شیعوں کے دانشوروں کو دعوت اصلاح - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعوں کے دانشوروں کو دعوت اصلاح

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 3 از 7

اب سوال یہ ہے کہ شیعہ اپنے حسینی مراکز میں زنجیر زنی کرتے ہیں، طمانچے رسید کرتے ہیں، گریبان چاک کرتے ہیں۔ اب بتائیں ان پٹوانے والے پگڑی والے شیعوں کی بات مان کر یہ واویلا کریں یا قرآن و سنت اہلِ بیتؓ کے ائمہ طاہرین رضوان اللہ علیہم اجمعین ان کی بات مان کر صبر کا مظاہرہ کریں۔ عقلمند شیعہ حضرات غور فرمائیں:

(11)۔ اگر سر پھوڑ کر غمِ حسین کا اظہار کرنا اور اس سے خون بہانا اجر کا کام ہے تو پھر یہ سر سے خون بہانا طمانچہ زنی کرنا، رخسار پیٹنا، نوحہ کرنا، گریبان چاک کرنا باعث اجر ہے تو پھر یہ پگڑیوں والے ملاں اور خصوصاً سیاہ پگڑیوں والے جو خود کو نسلِ حسنؓ سے تصور کرتے ہیں خود کیوں نہیں خون بہاتے بلکہ یہ مسکین جنہیں کچھ پتہ نہیں حق کیا ہے یہ اسے نیکی اور حق سمجھ کر سر اور جسم پیٹ رہے ہیں اور خون بہار ہے ہیں۔

 (12)۔ عبودیت و بندگی صرف اللّٰہ کے لیے ہے انکساری صرف اللہ کے سامنے ہے عبودیت و بندگی کے سارے مراتب صرف اللّٰہ وحدہ لاشریک کے لیے ہیں۔ اللّٰہ کا حکم ہے

بَلِ اللّٰه فَاعۡبُدۡ الخ۔ (سورة الزمر آیت 66)۔

"اللّٰہ کی عبادت کرو۔"

اس کے باوجود شیعہ عبدالحسین، عبد علی، عبدالزهراء، عبدالامام وغیرہ نام رکھتے ہیں یہ عبودیت و بندگی کے خلاف ہے اگر یہ نام اچھے ہوتے تو پھر ائمہ اپنے اور اپنے بچوں کے یہ نام رکھتے۔ بلکہ ان کے نام حسن، حسین کاظم سجاد وغیرہ ہیں اگر کوئی یہ کہے کہ عبدالحسن سے مراد خادم لیتے ہیں تو یہ ایک فریب ہے ان بزرگوں کی شہادت کے بعد تم کیا خدمت کر رہے ہو خدمت تو یہ ہے کھانا دیا، وضو کروا دیا تم بتاؤ کیا کرتے ہو؟ یہ پگڑی والے تو اپنی خدمت کرواتے ہیں یہ ائمہ کے لیے کیا کرتے ہیں؟۔

(13)۔ سیدنا علی بن ابی طالبؓ جب خلافت پر براجمان ہوئے تو انہوں نے پہلے خلفائے راشدینؓ کی مخالفت نہیں کی نہ تو سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کی مخالفت کی نہ

ہی قرآن اور لائے ۔ 

بلکہ برسرِ منبر فرما رہے ہیں:

خير هذه الأمة بعد نبيها ابوبكرؓ و عمرؓ۔

"اس نبی کے بعد اس امت کے سب سے بہترین ساتھی سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ ہیں۔"

نہ ہی متعہ جائز قرار دیا نہ فدک کا مطالبہ کیا نہ ہی "حی علی خیر العمل" کا اذان میں اضافہ برقرار رکھا۔ نہ ہی "الصلاۃ خیر من النوم اذان" سے حذف کیا۔ اگر سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کافر ہوتے سیدنا علیؓ سے اگر خلافت غصب کی ہوتی تو جب خلیفہ ہوئے تھے اس کا اظہار کرتے کیونکہ اس وقت انہیں قوت و حفاظت حاصل تھی جب یہ نہیں کیا تو آئیں مل کر سب کو تسلیم کر لیں۔

(14)۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کافر ہیں۔ اگر یہ بات ہے تو سیدنا حسنؓ نے ان سے صلح کی تھی جو کہ شیعوں کے دوسرے معصوم امام ہیں۔ کیا انہوں نے کافر سے صلح کی تھی تو ان کی معصومیت داغدار ہوئی یا پھر تسلیم کیا جائے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ مسلمان تھے۔ 

