دوسرا بہتان اور اس کا رد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

دوسرا بہتان اور اس کا رد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 5

شیعہ کہتے ہیں:’’ بے شک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولتی تھیں۔‘‘

روافض کہتے ہیں کہ ’’ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث قابل قبول نہیں۔ کیونکہ اس کی روایت فاسد ہے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولتی تھی۔‘‘

صدوق نے اپنی سند کے ذریعے جعفر بن محمد سے روایت کی ہے کہ تین شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولتے تھے۔ ابوہریرہ، انس بن مالک اور ایک عورت( رضی اللہ عنہم )

(الخصال للصدوق: صفحہ 190۔ نیز مندرجہ کتب الرافضہ کا مطالعہ بھی کریں۔ الایضاح للفضل بن شاذان ازدی: صفحہ 541۔ بحار الانوار للمجلسی: جلد 2 صفحہ 217)

مذکورہ بالا خبر میں روافض نے جس ’’عورت‘‘ کا تذکرہ کیا ہے اور ان کا یہ دعویٰ کہ یہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولا کرتی تھی۔ اس سے ان کی مراد ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ اس کی تائید ان کی امہات الکتب سے ہوتی ہے۔

مثلاً ’’بحار الانوار‘‘ میں مذکورہ زہر والی جھوٹی خبر کے آخر میں لکھا ہوا ہے۔(اس سے مراد عائشہ) ہے۔

(بحار الانوار للمجلسی: جلد 2 صفحہ 217)

اسی طرح مجلسی نے ایک اور مقام پر لکھا ہے:’’ (و امراۃ) وہ عائشہ ہے۔‘‘

 (المصدر السابق: جلد 31 صفحہ 108)

مصنف ’’بحار الانوار‘‘ نے خود ہی ’’عائشہ‘‘ کا لفظ بریکٹ میں لکھا ہے۔

تستری (عبداللہ بن ضیاء الدین بن محمد شاہ تستری۔ 956 ہجری میں پیدا ہوا۔ فرقہ امامیہ اثنا عشریہ کے علماء میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ہندوستان گیا تو اکبر بادشاہ نے اسے لاہور کا چیف جسٹس بنایا اور شرط یہ لگائی کہ وہ اپنے فیصلے میں مذاہب اربعہ سے باہر نہ نکلے گا۔ جب تک وہ اس شرط کی پابندی کرتا رہا اپنے عہدے پر برقرار رہا اور جب شرط توڑ دی تو کوڑوں سے اسے 1019 ہجری میں قتل کر دیا گیا۔ اس کی تصنیف ’’احقاق الحق‘‘ ہے۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 8 صفحہ 52) نے صحیحین میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک روایت نقل کی اور اس پر یوں تعلیق چڑھائی: میں کہتا ہوں کہ عائشہ کی روایت اپنے باپ کی خلافت والی روایت کی طرح فاسد ہے۔

(احقاق الحق: صفحہ 360)

مجلسی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کسی روایت پر کلام کرتے ہوئے کہتا ہے:

’’اس عورت کے غیر معصوم ہونے پر اتفاق ہے اور اس کی توثیق ہمارے اور مخالفین کے درمیان اختلافی مسئلہ ہے، ہم ضرور اس کی مذمت اور اپنی روایات میں اس پر طعن و تشنیع کریں گے اور مزید یہ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کس قدر جھوٹ بولتی تھی۔ ہماری ذکر کردہ روایات صاحب بصارت و بصیرت کے لیے کافی ہوں گی۔‘‘

(بحار الانوار للمجلسی: جلد 28 صفحہ 60)

شیعہ مصنف کی کتاب ’’وسائل الشیعۃ الی تحصیل مسائل الشریعۃ‘‘ کے مقدمہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مصنف لکھتا ہے کہ اس کا ایک کبیرہ گناہ یہ ہے کہ اس نے صراحت کے ساتھ احادیث وضع کیں۔

