پانچواں بہتان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

پانچواں بہتان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

روافض کہتے ہیں: ’’عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وصیت کو چھپا لیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طور پر عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا تھا کہ وہ مرنے کے بعد میری وصیت کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کے امام کے طور پر فائز کریں۔‘‘

اہل تشیع نے مجلسی کی روایت کردہ طویل حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان ہونے والی گفتگو منقول ہے۔ اس میں ہے، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) میں تجھے ایک بات بتاتا ہوں تو اسے اچھی طرح محفوظ کر لے۔ تاآنکہ میں اسے لوگوں میں مشہور کرنے کے متعلق تجھے حکم دوں۔ پس اگر تو نے اس کی حفاظت کی تو اللہ تعالیٰ اس دنیا اور آخرت میں تیری بھی حفاظت کرے گا اور اللہ اور اس کے رسول پر سب سے پہلے ایمان لانے والوں کی فضیلت تجھے حاصل ہو گی اور اگر تو نے اسے ضائع کر دیا اور میں تجھے جو بتانے والا ہوں تو نے اس کا اہتمام نہ کیا تو اپنے رب کے ساتھ کفر کرے گی۔ تیرا اجر ضائع ہو جائے گا اور اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ تجھ سے بری ہو جائے گا اور تو خسارہ پانے والوں سے ہو جائے گی اور تیری اس کوتاہی کا کوئی نقصان اللہ اور اس کے رسول کو ہرگز نہیں ہو گا۔ گویا اس وصیت کی حفاظت، اس پر ایمان اور اس کے نفاذ کے اہتمام کا حکم اس میں موجود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ میری عمر پوری ہو چکی ہے اور اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں لوگوں کے لیے علی کو ایک نشانی دوں، اسے ان کا امام اور اسی طرح اپنا جانشین بنا دوں جس طرح مجھ سے پہلے سب انبیاء اپنے جانشین اور اپنے وصی بناتے تھے۔ 

(بحار الانوار للمجلسی: جلد 28 قسم 2، صفحہ 97)

روافض کا دعویٰ ہے کہ ’’عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ وصیت چھپا لی اور ابوبکر کی فضیلت ثابت کرنے والی احادیث وضع کر لیں۔‘‘

اس الزام کا جواب

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت والی احادیث بے شمار ہیں اور امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع واقع ہو چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے افضل ترین فرد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں اور اس جگہ ہم صرف صحیح بخاری کی ایک روایت پر اکتفا کرتے ہیں جو انھوں نے محمد بن حنفیہ (محمد بن علی بن ابی طالب ابو القاسم قریشی، ہاشمی ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخر میں یا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دنوں میں پیدا ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے دیگر افراد کی طرح یہ بھی عالم و فاضل تھا۔ علم و ورع میں بے مثال تھا اور اس کی اکثر روایات سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک متصل السند ہیں۔ یہ بہت بہادر شخص تھا۔ جنگ صفین کے دن اپنے باپ کا جھنڈا اس نے اٹھایا۔ 73 ہجری کے بعد وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 110۔ تہذیب التہذیب لابن حجر رحمہ اللہ، جلد 5 صفحہ 223) (جو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہے) سے روایت کی ہے کہ میں نے اپنے والد گرامی سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل ترین کون ہے؟ انھوں نے کہا، ابوبکر، میں نے کہا: پھر کون؟ انھوں نے کہا، پھر عمر، (بقول راوی) میں ڈر گیا (اگر اب میں نے پوچھا تو وہ کہیں گے عثمان) سو میں نے کہا: پھر آپ ہیں؟ میرے والد نے کہا: میں تو ایک عام مسلمان ہوں۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3771)

اسی طرح عبداللہ بن احمد (عبداللہ بن امام احمد بن حنبل ابو عبدالرحمٰن شیبانی 213 ہجری میں پیدا ہوا۔ اپنے وقت میں محدث بغداد کے لقب سے مشہور تھا۔ امام و حافظ حدیث، رواۃ پر نقد و تعدیل کا عالم حازق تھا۔ اپنے والد گرامی سے لاتعداد احادیث روایت کی ہیں۔ جن میں سے ’’مسند احمد بن حنبل مکمل اور امام احمد ہی کی تصنیف ’’الزہد‘‘ اسی سے مروی ہے اور ان دونوں کتابوں میں عبداللہ بن احمد نے اپنی سنی ہوئی متعدد روایات شامل کی ہیں۔ 290 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 13 صفحہ 516۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 3 صفحہ 95۔) کی وہ حدیث جو اس نے ’’زوائد المسند‘‘ میں روایت کی ہے۔ اس نے حسن بن زید بن حسن بن ابی طالب کی سند سے روایت کی کہ مجھے میرے باپ نے بواسطہ اپنے باپ اس نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا تو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما وہاں آ گئے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! یہ دونوں جنت میں انبیاء و مرسلین کے بعد تمام جوانوں اور پختہ عمر (اسے عبداللہ بن احمد نے مسند: جلد 1 صفحہ 80 حدیث نمبر: 602 پر روایت کیا اور احمد شاکر نے المسند کی تحقیق کرتے ہوئے اس روایت کی اسناد کو صحیح کہا۔ جلد 2، صفحہ 38 اور البانی رحمہ اللہ نے السلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: جلد 2 صفحہ 323 پر اس کی سند کو حسن کہا۔) کے اہل جنت کے سردار ہیں۔

(لسان العرب: جلد 11 صفحہ 600 پر ابن منظور نے لکھا: الصحاح میں ہے کہ الکہل ان مردوں پر بولا جاتا ہے جو تیس برس اپنی عمر کے پورے کر کے آگے بڑھنا شروع ہو جائیں اور ابن الاثیر نے النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر: جلد 4 صفحہ 213 پر لکھا: مردوں میں سے ’’الکہل‘‘ اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اپنی عمر کے تیس برس پورے کر کے چالیسویں سال کی طرف بڑھ رہا ہو۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہاں ’’الکہل‘‘ سے مراد اصحاب حلم و وقار ہیں۔ اللہ تعالیٰ جنت میں اہل جنت کو ایسی حالت میں لے جائے گا کہ وہ پختہ عقل والے اور حلماء تجربہ کار بن کر جائیں گے۔

خلاصۂ بحث یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق شیعوں کا یہ کہنا کہ اس نے اپنے باپ ابوبکر صدیق کی فضیلت والی احادیث وضع کیں۔‘‘تو جس کے پاس معمولی عقل اور ابتدائی دینی معلومات ہوں گی اسے اس روایت کے باطل ہونے میں ذرہ بھر بھی شبہ نہیں ہو گا اور جہاں تک ان کی اس حدیث کا تعلق ہے تو یہ درحقیقت ساقط یعنی عدیم السند ہی نہیں عدیم المتن بھی ہے۔

صفحہ 1 از 4