پانچواں بہتان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

پانچواں بہتان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

بقول مصنّف: کتنی تعجب انگیز بات ہے یہ کون سا تقیہ ہے جو شیعوں کے بقول امیر المؤمنین سے ایسی بات کہلوا رہا ہے جو ان کے نزدیک کفر ہے یعنی ابوبکر اور عمر کی خلافت کے صحیح ہونے کا اصرار و اعلان لیکن یہ اور اس طرح کے دیگر اقوال شیعوں کے اس دعویٰ کے باطل ہونے کی دلیل ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ وصی اور خلیفہ بلافصل ہیں۔ اہل روافض کے نزدیک یہ عقیدہ ان کے دین کا رکن عظیم بلکہ رکن اعظم ہے اور وہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کی بے شمار آیات ان کے اس دعویٰ کی تائید و تاکید میں اتریں کہ علی وصی رسول اللہ اور خلیفہ بلا فصل ہے لیکن اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی آیات کو چھپا لیا۔ اگرچہ وہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں یہ کہا جو رضی نے ’’نہج البلاغۃ‘‘ میں روایت کیا کہ اس نے کسی صحابی رسول کے متعلق کہا: فلاں شخص کی آزمائشوں پر تعجب ہوتا ہے۔ بے شک اس نے کج رووں (الاود: العوج۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 1 صفحہ 79) کو سیدھا کر دیا اور دائمی مریضوں (العمد: پیٹھ پر نکلنے والے پھوڑے کو کہتے ہیں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر: جلد 3 صفحہ 297۔) کا علاج کیا اور سنت کو قائم کیا اور فتنوں کا قلع قمع کیا۔ وہ جب گیا تو اس کا لباس بے داغ تھا اس کے گناہ قلیل تھے۔ اس نے ہمیشہ بھلائی کے کام کیے اور فتنہ و فساد پر ہمیشہ غلبہ پا لیا۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و تقویٰ کا حق ادا کر دیا۔ وہ چلا گیا اور لوگوں کو وادیوں اور گھاٹیوں میں بھٹکتا ہوا چھوڑ گیا۔

ابن ابی الحدید لکھتا ہے: ’’رضا کا ’’فلاں‘‘ کہنا عمر بن خطاب سے شدید بغض کی وجہ سے ہے، وہ ان کا نام نہیں لیتا اور کنایۃً ’’فلاں‘‘ لکھتا ہے۔ لیکن میرے پاس رضا ابو الحسن کے ہاتھ سے لکھا ہوا جامع ’’نہج البلاغۃ‘‘ کا ایک نسخہ موجود ہے جس میں ’’فلاں‘‘ کے نیچے ’’عمر‘‘ لکھا ہوا ہے۔

مجھے یہ بات فخار بن معد موسوی اودی شاعر نے بتائی اور میں نے اس لفظ کے متعلق نقیب ابوجعفر یحییٰ بن ابو زید علی سے پوچھا تو اس نے کہا، وہ عمر ہے۔ تب میں نے تعجب سے کہا: کیا امیر المؤمنین نے اس کی یہ ثنا خوانی کی ہے؟ اس نے کہا: ہاں، ایسا ہی ہے۔

(شرح نہج البلاغۃ لابن ابی الحدید: صفحہ 224)

