شیعوں کے دانشوروں کو دعوت اصلاح - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعوں کے دانشوروں کو دعوت اصلاح

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 7

(7)۔ شیعوں کا عقیدہ ہے:

ان الائمة ليلمون متىٰ يموتون وانهم لا يموتون الاباختيار۔ (اصولِ کافی جلد 1 صفحہ 258 بحار الانوار جلد 43 صفحہ 364)۔

"کہ ہمارے ائمہ غیب جانتے ہیں انہیں پتہ ہوتا ہے انہوں نے کب مرنا ہوتا ہے اور ان کی موت ان کے اختیار میں ہے۔"

یہ بھی آتا ہے ان کے امام یا تو قتل کے زہر سے فوت ہوتے ہیں سوال یہ ہے کہ اگر امام معصوم غیب جانتا ہے اور اسے کھانے وغیرہ میں زہر دیا جاتا ہے وہ علم غیب کے ذریعہ اس کھانے سے پرہیز کریں کہ یہ زہر ملا کھاتا ہے اگر پرہیز نہیں کرتے تو یہ خود کشی ہوئی یہ پاکباز ائمہ خود کشی ہرگز نہیں کر سکتے۔ یہ تو امام کی توہین ہے۔

(8)۔ ہم شیعوں کے عقلمندوں کو یہ دعوت دیتے کہ حضرت حسنؓ کے پاس معاون و مددگار بھی تھے لشکر بھی تھا اور حفاظت کا سارا سامان موجود تھا مگر انہوں نے حضرت امیرِ معاویہؓ سے صلح کر لی۔ اس کے مقابلہ میں حضرت حسینؓ کے لیے وقت بھی موزوں نہ تھا ساتھی بھی کم تھے مگر انہوں نے خروج کیا اور مقابلہ آرائی کی، حالانکہ ہر لحاظ سے صلح ان کے لیے بہتر تھی اب سوال یہ ہے کہ اگر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو حق پہ کہا جائے تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی خطا نمایاں ہے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خطا نمایاں ہے تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ حق پر ہے جب کہ شیعہ کہتے ہیں دونوں حق ہیں یہ تناقض ہے درست نہیں، ایک حق ہے ایک غلط ہے اس کا حل درکار ہے۔

(9)۔ کلینی نے دارالکانی جلد 1 صفحہ 239 میں باسند بیان کیا ہے کہ ابوبصیر کہتا ہے میں ابو عبداللہ سیدنا جعفر صادقؒ کے پاس گیا میں نے عرض کی میں آپ پر قربان جاؤں۔ ایک مسئلہ دریافت کرتا ہے کوئی یہاں میری بات سن تو نہیں رہا۔ ابو عبداللہ نے پردہ اٹھایا اور کہا:

سل عما بدالك۔"جو چاہو سوال کروں۔"

میں نے کہا: میں آپ پر قربان! یہ کہ کر کچھ دیر خاموش رہا پھر میں نے کہا:

وان عندنا لمصحف فاطمة عليها السلام۔

"کہ ہمارے پاس سیدہ فاطمہؓ والا مصحف ہے۔"

ان کو کیا علم ہے سیدہ فاطمہؓ والا مصحف کہ کیا ہے وہ۔

مثل قرأنكم هذا ثلاث مرات والله ما فيه من قرأنكم حرف واحد۔

وہ تمہارے اس قرآن سے تین گنا بڑا ہے اور تمہارے اس قرآن کا اس میں ایک حرف بھی نہیں۔

تو انہوں نے کہا یہ تو بڑی معلوماتی بات ہے۔ اس پر سوال یہ ہے کہ مصحف سے رسولِ اکرمﷺ آشنا تھے۔ اگر تھے تو دوسروں کو کیوں نہ بتایا۔ قرآن کہتا ہے: 

يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ‌ ؕ وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسٰلَـتَهٗ‌ الخ۔ (سورۃ المائده آیت 67)

"اے رسول اللہﷺ جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچاؤ۔"

اور اگر آپ اسے نہ جانتے تھے تو پھر اہلِ بیتؓ کے پاس کہاں سے آگیا۔ (10۔ الکافی)۔

کتاب کے پہلے حصہ میں کلینی نے ان راویوں کے نام درج کیے ہیں جنہوں نے یہ کلینی سے کتاب نقل کی ہے۔ اور انہوں نے شیعہ کی احادیث بیان کی ہیں۔

