میں سبب بنے تھے۔ یہ ان حضرات پر بہت بڑا جھوٹا الزام ہے۔ اور پھر کہتے ہیں : ہم ان کے ظلم کی وجہ سے دوسروں پر ظلم کرتے ہیں ۔ جب کہ یہ دوسرے لوگوں پر عدوان؍ سرکشی ہے۔ بلا شک و شبہ وہ لوگ اہلِ عدل اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کے احکام کی تعمیل کرنے والے تھے۔

پس جس کسی پر مصیبت رسول اللہﷺ کے لائے ہوئے پیغام کی وجہ سے آتی ہے؛ تو درحقیقت یہ اس کے گناہوں کی شامت ہے۔ کسی ایک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ رسول اللہﷺ پر اور آپ کے لائے ہوئے پیغام پر عیب جوئی کرے؛ اس لیے کہ آپ کے لائے پیغام میں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے؛ اور منافقین سے جہاد کرنے کا حکم ہے۔یا پھر اس کا سبب یہ ہے کہ رسول اللہﷺ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو تقدیم بخشا کرتے تھے۔اور پھر آپ کے بعد مسلمانوں نے بھی ایسے ہی کیا۔جیسا کہ بعض روافض کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کی شان میں صرف اس لیے کوتاہی کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کو تقدیم بخشی ہے۔

بعض روافض کے متعلق روایت کیا گیا ہے کہ وہ مسجد نبوی میں کچھ احادیث پڑھ رہے تھے؛جب حضرت ابوبکرؓ کے فضائل پر پہنچے؛ اور یہ فضائل سنے تو اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے:’’

’’دیکھو: تم پر یہ تمام تر مصیبت اس قبر والے کی وجہ سے ہے۔ یہ کہتا ہے:

’’ حضرت ابوبکرؓ کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔‘‘ ’’ اگر میں اہلِ زمین سے کسی کو گہرا دوست بنانے والا ہوتا تو ابوبکرؓ کو بناتا۔ البتہ اسلامی اخوت و مودّت کسی شخص کے ساتھ مختص نہیں ۔ حضرت ابوبکرؓ کے سوا کسی شخص کی کھڑکی مسجد کی جانب کھلی نہ رہے۔‘‘اور اللہ اور اہلِ ایمان ابوبکر کے علاوہ کسی کو بھی ماننے سے انکار کرتے ہیں ۔‘‘[ یہ فضیلت کسی دوسرے کی نہیں ]۔

کسی ایک کے لیے یہ کہنا جائز نہیں کہ قرآن مجید کے عربی زبان میں نازل ہونے کی وجہ سے امت میں اختلاف پیدا ہوا؛ اور آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے لگ گئے۔ اور اس طرح کے دیگر جن میں شر کا سبب رسول اللہﷺ کے لائے ہوئے پیغام کو قرار دیتے ہیں ۔ یہ تمام باتیں باطل ہیں ؛ اور یہ کلام کفار کا کلام ہے۔

کفار کی طرف سے رسولوں کو ملنے والا جواب نقل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿قَالُوْٓا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِکُمْ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَہُوْا لَنَرْجُمَنَّکُمْ وَ لَیَمَسَّنَّکُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌo قَالُوْا طَآئِرُکُمْ مَّعَکُمْ اَئِنْ ذُکِّرْتُمْ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ﴾ [یس 18۔19]

’’انہوں نے کہا بیشک ہم نے تمہیں منحوس پایا ہے، یقیناً اگر تم باز نہ آئے تو ہم ضرور ہی تمہیں سنگسار کر دیں گے اور تمہیں ہماری طرف سے ضرور ہی دردناک عذاب پہنچے گا۔ انھوں نے کہا تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ کیا اگر تمہیں نصیحت کی جائے، بلکہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو ۔‘‘

اللہ تعالیٰ قومِ فرعون کے متعلق فرماتے ہیں :

﴿فَاِذَا جَآئَ تْہُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُوْا لَنَا ھٰذِہٖ وَ اِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰی وَ مَنْ مَّعَہٗ اَلَآ،اِنَّمَا طٰٓئِرُہُمْ عِنْدَ اللّٰہِ ﴾[الاعراف:131]

’’ تو جب ان پر خوش حالی آتی تو کہتے یہ تو ہمارے ہی لیے ہے اور اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھ والوں کے ساتھ نحوست پکڑتے۔ سن لو! ان کی نحوست تو اللہ ہی کے پاس ہے۔‘‘

اور جب جہاد کے احکام کا ذکر کیا تو یہ بھی بتایا کہ بعض لوگ جہاد سے جی چراتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍ وَ اِنْ تُصِبْہُمْ حَسَنَۃٌ یَّقُوْلُوْا ھٰذِہٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَ اِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَّقُوْلُوْا ھٰذِہٖ مِنْ عِنْدِکَ قُلْ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ فَمَالِ ھٰٓؤُلَآئِ الْقَوْمِ لَا یَکَادُوْنَ یَفْقَہُوْنَ حَدِیْثًا oمَآ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ وَ مَآ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ﴾ [النساء:78۔79]

’’ تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں پا لے گی، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔ اور اگر انہیں کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ تیری طرف سے ہے۔ کہہ دے سب اللہ کی طرف سے ہے، پھر ان لوگوں کو کیا ہوا کہ کوئی بات سمجھنے کے قریب بھی نہیں ۔جو کوئی بھلائی تجھے پہنچے سو اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی تجھے پہنچے سو تیرے نفس کی طرف سے ہے ۔‘‘

یہاں پر بھلائی اور برائی[حسنات اور سیئات ] سے نعمتیں اور مصیبتیں ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی مواقع پر انہیں حسنات اور سیئات کا نام دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ بَلَوْنٰہُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ﴾ [الاعراف:168]’’

اور ہم نے اچھے حالات اور برے حالات کے ساتھ ان کی آزمائش کی، تا کہ وہ باز آجائیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِنْ تُصِبْکَ حَسَنَۃٌ تَسُؤْہُمْ وَ اِنْ تُصِبْکَ مُصِیْبَۃٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَآ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ ہُمْ فَرِحُوْنَ o﴾[التوبۃ:50]

صفحہ 2 از 10