شیعوں کے دانشوروں کو دعوت اصلاح - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعوں کے دانشوروں کو دعوت اصلاح

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 5 از 7

"صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سوائے سات کے سب مرتد ہوگئے تھے اگر یہ بات درست ہے تو پھر اتنی کثیر تعداد میں مرتد ہونے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اتنی تھوڑی سی تعداد والوں کو قتل کیوں نہ کر دیا۔ اور وہ اپنے آباء و اجداد کے دین کی طرف کیوں نہ پلٹے؟۔

(32)۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ سیدنا حسینؓ پر رونا مستحب ہے تو اس کے استحباب کی دلیل دو۔ وہ کہاں ہے؟ جب کہ سیدنا حسینؓ اپنی بہن کو صبر کی وصیت کر رہے ہیں کہ میری شہادت کے بعد گریبان چاک نہ کرنا۔ اگر یہ ہے تو پھر اہلِ بیتؓ کے امام کیوں نہیں روتے اور ماتم کرتے؟۔

(33)۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ سیدنا علیؓ سیدنا حسینؓ سے افضل تھے تو پھر ان کے متقل کو یاد کر کے کیوں نہیں روتے یہ بھی سیدنا حسینؓ کی مانند ہی مظلوم شہید ہوئے تھے۔ نبی اکرمﷺ دونوں سے افضل ہیں آپﷺ کو یہودیوں نے زہر دیا تھا جس کے پھٹنے سے آپﷺ کی وفات ہوئی پھر ان پر بھی رونا چاہیے۔ اور تم اپنے مراکز کا نام حسینی رکھتے ہو اس کے اوپر علویات محمدیات ادھر نسبت کیوں نہیں کرتے حسینی ہی نام رکھتے ہو۔ اور دیگر ائمہ کے نام پر بھی نام رکھو۔

(34)۔ شیعہ کہتے ہیں سیدنا علی بن ابی طالبؓ کی ولایت اور ان کے بعد ان کے بیٹوں کی ولایت رکنِ اسلام ہے ایمان صرف اس کے ساتھ ہی ثابت ہوتا ہے جو اس پر ایمان نہیں رکھتا وہ دوزخی ہے اور کافر ہے اگرچہ اسلام کے دیگر پانچ ارکان تسلیم بھی کرتا ہو۔ اس پر یہ سوال ہے کہ یہ قرآنِ کریم میں کیوں نہیں آیا کیونکہ اس رکن کے بغیر تو کوئی نیکی قبول نہیں اتنا عظیم رکن ہے مگر اس کا ذکر نہیں جب کہ دوسرے سارے ارکان قرآن بیان کرتا ہے اس کا ذکر سوائے شیعوں کے اور کوئی نہیں کرتا۔ اگر اتنا اہم ہے تو قرآن سے دکھاؤ۔

(35)۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن کو تبدیل بھی کیا گیا ہے اور اس کا حصہ حذف بھی کیا گیا ہے اور یہ سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ نے کیا تھا۔ اور ابوجعفر سے اس کی مثالیں بھی بیان کی گئی ہیں۔

واذا هذايك من بنی آدم۔

والی آیت میں اضافہ کیا ہے۔

الست بربكم وان محمدا رسولی وان عليا امير المومنين۔ (اصول کافی جلد 1 صفحہ 412)۔

اور فَالَّذِینَ آمَنُو بِهٖ سے مراد امام لیتے ہیں اور جبت اور طاغوت سے مراد سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ لیتے ہیں۔ (الکافی جلد 1 صفحہ 429)۔

وَمَن٘ یُطِعِ اللّٰهَ وَرَسُولَهٗ سے مراد ولایتِ علی اور ولایت ائمہ لیتے ہیں۔ (اصول کافی جلد 1 صفحہ 414) یہ طعن و تشنیع کرتے ہیں کہ سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا عمرؓ نے کتاب اللہ میں تحریف کی۔ ہمارا یہ سوال ہے کہ اگر ان دونوں نے قرآنِِ پاک میں تحریف کی تھی اللہ کا صحیح دین یہ ہے یہ سب سے بڑا فریضہ تھا جس سے مطلع کرنا ضروری تھا۔

(36)۔ مقاتل الطالبين جلد 2 صفحہ 88۔جلد 2 صفحہ 182) جلاء العیون صفحہ 582 میں ہے کہ سیدنا حسینؓ کے ساتھ کربلاء میں شہید ہونے والے ان کے بھائی ابوبکر بھی تھے ان کا ذکر کیوں نہیں کیا جاتا۔