زہری نے بواسطہ عروہ بن زبیر روایت کی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے بتایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی۔ اس وقت سیدنا عباس اور علی رضی اللہ عنہما آ رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! بے شک یہ دونوں میری ملت یا میرے دین کے علاوہ پر مریں گے۔

عبدالرزاق ( عبدالرزاق بن ہمام بن نافع، ابوبکر صنعانی اپنے وقت میں یمن کا بہت بڑا حافظ حدیث شمار ہوتا تھا اور بڑا عالم تھا۔ 126 ہجری میں پیدا ہوا۔ ثقہ اور مشہور مصنف تھا۔ تاہم وہ اپنی آخری عمر میں نابینا ہو گیا اور اس کا حافظہ بھی کمزور ہو گیا۔ شیعیت کی طرف میلان رکھتا تھا۔ اس کی تصنیفات ’’المصنّف‘‘ اور ’’التفسیر‘‘ ہیں۔ 211 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 9 صفحہ 564۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 3 صفحہ 444۔)نے اپنی سند کے ساتھ روایت کی کہ زہری کے پاس بواسطہ عروہ علی( رضی اللہ عنہ ) کے بارے میں عائشہ( رضی اللہ عنہا ) سے مروی دو روایات تھیں اور اس کے قول کے مطابق دوسری میں عائشہ(رضی اللہ عنہا) نے اسے بتایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی تو اسی لمحے عباس اور علی(رضی اللہ عنہما) آ رہے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عائشہ! اگر تم ’’جہنمی مرد دیکھنا چاہتی ہو تو ان دو آنے والوں کو دیکھ لو۔ میں نے جونہی دیکھا تو وہ عباس اور علی بن ابی طالب(رضی اللہ عنہما) تھے۔‘‘

مصنف کہتا ہے: ’’یہ قرآن کے معارض ہے کیونکہ قرآن نے اہل بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تطہیر کا اعلان کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد علی(رضی اللہ عنہ) ان سب میں سے پہلا شخص ہے۔‘‘

(وسائل الشیعۃ الی تحصیل مسائل الشریعۃ للمعاملی المقدمۃ: جلد 1 صفحہ 35)

روافض کہتے ہیں: ’’عبدالرزاق نے معمر (معمر بن راشد ابو عروہ بصری 96 ہجری میں پیدا ہوا۔ طلب علوم حدیث کے لیے سب سے پہلے انھوں نے یمن کا سفر کیا۔ اپنے وقت کے امام، حافظ، شیخ الاسلام، ثقہ اور ثبت تھے۔ سچ اور خلوص کے ساتھ علم سے لبالب بھرا مشکیزہ تھے۔ جلالت، ورع اور عمدہ تصنیف میں وہ بے مثال تھے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’الجامع‘‘ ہے۔ 154 ہجری میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 7 صفحہ 5۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 5 صفحہ 500) سے روایت کی ہے کہ زہری کے پاس بواسطہ عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی دو حدیثیں موجود تھیں جو علی علیہ السلام کے بارے میں تھیں۔ تو ایک دن میں نے ان دونوں کے متعلق ان سے استفسار کیا، تو وہ کہنے لگا، تجھے ان دونوں راویوں اور ان دونوں کی حدیثوں سے کیا غرض ہے؟ اللہ تعالیٰ خود ان دونوں اور ان کی روایتوں کے بارے میں خوب جانتا ہے۔ البتہ میرے نزدیک وہ دونوں بنو ہاشم کے متعلق مرویات میں ’’متہم فیہ‘‘ ہیں۔

ہمارے معاصرین میں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذمت کرتے ہوئے ایک ملحد و زندیق کہتا ہے: ’’کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس کی ہزاروں جھوٹی روایات کا تذکرہ کروں کہ جن کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہرت کو بند لگ گیا اور نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس شخصیت پر طعن و تشنیع کا دروازہ کھل گیا۔‘‘

صفحہ 1 از 5