البتہ رضا کے جان بوجھ کر عمر کا نام نہ لکھنے پر میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ مزید تعجب اس پر ہے جو خوارزمی (موفق بن احمد بن محمد دراصل مکی ہے۔ ابو المؤید کنیت ہے، خوارزم میں خطیب تھا۔ ادیب، فاضل، شاعر اور فقیہ تھا۔ عربی زبان پر اسے مکمل دسترس حاصل تھی۔ تقریباً 481 ہجری میں پیدا ہوا ’’کتاب المناقب‘‘ اس کی تصنیف ہے۔ خوارزم میں 568 ہجری کو فوت ہوا۔ (انباہ الرواۃ للقفطی: جلد 3 صفحہ 332۔ بغیۃ الوعاۃ للسیوطی: جلد 2 صفحہ 308) نے اس مناقب کے ضمن میں ابو شبیر شیبانی سے روایت کی کہ جب عثمان کو شہید کر دیا گیا تو لوگوں نے علی کے بارے میں اختلاف کیا۔ کچھ کہتے تھے: ہم اس کی بیعت کریں گے ان میں طلحہ، زبیر اور مہاجرین و انصار تھے۔ تب اس نے کہا: مجھے امارت میں کوئی دلچسپی نہیں۔ تم جسے چاہو چن لو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ بقول راوی لوگ چالیس دن تک اس کے پاس آتے جاتے رہے حتی کہ لوگوں نے اسے خلیفہ بننے پر مجبور کر دیا۔

(کتاب المناقب للموفق الخوارزمی: صفحہ 178۔)

یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ بذات خود امارت ناپسند کرتے تھے یہاں تک کہ ’’نہج البلاغۃ‘‘ میں رضا کی روایت کے مطابق اس کی بیعت خلافت کی تفصیل لکھتے ہوئے وہ روایت کرتا ہے: تم نے میرا ہاتھ پھیلایا تو میں نے اسے بند کر لیا اور تم نے اسے آگے بڑھایا تو میں نے اسے پیچھے ہٹا لیا۔ پھر تم نے مجھ پر اس طرح اژدہام (تداککتم: یعنی تم نے اژدہام کر لیا۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 128) کر لیا جس طرح پیاسے اونٹ اپنی باری کے وقت اپنے حوضوں کے گرداگرد اژدہام ( وردہا: پانی کے لیے پیاسوں کا حوض پر آنا۔ (لسان العرب لابن منظور: جلد 3 صفحہ 456۔) کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ (اونٹوں کے) نعل ٹوٹ گئے۔ پالان وغیرہ گر گئے اور کمزور روند دیے گئے۔‘‘

(شرح نہج البلاغۃ لابن ابی الحدید: صفحہ 1331)

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ (علی رضی اللہ عنہ ) وصی کیسے ہیں جبکہ وہ شیعہ کی اپنی روایت کے مطابق امامت قبول کرنے سے انکاری ہیں۔ جو درحقیقت علی رضی اللہ عنہ بطور ورع و تقویٰ کے کر رہے تھے۔ اگرچہ تمام مسلمانوں کا اجماع تھا کہ وہ اس وقت سب لوگوں سے بہتر تھے۔

لہٰذا سیدہ عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا پر رافضیوں کی یہ تہمت باطل ٹھہرتی ہے کہ انھوں نے وصیت نامہ چھپا لیا۔ بلکہ یہ روایت ان کی تصدیق و توثیق کرتی ہے۔ جب ان سے کہا گیا کہ علی رضی اللہ عنہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی ہے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے کب وصیت کی؟ جبکہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری لمحات میں آپ کو اپنے سینے کے ساتھ لگایا ہوا تھا یا انھوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری گود میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن منگوایا، آپ کی روح میری گود میں قبض ہوئی لیکن مجھے پتا نہ چلا کہ آپ فوت ہو چکے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (علی رضی اللہ عنہ ) کے لیے کب وصیت کی؟

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی؟ اس نے کہا: نہیں۔ تو میں نے کہا: تو لوگوں پر وصیت کا نفاذ کس طرح فرض ہو گیا یا انھیں کس طرح حکم دیا گیا؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت کی تھی۔‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1634۔)

اہل تشیع کے اس بہتان کی دھجیاں ان کی اپنی روایات سے ہی اڑتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیعت علی کے لیے تائید و حمایت کی اور وہ ان کی خلافت کی کبھی مخالف نہ رہیں۔ اس دعویٰ کے دلائل کے طور پر ہم احنف بن قیس کا واقعہ تحریر کرتے ہیں:

صفحہ 3 از 4