دوسرا بہتان اور اس کا رد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

دوسرا بہتان اور اس کا رد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 5

’’ایک رات میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا تو میں نے سوچا کہ شاید آپﷺ اپنی کسی دوسری بیوی کے پاس چلے گئے ہوں۔ چنانچہ میں نے آپ کی سن گن لی پھر واپس آئی تو دیکھا کہ آپ حالت رکوع یا سجدے میں ہیں اور یہ دعا کر رہے ہیں: ’’میں تیری حمد کے ساتھ تیری تسبیح کرتا ہوں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔‘‘تو میں نے دل میں کہا: میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان! میں کیا سوچ رہی ہوں؟ یقیناً آپﷺ کا معاملہ الگ ہے۔‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 485)

اسی باب کی وہ روایت بھی ہے جو محمد بن قیس بن مخرمہ بن مطلب (محمد بن قیس بن مخرمہ قریشی مطلبی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ اس نے کم عمری میں پایا۔ (تہذیب التہذیب: جلد 5 صفحہ 263۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 6 صفحہ 255۔ نے روایت کی کہ اس نے ایک دن کہا: کیا میں تمھیں اپنے اور اپنی والدہ کے بارے میں ایک حدیث نہ بتاؤں۔ بقول راوی ہم نے سوچا کہ اس کی مراد اس کی وہ ماں ہے جس نے اسے جنا۔ اس نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا میں تمھیں اپنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایک حدیث نہ سناؤں ؟ ہم نے کہا، کیوں نہیں۔ انھوں نے فرمایا: جب میری وہ رات آئی جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس ہونا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر آئے، اپنی اوپر والی چادر اتار دی، اپنے جوتے اتارے اور اپنے پاؤں کی طرف رکھ دئیے اور اپنا نصف تہہ بند اپنے بستر پر پھیلا دیا اور لیٹ گئے۔ ابھی کچھ دیرہی گزری تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازہ کر لیا کہ میں سو گئی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے اپنی چادر اٹھائی اور آہستگی سے اپنے جوتے پہنے اور دروازہ کھول کر آپﷺ باہر چل پڑے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آہستگی سے بند کر دیا۔ چنانچہ میں نے بھی اپنی چادر لی اور سر ڈھانپ لیا اور اپنا تہہ بند کس لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑی یہاں تک کہ آپ بقیع (مدینہ کے قبرستان) میں آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام شروع کیا اور اسے خوب طویل کر دیا۔ پھر آپ نے تین بار اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے۔ پھر آپﷺ واپس مڑے تو میں بھی مڑ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفتار تیز ہو گئی تو میں نے بھی اپنے چلنے کی رفتار تیز کر لی۔ آپﷺ دوڑ پڑے تو میں بھی دوڑ پڑی۔ آپﷺ اپنے گھر تک پہنچ گئے۔ میں بھی آپﷺ کے ساتھ پہنچ گئی۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھ کر اندر داخل ہو گئی۔ تو جونہی میں بستر پر لیٹی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اندر آ گئے اور فرمایا اے عائشہ! کیا بات ہے سانس پھولا ہوا ہے؟ وہ فرماتی ہیں میں نے کہا: کچھ بھی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا تو تم مجھے بتا دو یا وہ باریک بین خبر رکھنے والی ذات مجھے بتا دے گی۔ وہ کہتی ہیں، میں نے کہا: اے رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! پھر میں نے آپ کو پوری بات بتا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو وہ ہیولا تیرا تھا جو میرے آگے تھا۔ میں نے کہا: جی ہاں ۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے میں زور سے دو ہتھڑ(دونوں ہاتھ) مارے جس سے مجھے خاصی تکلیف ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرا یہ گمان ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تیرے ساتھ زیادتی کریں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لوگ جس قدر بھی چھپا لیں اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔

(اس عبارت کی تفسیر گزر چکی ہے۔)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! ایسے ہی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے دیکھا کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے ہیں اور مجھے بلایا، لیکن تم سے اپنے آپ کو مخفی رکھا۔ میں نے جبریل کی پکار پر لبیک کہا، میں نے بھی اپنے اس فعل کو تم سے مخفی رکھا اور جب تم بستر میں ہوتی ہو تو وہ تمہارے پاس نہیں آتا، لہٰذا میں نے سوچا کہ تم یقیناً سو چکی ہو، تو میں نے تمھیں بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا اور مجھے یہ بھی اندیشہ تھا کہ کہیں تم دہشت زدہ نہ ہو جاؤ۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: بے شک آپ کا رب آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ بقیع میں (مدفون) لوگوں کے پاس جائیں اور ان کے لیے استغفار کریں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں ان کے لیے کس طرح دعا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو:

اَلسَّلَامُ عَلٰی اَہْلِ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُسْلِمِیْنَ، یَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنَّا وَ الْمُسْتَأْخِرِیْنَ وَ اِنَّا اِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَلَاحِقُوْن

(اس روایت کی تخریج گزر چکی ہے)

’’اہل ایمان و اہل اسلام کے گھر والوں پر سلامتی ہو اور اللہ ہم سے پہلے جانے والوں اور بعد میں جانے والوں پر رحم کرے اور بے شک ہم بھی اگر اللہ نے چاہا تو تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔‘‘

اس قسم کی احادیث میں سے وہ حدیث بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مرویات میں سے ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو ہونے کا تذکرہ ہے اور اس حدیث کی وجہ سے شیعہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر طعن و تشنیع کی ہے۔


صفحہ 5 از 5