(15)۔ ایک فکر انگیز سوال ہے جو کربلاء کی مٹی کی ٹھیکری رکھ کر سجدہ کرتے ہو۔ کیا اس پر رسولِ اکرمﷺ نے سجدہ کیا تھا اگر کہیں کیا تھا تویہ سفید جھوٹ ہے رسولِ اکرمﷺ سے ثابت نہیں اگر یہ کہیں نہ کیا تھا۔ اور یہی درست ہے تو پھر یہ لوگ ہدایت پر زیادہ گامزن تھے یا رسولِ اکرمﷺ زیادہ ہدایت والے تھے۔ جب کہ آپﷺ نے اس مٹی پر سجدہ نہیں کیا بلکہ آپﷺ کی روایات کے بقول کہ جبریل علیہ السلام آپﷺ کے پاس مٹی کی لپ لائے اور یہ وہ مٹی ہے جس میں سیدنا حسینؓ شہید ہوں

گے اور یہ مقدس خون یہاں آمیزاں ہوگا تو رسولِ اکرمﷺ نے اس وقت بھی سجدہ نہ کیا تھا۔

(16)۔ یہ شیعہ کہتے ہیں: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دین سے پھر گئے تھے سوال یہ ہے پھرنا ہوتا ہے سے ایک چیز سے دوسری کی طرف آنا کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پہلے شیعہ تھے کہ آپﷺ کی وفات کے بعد سنی ہو گئے یا کہ وہ پہلے ہی سنی تھے یقیناً وہ پہلے ہی سنی تھے وہ مرتد کیسے ہو گئے وہ تو شیعیت کو جانتے تک نہ تھے پھرنا کیسا ہوا۔

(17)۔ یہ سب جانتے ہیں کہ سیدنا حسنؓ سیدنا علیؓ کے بیٹے تھے اور ان کی اماں محترمہ عفیفه شریفہ سیدہ فاطمہؓ ہیں۔ شیعوں کے نزدیک یہ بھی معصوم ہیں۔ یہی حالت سیدنا حسینؓ کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سیدنا حسنؓ کی اولاد سے امامت منقطع ہو گئی اور سیدنا حسینؓ کی اولاد میں جاری رہی۔ باپ ایک ہے والدہ ایک ہے دونوں سید ہیں، اہلِ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں بلکہ سیدنا حسنؓ کو سیدنا حسینؓ پر ایک برتری ہے کہ یہ بڑے تھے۔ یہ تفریق کی وجہ کیا ہے کہ ایک کی نسل میں امامت منقطع ہو گئی؟ اس کا جواب درکار ہے۔

(18)۔ شیعہ امامتِ کبریٰ سیدنا علی بن ابی طالبؓ کے لیے بلا فصل ثابت کرتے ہیں لیکن یہ بتائیں نبی اکرمﷺ کی حیاتِ مبارک میں آپﷺ کی بیماری کے ایام میں انہوں نے ایک جماعت بھی کرائی ہے۔ جب کہ نماز امامتِ صغریٰ ہے۔ اس کی امامت، امامتِ کبریٰ کی دلیل ہے۔ 

(19)۔ تم کہتے ہو: ہمارے امام محمد بن حسن عسکری جو غار میں چھپ گئے ہیں، وہ ظالموں کے خوف سے چھپے تھے اب تک ظالموں کے خوف سے باہر نہیں آرہے۔ 

ہمارا سوال یہ ہے کہ تمہاری زبردست ظالمانہ اور قاہرانہ حکومتیں رہی ہیں بہائیوں کی حکومت، فاطمیوں اور عبیدیوں اور صفویوں کی حکومتیں تھیں اور اب ایران میں بڑی مسلح حکومت ہے شیعوں کی تعداد لاکھوں میں ہے یہ اس امام کی ہر لحاظ سے مدد کر سکتے ہیں پھر بھی وہ کیوں نہیں نکل رہے۔ ہمیں اس سوال کے جواب کا انتظار ہے۔

(20)۔ شیعوں کے نزدیک عورت دوسری چیزوں کی وارث بن سکتی ہے مگر گھروں اور زمین و جاگیر کی وارث نہیں بن سکتی۔ مسیرہ کہتا ہے میں نے سیدنا ابو عبد اللہؓ سے سوال کیا: مالهن من الميراث قال لهن قيمة الطوب والبناء والحشب والقب فاما الارض والعقار فلا ميراث لهن۔ 

(الكافی جلد7 صفحہ 127 التهذيب جلد 9 صفحہ 254)۔

"عورتوں کی وراثت کیا ہے؟ کہا: انہیں عمارت وغیرہ کی قیمت مل سکتی ہے زمین میں ان کی وراثت نہیں۔"

اس میں سیدہ فاطمہؓ بھی شامل ہیں اب شیعہ سیدنا ابوبکرؓ کو طعن دیتے ہیں کہ فدک کی وراثت انہوں نے روک لی تھی ان کے مذہب کے مطابق انہوں نے درست کیا۔ شیعوں کا عقیدہ ہے ابوجعفرؒ سے نقل کرتے ہیں کہ رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا: 

صفحہ 3 از 7