  1. راوی مفصل بن عمر 
  2. احمد بن عمر حلبی
  3.  عمر بن ابان 
  4. عمر بن أذینہ 
  5. عمر بن عبد العزیز
  6. ابراہیم بن عمر
  7. عمر بن خنظلہ
  8. موسیٰ بن عمر 
  9. عباس بن عمر ۔ یہ سب کافی کتاب کے راوی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر سیدنا عمرؓ آلِ بیت کے دشمن تھے تو یہ عمر نام بار بار کیوں رکھا گیا؟

(10)۔ اللہ کا حکم ہے:

وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيۡنَۙ الَّذِيۡنَ اِذَآ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَالُوۡٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَؕ اُولٰٓئِكَ عَلَيۡهِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَرَحۡمَةٌ‌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُهۡتَدُوۡنَ۝۔ (سورة البقرہ آیت 155۔156۔157)

"اور خوشخبری دو صبر کرنے والوں کو، جب انہیں مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں: بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اس کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ان پر ان کے رب کی طرف سے رحمتیں ہیں اور برکتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں۔"

اور ارشاد باری ہے:

وَالصّٰبِرِيۡنَ فِى الۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيۡنَ الۡبَاۡسِؕ الخ۔ (سورة البقره آیت 177)

"اور صبر کرنے والے ہیں تنگی اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت میں صبر کرتے ہیں۔"

نہج البلاغہ میں سیدنا علیؓ کا قول ہے رسولِ اکرمﷺ کی وفات کے بعد انہوں نے کہا:

لو لا انك نهيت عن الجزع وامرت بالصبر لا نفدنا عليك ماء العون۔

"اگر آپ نے بے صبری سے منع نہ کیا ہوتا تو ہم آنسوؤں کے دریا ختم کر دیتے۔"

مزید فرمایا:

من ضرب يده عند مصيبة على فخذه فقد حبط عمله۔ (مستدرك نسائی الحصال 621 وسائل الشيطان)

دیکھیں امام اولیٰ اپنے شیعوں اور پیروکاروں کو مصائب و مشکلات میں جزع فزع سے روک رہے ہیں۔ سیدنا حسینؓ جو کہ اپنے زمانہ کے تیسرے امام ہیں کربلا میں اپنی بہن سے کہتے ہیں سیدہ زینبؓ کو اپنی شہادت سے پہلے وصیت کرتے ہیں:

يا اختى احلفك بالله عليك ان تحافظی علىٰ هذا الحلف اذا قتلت فلا تشقى علىٰ الجيب ولا تخشى وجهك باظافرك ولا تنادى بالويل والثبور علىٰ شهادتی يحلفها بالله۔ (منتهى الآمال جلد 1 صفحہ 284) 

"اے میری پیاری بہن! میں حلف لے رہا ہوں اس کی نگہداشت کرنا میں شہید ہو جاؤں تو گریبان چاک نہ کرنا چہرہ خراشی نہ کرنا، ہلاکت و تباہی کہہ کر نہ پکارنا۔"

ابوجعفر قمی کہتا ہے: امیر المؤمنین سیدنا علیؓ اپنے ساتھیوں کو وصیت میں فرماتے ہیں:

لا تلبسوا سوادا ، فانه لباس فرعون۔

اور مزید فرماتے ہیں: سیدہ فاطمہؓ کو وصیت کی:

اذا انامت فلا تخشى وجهك ولا ترخى على شعرا ولا تنادى على بالويل ولا تقيمی على نائحة۔

(من لا يحضره الفقيه 232 وسائل الشيعه جلد 2 صفحہ 916 فروع الكافی جلد 5 صفحہ 527)۔

سیاہ لباس نہ پہنو یہ فرعون کا لباس تھا۔ اور سیدہ فاطمہؓ کو خاص طور پر فرمایا: میری وفات کے بعد چہرہ نہ خراشنا، میرے اوپر بال نہ بکھیرنا نہ ہی ہلاکت و تباہی کا واویلا کرنا۔"

شیعہ کا شیخ محمد بن حسین بابویہ قمی جو صدوق کے لقب سے پکارا جاتا ہے وہ لکھتا ہے کہ رسولِ اکرمﷺ کا فرمان ہے:

النياحة من عمل الجاهلية۔

"نوحہ جاہلیت کا عمل ہے۔"

مجلسی نوری دیگر شیعوں کے امام رسولِ اکرمﷺ سے بیان کرتے ہیں:

صوتان ملعونان يبغضهما الله اعوال عند المصيبة وصوت عند النغمة۔

"دو آوازیں ملعون ہیں مصیبت کے وقت چلانا، اور گانے والی آواز ان دونوں سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے۔"

صفحہ 2 از 7