دوسرا بہتان اور اس کا رد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

دوسرا بہتان اور اس کا رد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 5

ابوبکر خلال نے محمد بن علی سے روایت کی کہ اس نے کہا: ہمیں اثرم نے یہ حدیث سنائی، اس نے کہا کہ میں نے ابو عبداللہ سے یہ حدیث سنی اور اسے عقیل کی حدیث جو اس نے زہری سے اور اس نے بواسطہ عروہ اور اس نے بواسطہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا علی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور بواسطہ عقیل زہری سے روایت سنائی کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں خالد رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو ابو عبداللہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا، یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں اور ان روایات سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا مجھے یہ پسند نہیں کہ ایسی احادیث لکھی جائیں۔

(اسے ابوبکر خلال نے ’’السنۃ‘‘ میں روایت کیا۔ جلد 3 صفحہ 505 حدیث نمبر 809)

چونکہ امام احمدؒ نے ان احادیث کو پہچاننے سے انکار کر دیا تو بلاشبہ یہ روایت مکذوب و موضوع ہے۔ دشمنان دین نے عقیل کی طرف ان کی نسبت کی ہے اور یہ عقیل بن خالد ایلی ہے۔ جبکہ یہ روایت (مصنف عبدالرزاق) میں نہیں ہے۔ گویا جس نے یہ جھوٹ نقل کیا اس سے بھول ہو گئی اور عقیل کے بدلے عبدالرزاق لکھ دیا۔

اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی دوسرے عبدالرزاق نے یہ روایت کی ہے تو اس کا جواب امام ذہبیؒ اور ابن حجرؒ کی تحریروں میں مل سکتا ہے۔ جب ان دونوں اماموں نے احمد بن ازہر نیشاپوری کے حالات لکھے تو ذہبی رحمہ اللہ نے لکھا: (ائمہ جرح و تعدیل نے) اس پر کوئی جرح نہ کی سوائے اس روایت کی وجہ سے جو اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں عبدالرزاق بواسطہ معمر نقل کی ہے اور دل گواہی دیتا ہے کہ یہ روایت باطل ہے۔

ابو حامد شرقی اس کی وضاحت میں لکھتے ہیں

’’اس روایت کو باطل کہنے کا سبب یہ ہے کہ معمر رحمہ اللہ کا ایک بھانجا یا بھتیجا رافضی تھا تو اس نے یہ حدیث اس کی کتابوں میں شامل کر دی اور خود معمر رحمہ اللہ کی شخصیت اتنی رعب دار تھی کہ کوئی ان سے پوچھنے پر قادر نہ تھا۔ جب پہلی بار کتاب سے عبدالرزاق نے یہ روایت سنی تو بقول ذہبی؛ عبدالرزاق روایات اور رواۃ کے معاملات کو سمجھتے تھے۔ پس یہ اثر احمد بن ازہر کے علاوہ کوئی بھی بیان کرنے کی جسارت نہ کر سکا۔ انتہٰی‘‘

(میزان الاعتدال للذہبی: جلد 1 صفحہ 82)

علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے مذکورہ باطل روایت نقل کرنے کے بعد کہا:

’’اس کے باطل ہونے کا سبب یہ ہے کہ معمر کا ایک بھتیجا رافضی تھا اور معمر اسے اپنی کتابیں پڑھنے کے لیے دے دیتا تھا۔ تو اس نے یہ حدیث معمر کی کتابوں میں ملا دی۔ جبکہ عبدالرزاق کہ جس کی طرف یہ روایت منسوب کی گئی ہے وہ اہل صدق سے ہے اور اسے اہل تشیع کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، شاید اسے یہاں مشابہ لگ گیا ہو۔ انتہٰی‘‘

(تہذیب التہذیب: جلد 1 صفحہ 11)

درج بالا دونوں اقتباسات سے ہمیں قوی احتمال ملتا ہے کہ جس رافضی کو معمر رحمہ اللہ اپنی کتابیں دے دیتا تھا اسی نے زیر بحث حدیث وضع کی ہے تاکہ اس کے ذریعے سے ہماری امی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عیب جوئی کر سکے۔ پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ زہری رحمہ اللہ جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قدر و منزلت کو بخوبی جانتا ہے وہ اسے بنو ہاشم کے بارے میں عیب جوئی کرنے والی کے طور پر کیسے بیان کر سکتا ہے جو دوسرے مقام پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یوں رقم طراز ہے: اگر تمام عورتوں کے علم کے مقابلے میں ایک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم اکٹھا کیا جائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم ان سب کے علوم سے افضل ہو گا۔

(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 185)

3۔ شیعہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو صدق کے ساتھ متصف کرتی ہیں۔ مجلسی نے ابو نعیم سے روایت کی اس نے اپنی سند کے ساتھ ابو عبداللہ جدلی سے بیان کیا کہ میں عائشہ(رضی اللہ عنہا) کے پاس گیا اور اس سے ایک آیت کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا تو ام سلمہ(رضی اللہ عنہا) کے پاس چلا جا۔ پھر میں ام سلمہ(رضی اللہ عنہا) کے پاس گیا اور اسے عائشہ(رضی اللہ عنہا) کی بات کے بارے میں بتایا تو ام سلمہ نے کہا وہ سچی ہے یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے گھر میں نازل ہوئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی، فاطمہ اور ان دونوں کے دونوں بیٹوں کو کون میرے پاس لائے گا۔۔ طویل حدیث ہے۔

(بحار الانوار للمجلسی: جلد 35 صفحہ 228۔ مرأۃ العقول فی شرح اخبار آل الرسول للمجلسی: جلد 3 صفحہ 240)

جب یہ گواہی ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی ہے جو شیعہ کے نزدیک بھی شاہد عدل ہے بلکہ وہ شیعہ کے نزدیک اہل بیتؓ سے ہے تو اس نے اپنی بہن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عدالت، ثقاہت اور صدق کا فیصلہ کیا ہے اور یہ سب کچھ اس روایت میں ہے جسے روافض نے خود روایت کیا اور اسے وہ حجت مانتے ہیں تو پھر وہ اسماء کی تعدیل و تحکیم سے کیوں رک جاتے ہیں؟

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے صدق کے اس قدر دلائل ہیں کہ ان کا لقب ہی صدیقہ رضی اللہ عنہا پڑ گیا اور وہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کے نزدیک لائق مدح و ثنا ہیں۔ ان کے صدق کے اس سے بڑی دلیل کیا ہو گی کہ انھوں نے ایسی روایات بھی روایت کی ہیں جن میں ان کی اپنی تنقیص کا پہلو نکلتا ہے اور وہ احادیث بھی روایت کی ہیں جن میں حق ان کے مدمقابل کو ملتا ہے۔ ایسی احادیث میں سے حدیث ’’مغافیر‘‘ (گوند پینے والی) روایت بھی ہے جو پہلے بھی گزر چکی ہے اور آئندہ بھی آ رہی ہے۔

انھوں نے یہ روایت بھی کی ہے:

صفحہ 3 از 5