ساتواں بہتان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ساتواں بہتان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

یہ قصہ جھوٹ کا پلندہ ہے اور روایت مشہور یہ ہے کہ علی کو اندر آنے سے روکنے والا خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، انس رضی اللہ عنہ تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے نہیں روکا تھا۔ کیونکہ انس رضی اللہ عنہ چاہتے تھے کہ کوئی انصاری آئے (اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ پرندہ کھائے) یہ الفاظ شیعہ کی اپنی روایات میں موجود ہیں۔ اگرچہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے متعلق بھی یہ حدیث صحیح ثابت نہیں۔

چنانچہ خلیلی (خلیل بن عبداللہ بن احمد ابو یعلیٰ قزوینی۔ اپنے وقت کا امام، حافظ اور ثقہ تھا۔ رجال اور حدیث کی علل کا عالم بے مثل تھا۔ بہت بلند شان کا عالم تھا۔ ’’الارشاد فی معرفۃ المحدثین‘‘ اس کی تصنیف ہے۔ 446 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 17 صفحہ 666۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 3 صفحہ 237۔) نے لکھا ہے: 

’’پرندے والی حدیث کسی ثقہ نے روایت نہیں کی۔ اسے اسماعیل بن سلمان بن ازرق اور اس کی طرح ضعیف راویوں نے روایت کیا۔ تمام ائمہ حدیث یہ روایت ردّ کرتے ہیں۔‘‘

(الارشاد للخلیلی: جلد 1 صفحہ 419۔ السلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ للالبانی: حدیث نمبر: 6575)

نیز یہ حدیث شیعہ مذہب کی بھی مخالفت کرتی ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ علی رضی اللہ عنہ تمام مخلوق سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے اور یہ کہ آپ نے اسے اپنے بعد خلیفہ بنایا ہے جبکہ اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے ہاں محبوب ترین شخص کا علم نہیں تھا۔ اگر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا تو پھر آپ کے لیے ممکن تھا کہ آپ اسے بلوا بھیجتے۔ جس طرح آپ اپنے کسی بھی صحابی کو بلوا لیتے یا آپ یوں دعا کرتے: اے اللہ! تو علی کو میرے پاس لا۔ کیونکہ وہ تمام مخلوق میں تیرے نزدیک محبوب ترین ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی دعا مبہم الفاظ کے ساتھ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر آپ علی رضی اللہ عنہ کا نام لے دیتے تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ ناحق امیدوار نہ ہوتے اور نہ ہی علی رضی اللہ عنہ کو دروازے پر روکا جاتا اور اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم نہیں تھا کہ علی رضی اللہ عنہ اللہ کے ہاں محبوب ترین ہیں تو شیعوں کا یہ قول باطل ہو جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم تھا۔

پھر روایت کے الفاظ پر غور کرنا چاہیے: ’’اے اللہ! جو تجھے سب سے زیادہ محبوب ہو اور جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے‘‘ تو کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ سب سے محبوب آپ کے نزدیک کون ہے؟ نیز کتب صحاح میں احادیث تواتر کے ساتھ ثابت ہیں جن کی صحت پر تمام محدثین کا اجماع ہے اور جن احادیث کو قبول عام حاصل ہے وہ اس روایت کی مخالف ہیں۔ تو کس طرح صحیح متواتر احادیث کے مقابلے میں ایک موضوع اور جھوٹ موٹ کا افسانہ پیش کیا جاتا ہے۔ جسے وہ خود بھی صحیح نہیں کہتے۔

(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 7 صفحہ 374)


صفحہ 2 از 2