بقول شیعہ آیت اسی طرح اتری لیکن حروف میں رد و بدل کر دیا گیا
علی محمد الصلابیبقول شیعہ عائشہ نے کہا: آیت اسی طرح اتری لیکن حروف میں رد و بدل کر دیا گیا:
عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت کس طرح پڑھتے تھے؟
وَالَّذِيۡنَ يُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوْا ۞ یا وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَآ اٰتَوْا (سورۃ المؤمنون آیت 60)
ترجمہ: اور وہ کہ انھوں نے جو کچھ دیا اس حال میں دیتے ہیں ۔‘‘
انھوں نے کہا: ’’تجھے ان دونوں میں سے کون سی تلاوت پسند ہے؟ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان دونوں میں سے ایک مجھے سب دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کون سی ایک؟ میں نے کہا: وَالَّذِيۡنَ يُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوْا وہ کہنے لگیں: میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اسی طرح پڑھتے تھے اور اسی طرح نازل ہوئی۔ لیکن کتابت میں تحریف کر دی گئی۔
(المسند لاحمد بن حنبل: جلد 4 صفحہ 184)
اس شبہے کا ازالہ:
یہ اثر صحیح نہیں، علماء کی ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے۔ ان میں سے ابن کثیر، ہیثمی (علی بن ابی بکر بن سلیمان ابو الحسن ہیثمی نور الدین حافظ، برائی کا شدت سے انکار کرنے والا، دائمی تہجد گزار، چین میں رہتا تھا۔ 735 ہجری میں پیدا ہوا۔ اس کی حدیث اور تخریج حدیث میں متعدد کتابیں مشہور ہیں۔ جیسے مجمع الزوائد و منبع الفوائد اور الزواجر۔ 807 ہجری میں وفات پائی۔ (طبقات الحفاظ للسیوطی: 545۔ الاعلام للزرکلی: جلد 4 صفحہ 266۔) شوکانی (محمد بن علی بن محمد ابو عبداللہ شوکانی۔ حافظ، علامہ، فقیہ، مجتہد اور یمن کے بڑے بڑے علماء میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ 1173 ہجری میں پیدا ہوئے۔ صنعاء کے قاضی بنے۔ تقلید کو حرام کہتے تھے۔ ان کی تصنیفات میں سے نیل الاوطار من اسرار منتقی الاخبار اور السیل الجرار زیادہ مشہور و متداول ہیں۔ 1250 ہجری میں وفات پائی۔ (البدر الطالع للشوکانی: جلد 2 صفحہ 215۔ الاعلام للزرکلی: جلد 6 صفحہ 298) رحمہ اللہ زیادہ مشہور ہیں۔