شیعوں کے دانشوروں کو دعوت اصلاح - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعوں کے دانشوروں کو دعوت اصلاح

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 6 از 7

(42)۔ رسولِ اکرمﷺ سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا عمرؓ کے درمیان دفن ہیں جو شیعوں کے نزدیک کافر ہیں سوال یہ ہے کہ اتنی بلند ہستی اشرف الخلق اور خاک نے جن قدموں کو چوما ہے ان میں سے سب سے زیادہ بہتر ہستی کو ان کے پڑوس سے کیوں محفوظ نہ رکھا گیا۔ اللہ نے بھی اپنے حبیب اور خلیلﷺ کو ان سے نہ بچایا۔ اور سیدنا علیؓ شیرِ خدا نے اس خطر ناک بات کا تدارک نہ کیا۔ نہ ہی دفاع کیا کہ ان کے ساتھ دفن کر دیا جنہوں نے دین بدل دیا قرآن تبدیل کر دیا۔ اور رسولِ اکرمﷺ کے بعد مرتد ہو گئے سیدنا علیؓ اس پر کیسے خاموش رہے؟۔

(43)۔ ایک بات شیعہ یہ گھڑتے ہیں کہ قرآنِ پاک میں سیدنا علیؓ کی امامت پر نص موجود تھی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے چھپا دی۔ یہ بات غلط ہے کیونکہ انہوں نے وہ احادیث بھی پوری ایمانداری سے بیان کر دی ہیں جو سیدنا علیؓ کے حق میں ہیں۔ اگر چھپانا ہوتیں تو وہ چھپاتے مسلم میں آتا ہے (4418) رسوِل اکرمﷺ نے فرمایا: 

انت منى بمنزلة هارون من موسىٰ۔

کہ اے سیدنا علیؓ اللہ تمہارا وہی مرتبہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کوہِ طور پر جانے کے بعد حضرت ہارون علیہ السلام کا تھا۔ 

جب احادیث نہیں چھپائیں تو قرآنِ پاک کی امامت والی آیت کیونکر چھپاتے؟۔

(44)۔ یہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ نے خبیث چالوں کے ساتھ سیدنا علیؓ کو امامت سے تنہا کر دیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ مفادات کیا تھے۔ اگر یہ دنیا چاہتے یا غلبہ چاہتے تو یہ اپنے بیٹوں کو خلافت پر بٹھاتے جیسا کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا حسنؓ کو خلیفہ بنایا تھا۔ جب کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا ان پر الزامات کے جوابات دیں۔

(45)۔ شیعہ سیدنا علیؓ سے بیان کرتے ہیں: سیدنا علیؓ غمزدہ تھے فرمایا:

"جب حدود کو معطل کر دیا جائے گا تم کیا کرو گے اور مال کو گردش میں لایا جائے گا اور اللہ کے دوستوں سے دشمنی کی جائے گی اور اللہ کے دشمنوں سے دوستی نبھائی جائے گی۔"

انہوں نے کہا: اے امیر المومنین! اگر وہ وقت آجائے تو ہم کیا کریں؟ فرمایا:

كونوا كاصحاب عيسىٰ علیہ السلام نشروا بالمناشير وصلبوا على الخشب موت فی طاعة الله عزوجل خیر من حیاۃ فی معصیة الله۔

"تم حضرت عیسیٰﷺ کے ساتھیوں کی مانند ہو جانا۔ انہیں آرے سے چیرا گیا اور لکڑیوں پر سولی دی گئی۔ نیکی پر قائم رہنا اللہ کی اطاعت میں موت آنا اس کی نافرمانی میں موت آنے سے بہتر ہے۔" (نہج السعادة جلد 2 صفحہ 639)۔

سوال یہ ہے اس وضاحت کے بعد تقیہ جو شیعہ مذہب کا اہم رکن ہے وہ کہاں گیا؟۔

(46)۔ یہ کہتے ہیں سیدنا ابوبکرؓ منافق تھے اپنے دنیاوی مفاد کی خاطر آپﷺ کے ساتھ ہجرت پر گئے تھے۔ سوال یہ ہے۔ یہ تو مکہ کے کافروں کے ساتھ رہ کر زیادہ حاصل ہو سکتے تھے کیونکہ مکہ پر ان کا راج تھا، عزت غلبہ تھا۔ اور دنیا کا مفاد کیا لینا تھا کہ پیغمبرﷺ تو چھپ کر خوف کے سائے میں ساڑھے چار سو کلو میٹر کا سفر طے کر رہے ہیں۔

