پانچواں بہتان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

پانچواں بہتان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

اسے نقل کرنے سے پہلے مجلسی نے تحریر کیا: یہ حدیث علامہ الحلی نے اپنی کتاب ’’کشف الیقین‘‘ (137) پر ابن الاثیر کی کتاب ’’حجۃ التفاضیل‘‘ سے درج ذیل سند کے ذریعے سے نقل کی، محمد بن حسین واسطی نے ابراہیم بن سعید سے اس نے حسن بن زیاد انماطی سے، اس نے محمد بن عبید انصاری سے، اس نے ابو ہارون عبدی سے، اس نے ربیعہ سعدی سے، اس نے کہا: حذیفہ، عثمان کی طرف سے مدائن کا گورنر تھا۔ اس نے طویل روایت نقل کی۔ 1 ھ۔

ہم اس روایت پر کچھ گفتگو کرتے ہیں۔ اس روایت کے باطل ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس میں ایک راوی ہارون عبدی عمارہ بن جوین ہے، جس کے متعلق امام بخاری نے کہا: یحییٰ بن قطان نے اسے متروک کہا۔ امام احمد نے کہا: یہ بے وزن ہے۔ دوری نے ابن معین کا قول نقل کیا کہ ان کے نزدیک اس کی حدیث کی تصدیق نہیں کی جاتی اور اس کے پاس ایک صحیفہ تھا جس کے بارے میں وہ کہتا: ’’یہ وحی والا صحیفہ ہے۔‘‘ امام نسائی رحمہ اللہ نے کہا: یہ متروک الحدیث ہے اور دوسری جگہ اس نے کہا: یہ ثقہ نہیں اور اس کی حدیث نہ لکھی جائے اور شعیب بن حرب نے شعبہ کا قول نقل کیا: ’’اگر مجھے گرفتار کر کے میری گردن مار دی جائے تو یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں اس (ہارون عبدی) سے حدیث لوں۔‘‘

خالد بن حراش نے حماد بن زید کا قول نقل کیا: ’’یہ کذاب ہے صبح کو کچھ بیان کرتا ہے اور شام کو کچھ اور۔‘‘

جوزجانی نے کہا: یہ کذاب و مفتری ہے اور حاکم ابو احمد نے کہا: یہ متروک ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے کہا: ’’یہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے۔ عقیدہ میں خارجی اور عملی طور پر شیعہ ہے۔‘‘

ابن حبان نے کہا: ’’ابو سعید سے ایسی احادیث بیان کرتا ہے جو اس کی نہیں ہوتیں۔ بطور تعجب و عبرت کے علاوہ اس کی حدیث لکھنا جائز نہیں۔ ابراہیم بن جبیر نے ابن معین کا قول نقل کیا کہ یہ غیر ثقہ اور کذاب تھا۔ ابن علیہ نے کہا: یہ جھوٹ بولتا تھا۔ یہ قول حاکم نے اپنی ’’التاریخ‘‘میں نقل کیا اور شعبہ نے کہا: اگر میں چاہوں تو ابو ہارون ابو سعید سے ہر وہ بات سنا دوں جو اس نے اہل واسط کو رات میں کرتے ہوئے دیکھا تھا۔

اسے ساجی اور ابن عدی نے روایت کیا۔ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے کہا: ’’ائمہ جرح کا اس پر اجماع ہے کہ اس (ہارون عبدی) کی روایت کردہ احادیث ضعیف ہوتی ہیں۔ ‘‘

(تہذیب التہذیب لابن حجر: جلدں7 صفحہ 362۔)

