شیعوں کے دانشوروں کو دعوت اصلاح - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعوں کے دانشوروں کو دعوت اصلاح

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 4 از 7

خلق الله آدم واقطعه الدنيا قطيعة فما كان لادم فلرسول اللهﷺ وما كان لرسول الله فهو لائمة۔ 

(اصول الكافی جلد1 صفحہ 476)۔

"اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو انہیں زمین میں سے جاگیری دی جو حضرت آدم علیہ السلام کو ملی وہ رسول اللہﷺ کے لیے ہے اور جو رسولِ اکرمﷺ کے لیے وہ معصوم ائمہ کے لیے ہے۔"

پہلے امام سیدنا علیؓ ہیں فدک کی زمین کے مطالبہ کا ان کا حق تھا مگر انہوں نے نہیں کیا۔ سیدہ فاطمہؓ کا تو حق نہ بنتا تھا۔

(21)۔ اہلِ سنت اور شیعہ کا اس پر اتفاق ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالبؓ شجاع ترین انسان تھے کوئی دوسرا ان کے بعد ان کی خاک پا کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اور وہ اللہ کے بارے میں کسی ملامت سے نہ ڈرتے تھے اور یہ شجاعت کا وصف ان کے ساتھ ہمیشہ رہا ہے۔ زندگی سے لے کر شہادت تک ایک لحظہ بھر بھی جدا نہیں ہوا۔ اب شیعہ کا یہ عقیدہ ہے کہ آپ خلیفہ بلا فصل تھے کہ نبی اکرمﷺ نے ان کی خلافت کی وصیت کی تھی۔ سوال یہ ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ خلفاء کے زمانوں میں تو کہہ دیتے کہ مجھ سے خلافت چھینی گئی ہے۔ شجاعت بھی موجود تھی محبّ بھی بڑی تعداد میں موجود تھے اور جانثار بھی تھے۔ ایک دن تو برسر منبر یہ صدا بلند فرماتے کہ خلافت مجھ سے غصب کر لی گئی ہے۔

(22)۔ شیعہ تمام اماموں کو پاکیزہ اور معصوم قرار دیتے ہیں رسولِ اکرمﷺ نے تو اپنی چادر مبارک میں چار افراد کو لیا تھا۔ سیدنا علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کو مگر تم سب ائمہ کی تطہیر کرتے ہو یہ دلیل کہاں ہے؟۔ 

(23)۔ شیعہ سیدنا جعفر صادقؒ سے بیان کرتے ہیں، یہ مذہب جعفریہ کے بانی ہیں، یہ کہتے ہیں:

ولدنی ابوبکرؓ مرتین و کشف الغمه (جلد 2 صفحہ 373)۔

ان کی والدہ فاطمہ بنت قاسم بن ابی بکر تھیں دوسری نسبت نانی کی طرف سے ہو کر سیدنا ابوبکرؓ تک جاتی ہے۔ اسماء بنت عبد الرحمٰن بن ابی بکرؓ تک پہنچتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ بانی مذہب جعفریہ تو فخر و ناز سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی اولاد سے ہونے کا اعلان کرتے ہیں اور انہی سے ان کی خدمت بھی بیان کی گئی ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک دانا آدمی اور معتبر ایک ہی سانس میں تعریف کرے اور ایک ہی سانس میں بد تعریفی کرے، جاہل گنوار ہے تو علیحدہ بات ہے۔ 

(24)۔ شیعہ کا دعویٰ ہے کہ سیدنا عمرؓ سیدنا علیؓ سے بغض رکھتے تھے یہ اپنے حسینی مراکز، مجالس کتابوں اور تقاریر میں بیان کرتے رہتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ سیدنا علیؓ سے شدید بغض رکھتے تھے۔

سوال یہ ہے کہ سیدنا عمرؓ بیت المقدس کی چابیاں قبضہ میں لینے کے لیے جب سفر پر روانہ ہوتے ہیں تو سیدنا علیؓ کو نائب بنا کر جاتے ہیں اگر سیدنا عمرؓ ان سے بغض رکھتے ہوتے یا انہیں اندیشہ ہوتا یہ خلافت پر قابض ہو جائیں گے تو مدینہ جیسے اہم شہر میں انہیں اپنا نائب کیوں مقرر کرتے؟۔

(25)۔ یہ بات بھی باہوش و حواس سماعت فرمائیں، شیعہ کہتے ہیں ہمیں آٹھ اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (وسائل الشیعہ جلد 3 صفحہ 598) اور یہ سجدہ کے وجوب کے قائل ہیں۔ 

