دوسرا بہتان اور اس کا رد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

دوسرا بہتان اور اس کا رد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 5

(یو ٹیوب سے ایک سائیٹ پر عائشہ(رضی اللہ عنہا) کے جہنم میں جانے کے جشن کا ایک ویڈیو کلپ۔ نیز دیکھیں: الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ لعبد القادر عطا صوفی: صفحہ 99، 101) نیز دوسرے رافضیوں سے بھی یہ شبہ منقول ہے۔ 

اس بہتان کا جواب متعدد طریقوں سے دیا جائے گا

1۔ یہ اور اس جیسی تمام روایات من گھڑت اور باطل افسانے ہیں جن کے ذریعے سے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان تراشی کی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ روایت کلی طور پر مردود ہے، اسے حجت نہیں بنایا جا سکتا، اہل سنت کے نزدیک ہی نہیں بلکہ شیعہ بھی اس روایت کو نہیں مانتے۔

جہاں تک اہل سنت کا تعلق ہے تو وہ رافضیوں کی اسناد اور ان کی روایات پر اعتماد نہیں کرتے، کیونکہ رافضیوں کی اکثر اسانید خود ساختہ، من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور اگر وہ حسن اتفاق سے وضع جیسے گھناؤنے عیب سے محفوظ بھی ہوں تو ان کے راوی عموماً کذاب، متروک اور مجہول ہوتے ہیں اہل سنت کا یہ ماحصل شیعوں کی روایات کی اسناد کے متعلق اور روایات شیعہ کے متون عموماً مسلمانوں کے اجماعی تواتر کے مخالف و معارض ہوتے ہیں، سوائے جس کی مخالفت بے وزن و غیر معتبر ہو۔ جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے روایت کی توثیق کی جائے، کیونکہ وہ صرف صحابیہ ہی نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مبارکہ اور تمام اہل ایمان کی ماں بھی ہیں۔

اسی لیے صرف اہل سنت کے نزدیک ہی نہیں بلکہ تمام اہل اسلام کے نزدیک کسی دوسرے آدمی کی تصدیق و توثیق کی محتاج نہیں چونکہ خود اللہ تعالیٰ نے ان کو تزکیہ دے دیا ہے نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی توثیق کر دی ہے اور اس حقیقت دینی کا علم ہونا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔

جہاں تک شیعہ کے معیار کے مطابق اس حدیث کا حکم ہے تو یہ ان کے معیار کے مطابق بھی ضعیف و مردود ہے۔ کیونکہ اس کی سند میں جعفر بن محمد بن عمارہ کندی نامی ایک راوی ہے جو شیعوں کے نزدیک بھی مجہول ہے۔

تو اس جعفر کے بارے میں شیعوں کے جرح و تعدیل کے علماء کہلوانے والے بھی اس پر سکوت کرتے ہیں، نہ کسی نے اس پر جرح کی اور نہ اس کی کوئی تعدیل و توثیق کرتا ہے۔ اسی لیے ہماری صراحت کے مطابق یہ راوی مجہول ہے۔ نیز اس کے بارے میں شیعی عالم علی نمازی شاہرودی نے کہا۔ (علماء جرح و تعدیل نے اس کا تذکرہ نہیں کیا)۔

(مستدرکات علم رجال الحدیث لعلی شاہرودی: صفحہ 290)

2۔ اس روایت میں ’’المرأۃ‘‘ عورت کا نام نہیں لیا گیا، اس لیے یہ بہتان دو پہلوؤں سے مردود ہے۔

الف: روایت میں عائشہ کا نام صراحتاً نہیں، بلکہ ’’امرأۃ‘‘ کا بھی نکرہ کے طور پر ذکر ہے۔ تو جیسا کہ ہم نے پوری روایت پہلے تحریر کی ہے، اس طرح ہے: ’’تین اشخاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولتے تھے۔ ابوہریرہ، انس بن مالک اور ایک عورت۔‘‘ ہم دیکھتے ہیں کہ راوی نے عورت کو مبہم ذکر کیا اور صراحت کے ساتھ اس کا نام نہیں لیا۔