مجموعی طور پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت صحیح ہونے پر اجماع ہے۔ اس میں کبھی کوئی اختلاف نہیں ہوا۔ بلکہ رافضی لوگ ایسی روایات نقل کرتے ہیں جن کا لب لباب یہ ہوتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی امامت کے صحیح ہونے کی یہی دلیل بیان کی کہ میں اسی طریقہ سے خلیفہ بنا ہوں جس طریقہ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تھے جس طرح رضی ’’نہج البلاغۃ‘‘ میں علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو خط معاویہ کی طرف لکھا اس میں یہ جملے بھی تھے کہ میری بیعت انھیں لوگوں نے انہی چیزوں پر کی جنھوں نے ابوبکر، عمر اور عثمان کی بیعت کی تھی۔ لہٰذا یہاں کسی حاضر و موجود شخص کو میری بیعت نہ کرنے کا اختیار نہیں اور نہ ہی کسی غیر حاضر شخص کو بیعت ردّ کرنے کا اختیار ہے۔ کیونکہ شوریٰ مہاجروں اور انصاریوں پر مشتمل ہے۔ اگر وہ کسی آدمی پر اکٹھے ہو جائیں اور اسے امام کہنے لگیں تو اسی میں اللہ کی رضا ہے اور اگر کوئی باغی کسی عیب یا بدعت کا دعویٰ کر کے بغاوت کر دے تو تمام مہاجرین و انصار اسے اس کی بغاوت سے واپس لائیں گے اور اگر وہ انکار کر دے تو اس کا مومنوں کی راہ سے ہٹ جانے کی وجہ سے اس سے قتال کریں گے اور اللہ تعالیٰ اسے اسی طرف پھیر دے گا جس طرف وہ خود پھر گیا۔ 1 ھ

اسی لیے ابن ابی الحدید نے ’’شرح نہج البلاغۃ‘‘ میں اس عبارت کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے۔ اگرچہ وہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب و شتم کرنے میں سب شیعوں سے آگے ہوتا ہے، وہ لکھتا ہے تمھیں علم ہونا چاہیے کہ امام چننے کے طریقے کی وضاحت کے لیے یہ فصل بالکل صراحت کرتی ہے جیسا کہ ہمارے علماء و ائمہ بیان کرتے ہیں، کیونکہ وہ (علی علیہ السلام) اپنی بیعت کے لیے انہی اہل الرائے اور صاحب مشورہ کے اتفاق کو معاویہ کے سامنے دلیل بنا رہا ہے، جنھوں نے ابوبکر کی بیعت کی تھی اور تمام مسلمانوں کی بیعت اجتماعی طور پر کرنے کو دلیل نہیں بنایا چونکہ ابوبکر کی بیعت میں بھی تمام مسلمانوں کی بیعت کا اہتمام نہیں کیا گیا تھا، اس لیے کہ ابتدائے امر میں سعد بن عبادہ اور ان کی اولاد و اقارب نے بیعت نہ کی اس طرح علی علیہ السلام اور بنو ہاشم نے ابوبکر کی بیعت نہ کی تھی اور انھوں نے توقف و تامل کیا۔ تو یہ صحیح چناؤ کی دلیل ہے اور امام منتخب کرنے کا یہی طریقہ ہے۔ چنانچہ علی کی امامت پر یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی بیعت معاویہ اور اہل شام نے کی تھی۔

جہاں تک امامیہ شیعہ کا تعلق ہے وہ علی علیہ السلام کے اس خط کو تقیہ پر محمول کرتے ہیں اور کہتے ہیں اس کے لیے ممکن نہ تھا کہ معاویہ کو اپنے دل کی بات بتاتا اور اسے یہ کہتا کہ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے مسلمانوں کا منصوص خلیفہ بلا فصل بن چکا ہوں۔ اس طرح تو گزشتہ خلفاء ثلاثہ پر طعن و تشنیع کا دروازہ کھل جاتا اور اس کی اپنی بیعت جو اہل مدینہ نے کی تھی وہ فاسد ہو جاتی۔

ابن ابی الحدید کہتا ہے امامیہ کے اس دعویٰ کو اگر کسی دلیل سے مضبوط کیا جاتا تو اسی دعویٰ کو قبول کرنا ضروری تھا۔ لیکن وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں کہ علی علیہ السلام کا یہ خط تقیہ کے طور پر تھا اس کی کوئی دلیل نہیں اگرچہ وہ اپنے اصول کے مطابق ہی کہہ رہے ہوں۔ 1 ھ

(شرح نہج البلاغۃ لابن ابی الحدید: صفحہ 1458)

صفحہ 2 از 4