اب سوال یہ ہے کہ (8) اعضاء ناک، پیشانی، دو پاؤں دو گھٹنے دو ہاتھ ان پر سجدے کا حکم ہے۔ مگر وہ مٹی صرف سجدہ کی جگہ پر رکھتے ہو اس کی تخصیص کی دلیل کہاں ہے۔

(26)۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے ائمہ ماؤں کے پہلوؤں سے پیدا ہوتے ہیں رحم سے نہیں ہوتے مسعودی لکھتا ہے:

الائمة تحملهم امهاتم فی جنوبهم ويولدون من الفخذ الأيمن۔ (اثبات الوصيه صفحہ 196)۔

کہ ائمہ کو ان کی مائیں پہلوؤں میں اٹھاتی ہیں اور یہ دائیں رانوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ حضرت محمدﷺ سب سے افضل ہیں۔ ائمہ سے بھی افضل ہیں جس نے بھی روئے زمین پر پاؤں رکھا ہے سب سے افضل آپﷺ ہیں اس کے باوجود رحم سے پیدا ہوئے ران سے پیدا نہ ہوئے تھے۔

(27)۔ شیعوں کا دعویٰ ہے کہ سیدنا جعفر صادقؒ نے کہا:

صاحب هذا المرء رجل لا يسميه الاكافر۔ (الانوار النعمانيه)۔

اس کام کا ذمہ دار ایک آدمی ہوگا اس کا نام نہیں بتانا اگر کوئی بتاتا ہے تو وہ کافر ہے انوار نعمانیہ کے 55 صفحہ پر ہی آتا ہے یعنی دو صفحات بعد آتا ہے،

مستحملين ذكرا و اسمه محمد وهو القائم من بعدى۔ (انوار النعمانية جلد 2 صفحہ 53) ۔

"عنقریب تم ایک لڑکا سے حاملہ ہوگی اس کا نام محمد ہے وہ میرے بعد ذمہ دار ہو گا ۔" 

سوال یہ ہے پہلے نام بتانے والے کو کا فر قرار دیا گیا ہے اب بتا دیا گیا ہے یہ تعارض دور کریں۔

(28)۔ ایک یہ سوال بھی وضاحت طلب ہے اگر ایک انسان شیعیت کا مذہب اختیار کرنا چاہتا ہے وہ کسی مذہب پر چلے۔ امامیہ، اسماعیلیہ آغا خانی اسماعیلی مکارمی، بہری نصیریہ فرقہ علوی، زیدیہ، وروزہ وغیرہ بے شمار شیعہ مذہب ہیں وہ کن پر چلے۔ یہ تو ہم مانتے ہیں سب اہلِ بیتؓ کی نسبت میں برابر ہیں سیدنا علیؓ کی امامت بھی مانتے ہیں وہ خلیفہ بلافصل ہیں ان کا اس پر بھی اتفاق ہے، ائمہ کی مدح سرائی بھی کرتے ہیں۔ یہ تو درست ہے ان پر ان کا اتفاق ہے مگر ہمارا سوال یہ ہے کہ کس نے مذہب کو بطورِ عقیدہ اپناںٔیں ان اتفاقی چیزوں کے علاؤہ بھی مسائل کی ضرورت ہے؟۔

(29)۔ شیعہ اپنا عقیدہ امامت ثابت کرتے ہیں اور اس پر یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے چار افراد کو چادر میں لیا تھا سیدہ فاطمہؓ بھی ان میں شامل تھیں۔ اگر چادر والے امامت کے مستحق ہیں تو پھر سیدہ فاطمہؓ بھی ان میں شامل تھیں اگر چادر والے امامت کے مستحق ہیں تو پھر سیدہ فاطمہؓ کو امامت سے دور رکھا جائے یہ کیوں ہوا ہے انہیں ائمہ میں شامل کیوں نہیں کیا گیا۔ 

(30)۔ یہ شیعہ اپنے حسینی مراکز میں رخسار پیٹتے ہیں تو جبکہ نبیﷺ اپنے لختِ جگر ابراہیم کی وفات پر رخسار نہ پیٹے تھے۔ اور نہ ہی سیدہ فاطمہؓ کی وفات پر سیدنا علیؓ نے رخسار پیٹے تھے۔ نہ ہی سر سے خون بہایا تھا۔ اگر جائز ہوتا تو آپ ایسا کرتے۔

(31)۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ زیادہ تر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین منافق تھے کافر اور مرتد تھے اور رسولِ اکرمﷺ کی وفات کے بعد سات باقی رہ گئے تھے دوسرے سب مرتد ہو گئے تھے کلینی کہتا ہے:

ان الصحابة ارتدوا الاسبعة۔

صفحہ 4 از 7