ساتواں بہتان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ساتواں بہتان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

وہ کہتے ہیں کہ’’جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرے گھر والوں میں سے میرا محبوب ترین شخص آئے اور آ کر میرے ساتھ کھانا کھائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے علی رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ آنے دیا۔ وہ علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ نے فجر کی نماز پڑھائی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو میں بھی اٹھ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کہیں جانے کا ارادہ کرتے تو اس کے بارے میں مجھے بتلا دیتے اور جب آپ مذکورہ جگہ پر دیر لگاتے، میں آپ کا حال معلوم کرنے کے لیے آپ کی طرف چلا جاتا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لمحے کی جدائی سے میرا دل بے سکون ہو جاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا کہ میں عائشہ کے گھر جا رہا ہوں۔ آپ چل پڑے اور میں فاطمہ الزہرا کے گھر کی طرف چلا گیا۔ میں حسن و حسین کے ساتھ تھا میں اور وہ ان دونوں بچوں کے ساتھ نہایت خوشی و سکون محسوس کر رہے تھے۔ پھر میں اٹھا اور عائشہ کے دروازے کی طرف چلا گیا۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو اس نے کہا: کون ہے؟ میں نے کہا کہ میں علی ہوں۔ اس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے ہیں۔

جبکہ عائشہ گھر میں موجود ہو، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں نے واپس آ کر دروازہ کھٹکھٹایا تو اس نے مجھ سے کہا: کون ہے؟ میں نے اسے بتایا کہ میں علی ہوں۔ تو اس نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ضروری کام کر رہے ہیں۔ میں شرماتے ہوئے دروازہ کھٹکھٹانے کی بجائے واپس آ گیا اور مجھے سینہ میں اتنا خلجان ہونے لگا جو میری برداشت سے باہر تھا۔ میں جلد ہی واپس آیا، تو زور زور سے دروازہ بجانے لگا۔

عائشہ نے مجھے کہا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں علی ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اے عائشہ! تو اس کے لیے دروازہ کھول دے۔ چنانچہ اس نے دروازہ کھولا تو میں اندر چلا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو الحسن! تو بیٹھ جا میں اپنا حال تجھے سناؤں۔ یا تو مجھے بتائے گا کہ میرے پاس آنے میں دیر کیوں کی؟ میں نے کہا: اے رسول اللہ! آپ مجھے بتائیں، کیونکہ آپ کی باتیں سب سے اچھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو الحسن! میں بھوک کی شدت کی وجہ سے سخت پریشان تھا۔ چنانچہ میں عائشہ کے پاس آ گیا اور اپنا قیام طویل کر دیا لیکن اس کے پاس کچھ نہ تھا جو میرے پاس لاتی۔ پس میں نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور فوراً سننے والے اور قبول کرنے والے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا۔ مجھ پر میرا محبوب جبریل نازل ہوا، اس کے پاس یہ پرندہ تھا۔ اس نے اپنے آگے پڑے ہوئے اس پرندے پر انگلی رکھی اور فرمایا: بلاشبہ اللہ عزوجل نے میری طرف یہ پرندہ پکڑنے کی وحی کی اور یہ جنت کا سب سے عمدہ کھانا ہے، اے محمد! میں آپ کے پاس یہ لایا ہوں۔ چنانچہ میں نے اللہ عزوجل کی بکثرت حمد بیان کی اور جبریل آسمان کی طرف چلا گیا۔ میں نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے اور کہنے لگا اے اللہ! تو میرے پاس ایک ایسا بندہ لے آ جو تیرے ساتھ اور میرے ساتھ محبت کرتا ہے تاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے۔ میں نے کافی دیر تک انتظار کیا لیکن میں نے کسی کو دروازہ بجاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ میں نے دوبارہ ہاتھ اٹھائے اور کہا اے اللہ! تو مجھے ایک ایسا بندہ مہیا کر دے جو تجھ سے اور مجھ سے محبت کرتا ہے اور تو اور میں اس کے ساتھ محبت کرتے ہیں تاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے۔ تب میں نے دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز سنی اور تیری بلند آواز بھی۔ تو میں نے عائشہ کو کہا: تو علی کو آنے دے، تو تو اندر آ گیا اور میں مسلسل اللہ کی حمد بیان کرنے لگا یہاں تک کہ تو میرے پاس پہنچ گیا۔ گویا تو اللہ اور میرے ساتھ محبت کرتا ہے اور اللہ اور میں تیرے ساتھ محبت کرتے ہیں۔ اے علی تو کھا۔ چنانچہ جب میں نے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پرندے کا گوشت کھایا تو آپ مجھ سے مخاطب ہوئے: اے علی! تو مجھے اپنی آپ بیتی سنا۔ میں نے کہا: اے رسول اللہ! میں جب سے آپ سے جدا ہوا، میں فاطمہ، حسن اور حسین سب بہت ہی مسرور تھے۔ پھر میں آپ کے دیدار کے لیے چلا آیا اور دروازہ کھٹکھٹایا تو عائشہ نے مجھ سے پوچھا: کون دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے؟ میں نے بتایا کہ میں علی ہوں۔ اس نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے ہیں۔ میں واپس چلا گیا۔ میں نے جب کچھ رستہ طے کر لیا تو میں نے سوچا عائشہ گھر میں ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے ہیں یہ ناممکن ہے۔ میں دوبارہ آیا اور دروازہ کھٹکھٹایا، اس نے مجھ سے پوچھا: دروازے پر کون ہے؟ میں نے بتایا کہ میں علی ہوں۔ اس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کام کر رہے ہیں۔ میں شرماتے ہوئے واپس چل پڑا۔ جب میں اس جگہ پر پہنچا جہاں سے پہلے واپس ہوا میرے دل سے صبر جاتا رہا اور میں سوچنے لگا کہ عائشہ گھر پر ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کوئی کام کر رہے ہیں؟ چنانچہ میں واپس آ گیا اور اتنے زور سے دروازہ پیٹا کہ آپ نے بھی سن لیا۔ میں نے آپ کی آواز سن لی جب آپ اسے کہہ رہے تھے کہ علی کو آنے دے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا کہ یہ کام اسی طرح ہو گا۔ اس کی اور کوئی صورت نہیں۔ اے حمیراء! تجھے اس فعل پر کس نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری تمنا تھی کہ کاش! میرے والد محترم آ کر آپ کے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مخاطب ہو کر فرمایا: تیرے اور علی کے درمیان کینے ( الضغن:کینہ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 3 صفحہ 91) لسان العرب لابن منظور: جلد 13 صفحہ 255)۔ کا یہ پہلا مظاہرہ نہیں اور بے شک میں جانتا ہوں علی کے متعلق تیرے دل میں جو کچھ ہے۔‘‘

(الاحتجاج علی اہل اللجاج للطبرسی: جلد 1 صفحہ 197)

اس قصے کا جواب:

صفحہ 1 از 2