ب: جب عورت سے مراد عائشہ تھی تو پھر اس کے نام کی صراحت کیوں نہ کی گئی، کیونکہ کوئی شیعہ ہمیں کہہ سکے کہ مبہم عورت سے مراد عائشہ ہے۔ چنانچہ مجلسی نے ’’بحار الانوار‘‘ وغیرہ میں یہی لکھا ہے۔

ہم اسے کہتے ہیں: اگر عورت سے مراد عائشہ ہی تھی تو راوی نے صراحت کے ساتھ اس کا نام کیوں نہ لیا۔ تو وہ اس کا جواب نہیں دیتے۔ تب ہم اسے کہتے ہیں، بہتان تراش کو اپنے جھوٹے بہتان پر شک ہونے کی یہی سب سے بڑی دلیل ہے کہ وہ اسے بیان کرنے سے عاجز و لاچار ہو گیا۔ چنانچہ جمہور مسلمانوں کے نزدیک وہ ضعیف ہے۔ اگر اسے یقین ہوتا کہ یہ بات حق ہے تو وہ صراحتاً سب کے نام لیتا۔ اگر رافضی کہیں:

راوی نے تقیہ کرتے ہوئے عائشہ کا نام نہیں لیا۔ جس طرح کہ فضل بن شاذان ازدی (فضل بن شاذان بن خلیل ابو محمد ازدی نیشاپوری علم کلام کا ماہر تھا اور امامیہ شیعہ کا فقیہ شمار ہوتا تھا۔ اس نے تقریباً 180 کتابیں تصنیف کیں۔ ان میں سے ’’الرد علی ابن کرام‘‘ اور ’’الایمان‘‘ ہیں۔ 260 ہجری میں فوت ہوا۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 5 صفحہ 149۔ معجم المؤلفین لعمر رضا کحالۃ: جلد 8 صفحہ 69) نے کہا:

’’میں کہتا ہوں کہ عورت سے مراد ظاہر ہے لیکن راوی نے بطور تقیہ اس کا نام نہیں لیا۔‘‘

(الایضاح للفضل بن شاذان ازدی: صفحہ 541 )

ہم اسے جواب دیتے ہیں: تو نے اچھی بات کہی لیکن ہم یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اس نے عائشہ کا نام لینے سے تقیہ کیوں کیا اور ابوہریرہ اور انس بن مالک کے ناموں میں اس نے تقیہ کیوں نہ کیا؟ ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔ اگر اس کے بعد رافضی معترض خاموش ہو جائے تو ہمیں یقین ہو گا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اللہ قادر و قہار نے بری کر دیا اور اگر وہ رافضی کہے کہ میرے پاس اس کا جواب ہے۔ اس نے ابوہریرہ اور انس بن مالک کے نام صراحتاً لیے لیکن عائشہ کا نام اس لیے مخفی رکھا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین بیوی ہے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہے۔ تو ہم اسے کہیں گے: اللہ سب سے بڑا ہے۔ یہی ہمارا مقصد ہے۔ تمہارے جھوٹ اور اس مظلومہ صدیقہ کی برأت کی یہ سب سے بڑی دلیل ہے اور جو روایت تم عبدالرزاق کی طرف منسوب کر کے نقل کرتے ہو وہ مصنف عبدالرزاق میں تو ہے نہیں اور نہ ہی اہل سنت کے نزدیک کسی معتبر حدیث کی کتاب میں یہ روایت موجود ہے۔

چونکہ یہ قصہ بھی نرا بہتان، جھوٹا فسانہ اور اس قدر منکر ہے کہ اس کی اصلیت پر بحث کرنا بھی ہم فضول سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس شخص کے متعلق ایسی روایت کر سکتی ہیں جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنتی ہونے اور اس کے لیے اللہ کا محبوب ہونے کی گواہی دی ہو۔

صفحہ 2 از 5