مسلمانوں پر ظلم کی حرمت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسلمانوں پر ظلم کی حرمت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 10 از 10

رافضیوں میں زندیق ؛ ملحد اور منافقین شامل ہوگئے تھے جیسے اسماعیلیہ ؛ نصیریہ وغیرہ۔اور ان کے علاوہ وہ لوگ بھی رافضیوں کی صفوں میں شامل ہوگئے تھے جو خوارج کے لشکر میں داخل نہ ہوسکے تھے۔اس لیے کہ خوارج بہت عبادت گزار اور اہل ورع لوگ ہوا کرتے تھے۔یہ بالکل ویسے ہی تھے جیسے نبی کریمﷺ نے ان کے بارے میں خبر[جب لوگ خلیفہ کی رفاقت میں ہلاکو کے یہاں پہنچے تو اس نے سب کو تہ تیغ کرنے کا حکم دیا پھر لشکر نے شہر میں داخل ہو کر قتلِ عام کا بازار گرم کیا۔ مسلسل چالیس دن تک قتل و غارت جاری رہا۔ کہا گیا ہے کہ ہلاکو نے جب مقتولوں کو شمار کرنے کا حکم دیا تو وہ دس لاکھ اسی ہزار نکلے۔ جو مقتول شمار نہ کیے جا سکے ان کی تعداد اس سے کئی گنا زائد تھی۔اللہ کا دشمن ابن علقمی اپنے مقاصد میں ناکام رہا۔ اور شیعہ حکومت قائم کرنے سے متعلق اس کی آرزو بر نہ آئی۔ خیانت پیشہ لوگ ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھا کرتے ہیں ، اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ۔ ہلاکو اسے حقیر سمجھنے لگا اور اس کی حیثیت تاتاریوں میں ایک غلام سے زیادہ نہ تھی بعد ازاں ابن العلقمی یہ مصرعہ گنگنایا کرتا تھا: و جَرَی الْقَضائُ بِعَکْسِ مَا اَقَلْتُہٗ(تدبیر کند بندہ تقدیر کندخندہ) پھر افسردگی کی حالت میں جہنم واصل ہوا۔ شیعہ مورخ بڑے فخر یہ انداز میں اس عظیم حادثہ کا ذکر کرتا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شیعہ مسلمانوں کے مقابلہ میں کفار کا ساتھ دینے کے خوگر ہیں اور مسلمانوں کو بغض و عناد کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، جیسا کہ شیخ الاسلام ابنِ تیمیہؒ نے فرمایا ہے۔‘‘


صفحہ 10 از 10