(37)۔ شیعہ اور سنی کتابوں میں منقول ہے کہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین زندگی میں رسول اللہﷺ سے ایک مرتبہ ہی ملے ہیں۔ تو انہوں نے تو یہ امامت کا مسئلہ سنا نہ تھا کیا ان کا ایمان ناقص ہے یا کامل ہے اگر یہ کہیں ناقص ہے تو نبیﷺ خود ان کا اسلام درست کر دیتے کہ انہیں امامت کا مسئلہ سمجھا دیتے نہیں سمجھایا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امامت کا مسئلہ بنیادی نہیں نہ ہی رکن ہے۔

(38)۔ ہمارا روئے سخن ان ملاؤں اور پگڑ پہن لوگوں کی طرف ہے۔ عوام تو مقلد ہیں شیعہ اس بات کا انکار نہیں کر سکتے کہ جن لوگوں سے اللہ نے درخت کے نیچے بیعت لی ہے ان میں سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ بھی شامل ہیں۔ اللہ فرماتے ہیں:

لَقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا۝۔ (سورۃ الفتح آیت 18) البتہ تحقیق اللہ تعالیٰ ان ایمانداروں سے راضی ہوا جو درخت کے نیچے آپ کی بیعت کر رہے تھے، پس اس نے جو ان کے دلوں میں ہے اسے جان لیا، پس اس نے سکون نازل کیا اور انہیں قریب کی فتح دی۔

جب اللہ تعالیٰ ان تینوں سے راضی ہونے اور ان کے دلوں کے ایمان و توحید سے واقف ہونے اور ان کے صدق و صفا کی وجہ سے ان پر اپنی رضا کا اعلان فرما رہا ہے تو جو انہیں کافر قرار دیتا ہے وہ یہ کہہ رہا ہے اور اللہ کو بتانا چاہتا ہے: اے اللہ انہیں تو نہیں جانتا، ہم جانتے ہیں یہ بے دین ہیں۔ انہوں نے دین کو بدل دیا۔ نعوذبالله

(39)۔ ایک سوال یہ ہے کہ شیعہ کتب میں لکھا ہے کہ سیدنا حسینؓ پیاسے شہید ہوئے تھے اور یہ کہتے ہیں انہوں نے کہا تھا:

شربتم الماء تذكرونی۔

اے میرے شیعو! جب تم پانی نوش کرو تو میری تڑپتی پیاس کے لمحات سامنے رکھا کرو۔ اسی وجہ سے شیعوں نے فریجوں اور پانی کے حوضوں پر لکھا ہوتا ہے۔ 

اشرب الماء وتذكر عطش الحسينؓ۔

پانی پیو اور سیدنا حسینؓ کی پیاس کو یاد رکھنا۔

سوال یہ ہے کہ شیعوں کے عقیدہ کے مطابق ائمہ غیب دان ہیں اگر سیدنا حسینؓ غیب دان تھے تو انہیں علم نہ تھا کہ اثنائے معرکہ پانی کی ضرورت ہے یہ پہلے ہی جمع کر لیتے۔

(40)۔ ایک سوال یہ ہے کہ دین رسولِ اکرمﷺ کے عہد مبارک میں مکمل ہو چکا ہے اور شیعہ مذہب رسولِ اکرمﷺ کی وفات کے بعد نمودار ہوا ہے اس کا حل بتائیں یہ کامل کیسے ہوا۔ 

(41)۔ سیدنا علیؓ اور آپ کے بیٹوں کے متعلق شیعوں کا عقیدہ ہے کہ یہ زندگی اور موت کے بعد بھی نفع رساں ہیں۔ اور معجزات سرزد کر رہے ہیں۔ ہمارا سوال ہے کہ ان کی اپنی زندگی کی صورتِ حال یہ ہے کہ سیدنا علیؓ کی خلافت نہ ٹک سکی اور شہید ہوئے۔ اور سیدنا حسنؓ کو سیدنا امیرِ معاویہؓ سے صلح کرنی پڑی۔ سیدنا حسینؓ سخت مجبوری اور بے بسی میں شہید ہو گئے۔ اختیارات ہوتے تو ایسا نہ ہوتا۔ 

صفحہ 5 از 7