دوسرا بہتان اور اس کا رد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

دوسرا بہتان اور اس کا رد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 5

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں اعتکاف بیٹھتے تھے اور جب صبح کی نماز پڑھا لیتے تو اپنی اعتکاف والی جگہ پر چلے جاتے۔ بقول راویٔ حدیث: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اعتکاف کرنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اجازت دے دی۔ چنانچہ ان لیے ایک خیمہ لگا دیا گیا۔ جب حفصہ رضی اللہ عنہا کو پتا چلا تو انھوں نے بھی خیمہ لگا دیا اور جب زینب رضی اللہ عنہا نے سنا تو انھوں نے بھی ایک اور خیمہ لگا لیا، جب مذکورہ صبح کی نماز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر واپس پلٹے تو چار خیمے دیکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، یہ کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی بیویوں کے خیموں کے متعلق بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا: انھیں اس فعل پر کس نے آمادہ کیا؟ کیا نیکی کرنا چاہتی ہیں؟ ان خیموں کو اکھاڑ دو۔ میں ان کو دیکھنا نہیں چاہتا۔ تب وہ اکھیڑ دیئے گئے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں اعتکاف نہ کیا حتیٰ کہ شوال کے آخری دہائی میں اعتکاف کیا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 2041۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 1173)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے

’’میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ دیا آپ کو صفیہ کی ایسی ایسی کمزوری (یعنی پستہ قامت) نہیں کھلتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک تو نے ایسا لفظ کہا ہے اگر اسے سمندر کے پانی میں ملایا جائے تو پانی پر اس کی کڑواہٹ غالب آ جائے۔‘‘

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں

’’میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی انسان کے متعلق کچھ کہہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کسی انسان کے متعلق کچھ سننے میں دلچسپی نہیں رکھتا جبکہ مجھ میں ایسی ایسی (خطائیں) ہوں۔‘‘

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے

’’سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہالہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اجازت طلب کرنے کا انداز یاد آ گیا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سرد آہ بھری اور فرمایا: اے اللہ! یہ تو ہالہ ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: مجھے غیرت آ گئی۔ چنانچہ میں نے کہا: آپ قریش کی سرخ باچھوں والی ایک بوڑھی عورت کی یاد میں کیوں گھلے جاتے ہیں زمانہ ہوا وہ فوت ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے آپ کو اس سے اچھی نعمتیں دے دیں۔‘‘

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

اسی طرح کی ایک روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہ الفاظ بھی منقول ہیں:

مَا غِرْتُ عَلَی امْرَأَۃٍ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلَی خَدِیجَۃَ ہَلَکَتْ قَبْلَ أَنْ یَتَزَوَّجَنِی لِمَا کُنْتُ أَسْمَعُہُ یَذْکُرُہَا وَأَمَرَہُ اللّٰہُ أَنْ یُبَشِّرَہَا بِبَیْتٍ مِنْ قَصَبٍ وَإِنْ کَانَ لَیَذْبَحُ الشَّاۃَ فَیُہْدِی فِی خَلَائِلِہَا مِنْہَا مَا یَسَعُہُنَّ۔

ترجمہ: ’’میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی پر اتنی غیرت نہیں کھائی جتنی غیرت میں نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں محسوس کی۔ اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے ساتھ شادی ہونے سے پہلے وہ فوت ہو گئیں ۔ اس لیے کہ میں آپ کو ہر وقت انھیں یاد کرتے ہوئے دیکھتی اور سنتی، اور آپ کا یہ فرمان کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ انھیں جنت میں ان کے لیے موتی کے ایک گھر کی خوشخبری دے دیں اور اگر آپﷺ بکری ذبح کرتے تو ان کی ان سہیلیوں تک گوشت کا تحفہ ضرور بھیجتے جن تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسائی ہوتی۔

چنانچہ میں اکثر اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتی گویا دنیا میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کوئی اور عورت ہے ہی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے:

إِنَّہَا کَانَتْ وَکَانَتْ ، وَکَانَ لِی مِنْہَا وَلَدٌ 

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 3816۔ صحیح مسلم:  حدیث نمبر 2434۔

امام ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں

’’سب سے زیادہ تعجب انگیز بات یہی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک ایسی بوڑھی عورت کی نسبت سے غیرت محسوس ہوتی تھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی سے چند سال پہلے فوت ہو چکی تھیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو متعدد بیویاں دے کر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مشارکت کے ذریعہ اسے غیرت سے بچایا۔ درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کے اس خاص لطف و عنایت کا ادنیٰ نمونہ ہے جو اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کیے۔ تاکہ ان کے حسن معاشرت میں کجی نہ پیدا ہو جائے اور شاید کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی محبت کے ذریعہ ان کی غیرت کے معاملہ کو کم کیا۔ پس اللہ تعالیٰ اس پر اور وہ اللہ تعالیٰ پر راضی رہے۔‘‘ (سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 165)

’’اس میں یہ یہ (خوبیاں ) تھیں اور اس سے میری اولاد ہے۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کیا تو میں نے کہا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو ایک سرخ باچھوں والی قریشی عورت۔

اور دوسری سند کے راوی عفان کے یہ الفاظ ہیں 

ایک بوڑھی قریشی عورت۔ جو زمانہ ہوا فوت ہو چکی کا اچھا بدلہ دے دیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ یکلخت ہیبت ناک ہو گیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا یہ رنگ صرف نزول وحی یا کالی گھٹا کو دیکھتے وقت ہی دیکھتی تھی یہاں تک کہ آپﷺ دیکھ لیتے یہ رحمت کا بادل ہے یا عذاب کا۔‘‘

(المخیلۃ: وہ بادل جس میں بارش برسانے کے آثار ہوں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر، جلد 2 صفحہ 93)

(مسند احمد، حدیث: 25212۔ شعیب ارناؤوط

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

صفحہ 4 از 5