شیعوں کے دانشوروں کو دعوت اصلاح - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعوں کے دانشوروں کو دعوت اصلاح

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 7 از 7

2)۔ اللہ تعالیٰ نے امانتیں ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور بنو شیبہ کو کعبہ کی کنجی دیتے ہوئے فرمایا تھا اسے ہمیشہ کے لیے لے لو تم سے ظالم ہی چھینے گا۔ تو سوال یہ ہے کہ سیدنا علیؓ کی خلافت کا معاملہ اس سے بھی اہم ہے۔ لیکن نبیﷺ نے سیدنا علیؓ سے یہ نہیں فرمایا تم سے خلافت ظالم ہی چھینے گا۔

3)۔ سیدنا علیؓ کے پاس قرآنِ پاک کا نسخہ تھا جو نزولی ترتیب پر تھا اگر تھا تو سیدنا علیؓ کی خلافت کے بعد اسے نمایاں کیوں نہیں کیا گیا؟۔

(52)۔ مرتدوں کے خلاف سیدنا علیؓ نے سیدنا ابو بکرؓ کے ساتھ مل کر جنگ کی تھی، جس سے لونڈی حاصل ہوئی، اس سے بچہ پیدا ہوا کہ اسکا نام محمد بن حنفیہ رکھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا ابو بکرؓ کی خلافت کو صیح تسلیم کیا تھا اگر ان کی خلافت شرعی نہ ہوتی تو اس میں شریک نہ ہوتے۔

2)۔ اپنے غائب امام کے متعلق کہتے ہیں اس پر فرشتے اترتے تھے جب اس پر فرشتے اترتے تھے اور اس کے معاون تھے تو پھر غار میں چھپنے کا کیا جواز ہے؟۔

3)۔ اور یہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے مہدی منتظر کی عمر سینکڑوں برس کی طوالت پیدا کر دی ہے سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو سید الخلق حضرت محمدﷺ کی عمر درازی ہوتی؟۔

4)۔ سیدنا عمرؓ نے اپنے بعد خلافت کے انتخاب کے لیے چھ افراد کا انتخاب کیا تھا۔ تو سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ نے جائزہ لے کر سیدنا عثمانؓ کا انتخاب کیا اگر خلافت کی وصیت تھی تو سیدنا عمرؓ کی وفات کے بعد سیدنا علیؓ کہہ سکتے تھے کہ خلافت کی وصیت میرے لیے رسولِ اکرمﷺ نے کی ہے۔ اب کونسا خوف تھا؟۔

اختتامی بات:

جو میسر آسکا ہے ہم نے اعتراضات و سوال کا تذکرہ کیا ہے اور ہم شیعہ دانشوروں سے التماس کناں ہیں وہ ان سوالات پر غور کریں شاید راہِ حق کی جستجو میں اور اس پر گامزن ہونے کی توفیق مل جائے۔

یہی وہ راہِ راست ہے جس پر رسولِ اکرمﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہلِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین پاکیزہ طینت اور مطہرین چلتے رہے ہیں۔

اے اللہ! جب ہم اس دار فانی سے دار جاودانی کی جانب سدھار رہے ہوں تو عظیم و مبارک کلمہ نصیب فرما۔ 

لحد میں اتریں تو قبر جنت کا باغیچہ بن جائے اور روز قیامت ہمارا حشر حبیب کبریاءﷺ کے لوائے حمد کے نیچے ہو۔

وصلی اللہ علی محمد وسلم۔


صفحہ 7 از 7