پانچواں بہتان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

پانچواں بہتان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

’’احنف بن قیس جب مدینہ آیا تو دیکھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کر لیا گیا ہے۔ چنانچہ اس نے طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی اور ان دونوں سے اس نے پوچھا: تم دونوں مجھے کس کا ساتھ دینے کا مشورہ دیتے ہو اور تم خود بھی اس پر خوش ہو کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ اس خلیفہ (عثمان) کو شہید کر دیا جائے گا؟ ان دونوں نے کہا: تم علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل جاؤ۔ پھر احنف نے کہا: کیا تم دونوں مجھے یہی مشورہ دے رہے ہو اور کیا تم اس پر خوش ہو؟ ان دونوں نے کہا: ہاں ! پھر احنف مدینہ سے روانہ ہو کر مکہ پہنچ گیا۔ جب وہ مکہ پہنچا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر اسے مل گئی۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ملاقات کے لیے ان کی طرف چل دیا: جو ان دنوں

حج کے لیے مکہ آئی ہوئی تھیں۔ اس نے آپ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا : آپ مجھے کس کی بیعت کا حکم دیں گی؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تو علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لے۔ احنف نے کہا: کیا آپ مجھے یہ مشورہ دے کر خوش ہیں؟ انھوں نے فرمایا: ہاں۔ پھر احنف نے کہا: میں سفر حج سے واپسی پر علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں ملا اور ان کی بیعت کر لی۔ پھر میں بصرہ لوٹ آیا اور میری سمجھ کے مطابق معاملہ حل ہو چکا تھا۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 3 صفحہ 34 اور اس کی سند کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے صحیح کہا: (فتح الباری: جلد 13 صفحہ 38۔) 

امام ابن حزم رحمہ اللہ مذکورہ لوگوں کی اپنی خوشی سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کے متعلق لکھتے ہیں:

’’اور طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ ان میں سے کسی نے بھی علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کو نہیں توڑا اور نہ ان پر کوئی عیب لگایا اور نہ ہی انھوں نے علی رضی اللہ عنہ کی کوئی ایسی خطا بیان کی جس سے وہ خلافت سے محروم ہو جاتے اور نہ ہی انھوں نے کسی اور کو امام بنایا اور نہ کسی اور کی امامت کی انھوں نے تجدید کی۔ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ مذکورہ باتوں میں سے کوئی بات کسی کی طرف منسوب کر دے۔‘‘

(الفصل فی الملل و الاہواء و النحل لابن حزم: جلد 4 صفحہ 153)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں مہلب (مہلب بن احمد بن ابی صفرہ ابو القاسم اندلسی مالکی، عالم، فقیہ، محدث اور صاحب معرفہ و ذکاء تھا۔ اندلس میں صحیح بخاری کی ترویج اسی نے کی۔ مریہ نامی علاقے کا قاضی بھی رہا۔ اس کی تصنیفات ’’شرح البخاری‘‘ اور ’’التصحیح فی اختیار الصحیح‘‘ ہیں۔ 435 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد 17 صفحہ 579۔ تاریخ الاسلام للذہبی: جلد 29 صفحہ 422۔) کا قول نقل کیا: 

’’یہ تاریخی حقیقت ہے کہ عائشہ اور جو لوگ اس کے ساتھ تھے ان میں سے کسی نے بھی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلافت میں کبھی اختلاف نہیں کیا اور نہ ان میں سے کسی نے کسی اور کو خلیفہ بنانے کی بات کی۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 13 صفحہ 56)

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے لکھا ہے:

’’البتہ جو جاہل رافضی اور غبی قصہ گو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت کی وصیت کی بات کرتے ہیں تو یہ نرا افتراء، جھوٹا فسانہ اور بہتان ہے۔ اس سے تمام صحابہ کرامؓ پر خیانت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے نفاذ میں کوتاہی لازم آتی ہے اور جس شخص کے لیے وصیت کی گئی تھی اس تک بحفاظت اور بطور امانت نہ پہنچانا اور مطلوبہ شخص کے علاوہ کسی اور کو اس منصب پر فائز کر دینا جس کا کوئی معنیٰ تھا اور نہ کوئی سبب۔ ہر وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو اور اس کا عقیدہ راسخ ہو کہ سچا دین اسلام ہے، وہ اس افتراء کے بطلان کو بخوبی جانتا ہے کیونکہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء و رسل کے بعد تمام مخلوق سے بہترین لوگ ہیں اور ان کا زمانہ اس امت کا بہترین زمانہ تھا جو کہ نص قرآنی اور سلف و خلف کے اجماع کے مطابق تمام امتوں سے دنیا و آخرت میں افضل ہیں اور تمام تعریفات کے لائق و مستحق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 3 صفحہ 34 اور اس کی سند کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے صحیح کہا: (فتح الباری: جلد 13 صفحہ 38۔) 


صفحہ 4 از 4