(47)۔ شیعہ سے ایک سوال ہے کہ اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مرتد ہو گئے تھے تو پھر مسیلمہ کذاب اسود عنسی اور سجاح نامی خاتون جو مرتد تھے اور نبوت کا اعلان کیا تھا۔ یہ ان کا ساتھ دیتے مگر معاملہ الٹ ہے انہوں نے ان مرتدوں کے خلاف کمر بستہ ہو کر جنگ آزمائی کی اور انہیں ختم کیا مرتدوں کو دین کی طرف واپس لائے۔

(48)۔ سیدنا علیؓ نے جس سے لڑائی کی ہے اسے بھی کافر نہیں کہا۔ مثلاً خارجیوں سے لڑے تو ساتھیوں نے کہا: یہ کافر ہیں، فرمایا: نہیں! انہوں نے کہا: یہ منافق ہیں؟ فرمایا: نہیں! انہوں نے کہا پھر ہم کیوں لڑتے ہیں؟ فرمایا: ہمارے بھائی ہیں، باغی ہوچکے ہیں۔ اس کے برعکس شیعہ بہترین لوگوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔جواب درکار ہے۔

(49)۔ شیعہ کہتے ہیں: سیدنا عمرؓ سیدنا علیؓ سے مشورہ لیتے تھے سنی بھی اس سے متفق ہیں۔ (نہج البلاغہ: صفحہ 325، تحقیق صحبی سالم) اگر سیدنا عمرؓ ظالم ہوتے تو سیدنا علیؓ کو مشیر کیوں بناتے؟ ظالم تو مشورہ پسند ہی نہیں کرتا۔ شیعہ یہ بھی کہتے ہیں اور سنی بھی متفق ہیں کہ سیدنا سلمان فارسیؓ، سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے زمانہ میں مدائن کے امیر تھے اور سیدنا عمار بن یاسرؓ کوفہ کے امیر تھے۔ یہ دونوں سیدنا علیؓ کے معاونین میں سے تھے کیا اگر سیدنا عمرؓ ظالم تھے تو اسکے ماتحت یہ عہدے قبول کرنا جائز ہے؟ قرآنِ پاک میں ہے وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ

"ظالموں کی طرف مائل نہ ہو جاؤ تمہیں آگ جلائے گی۔"

(50)۔ ایک شیعہ سے پوچھا گیا ہمیں رسولِ اکرمﷺ نے صالح بیوی کی تلقین فرمائی ہے کیا آپﷺ نے اپنے لیے صالح بیوی کا انتخاب نہ کیا تھا؟ اور یہ بھی پوچھا تو پسند کرتا ہے ولد الزنا کو اپنا داماد بنائے یا سسر بنائے، اس نے کہا: نہیں! تو اسے بتایا گیا شیعہ تو سیدنا عمر فاروقؓ کو ابنِ زانیہ کہتے ہیں۔ (انوار العمانیہ: جلد 1 صفحہ 63)۔

اور کہتا ہے سیدہ حفصہؓ بھی اپنے خبیث باپ کی مانند خبیث تھیں۔ (نعوذ بالله)

(51)۔ مالک بن اشتر سیدنا علیؓ کا گہرا دوست ہے۔ یہ سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کی مدح سرائی کرتا ہے کہ انہوں نے فرائض سنن اور اپنی ذمہ داریاں بالکل درست طور پر پوری کی ہیں۔ مگر شیعہ اپنی مجالس میں ان کا ذکر نہیں کرتے۔ (مالک بن اشر و خطبه و آراء: صفحہ 89)۔ 

(2)۔ سیدہ فاطمہؓ کی معصومیت کا اظہار کرتے ہو، ان کی دو بہنوں سیدہ رقیہؓ اور سیدہ اُمِ کلثومؓ جو کہ لخت جگر رسولﷺ ہیں انہیں بھول جاتے ہو۔

(3)۔ شیعہ سے پوچھا جائے کہ اگر سیدنا علیؓ کو امامت کی وصیت کی تھی تو سیدنا علیؓ نے مطالبہ کیوں نہ کیا؟ تو یہ کہتے ہیں اس طرح تلوار زنی سے فتنہ ہوتا ہے۔ تو ہم شیعہ علماء سے کہتے ہیں جنگِ جمل صفین میں جو قتل و غارتگری ہوئی تھی وہ کیا تھا؟ یہ خلافت کا معاملہ توان سے اہم تر تھا۔

(4)۔ شیعوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے ائمہ معصوم ہیں۔ مگر سیدنا علیؓ کی مخالفت سیدنا حسنؓ سے ہوئی۔ ظاہر ہے ایک درست ہے، اب تناقض ہے، دونوں معصوم امام ہیں مگر ایک سے غلطی ہو رہی ہے۔

صفحہ 6 از 7