صحیح احادیث کے معنیٰ اپنی خواہشات کے مطابق بدل دینا - دفاعِ…

صحیح احادیث کے معنیٰ اپنی خواہشات کے مطابق بدل دینا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

11۔ تو کیا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو اس دوا کے اجزاء کے متعلق علم تھا یا انھیں معلوم نہیں تھا۔ اگر اہل تشیع ثابت کر دیں کہ عباس رضی اللہ عنہ کو اس کا علم تھا تو بلاشبہ تم ایک بہت بڑا بہتان تراشتے ہو۔ کیونکہ عقل سلیم اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتی کہ عباس رضی اللہ عنہ اس چیز کا علم ہونے کے باوجود خاموش رہے اور وہ اٹھتے بیٹھتے چپ رہے۔ نہ انھیں غصہ آیا نہ انھوں نے قاتلوں سے قصاص لینے کا کبھی تذکرہ کیا۔ اگر یہ کام غیر شرعی تھا تو وہ اپنے بھتیجے کی حمایت میں کیوں نہ اٹھے جو نسبی خون کا طبعی تقاضا ہے۔ یا اہل تشیع عباس رضی اللہ عنہ سے ان کی اصلی عربی غیرت چھیننا چاہتے ہیں جیسا کہ خوئی (ابو القاسم بن علی اکبر بن ہاشم تاج الدین موسوی خوئی۔ 1317 ہجری میں پیدا ہوا ایرانی امامی شیعوں کا مرجع شمار ہوتا ہے۔ نجف کے مرکز علمی کا رئیس تھا۔ ’’المعجم فی تفصیل طبقات الرواۃ‘‘ اور ’’المسائل المنتخبۃ فی بیان احکام الفقہ‘‘ اس کی تصنیفات ہیں۔ 1412 ہجری میں فوت ہوا۔ (سرکاری ویب سائٹ www.ALkhoei-netمؤسسۃ الخوئی الاسلامیۃ۔)) نے لکھا۔

وہ کہتا ہے: ’’کشی نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے تعارف میں اپنی سند کے ذریعے ابو جعفر( علیہ السلام ) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَنۡ كَانَ فِىۡ هٰذِهٖۤ اَعۡمٰى فَهُوَ فِى الۡاٰخِرَةِ اَعۡمٰى وَاَضَلُّ سَبِيۡلًا ۞ (سورۃ الإسراء آیت 72)

ترجمہ: اور جو شخص دنیا میں اندھا بنا رہا، وہ آخرت میں بھی اندھا، بلکہ راستے سے اور زیادہ بھٹکا ہوا رہے۔

اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی اسی کے بارے میں نازل ہوا:

وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِىۡۤ اِنۡ اَرَدْتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ‌ هُوَ رَبُّكُمۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ۞ (سورۃ هود آیت 34)

ترجمہ: اگر میں تمہاری خیر خواہی کرنا چاہوں تو میری خیر خواہی اس صورت میں تمہارے کوئی کام نہیں آسکتی جب اللہ ہی نے (تمہاری ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے) تمہیں گمراہی کرنے کا ارادہ کر لیا ہو۔ وہی تمہارا پروردگار ہے، اور اسی کے پاس تمہیں واپس لے جایا جائے گا۔

اگر اہل روافض کہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے زہر پلانے کے منصوبے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لاعلم تھے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اس بارے میں کوئی وحی نازل کی تو یہ ایسی بات ہے جسے کوئی عقل سلیم کا مالک انسان قبول نہیں کر سکتا۔

چنانچہ تم کہتے ہو کہ جس چیز کا علم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو نہ تھا حالانکہ وہ اس وقت گھر میں موجود تھے اور جس کے متعلق وحی بھی نازل نہیں ہوئی اور تمھیں اس کی پوری پوری خبر ہو گئی۔ تو یہ بہت بڑا اور گھناؤنا بہتان ہے جو انسان کو عقل و ایمان سے ایک ساتھ بیگانہ کرتا ہے۔

13۔ روایت کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس طریقہ سے دوا پلانے سے روکا تو آپﷺ کی بیویاں اسے شرعی نہی کے طور پر نہ سمجھیں بلکہ ان کے مطابق مریض کو جیسے دوا سے نفرت ہوتی ہے ایسے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوا سے نفرت کی وجہ سے یہ کہہ رہے تھے۔ ان کی اس سمجھ کا کوئی منکر نہیں، باوجودیکہ ان کے پاس اس طریقے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوا پلانے کا کوئی عذر نہیں ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں منع بھی کیا۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہے۔ تاہم ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی تشخیص میں غلطی ہوئی اس لیے انھوں نے آپﷺ کو ایسی دوا پلا دی جو آپ کے مرض کے موافق نہ تھی۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں

’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طریقہ علاج سے انکار کیا کیونکہ وہ آپ کے مرض کے موافق نہیں تھا۔ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے یہ سمجھا کہ آپ کو درد قولنج ہے۔ اس لیے انھوں نے آپﷺ کو وہی دوا پلائی جو اس مرض کے موافق تھی۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض میں مبتلا نہ تھے، جیسا کہ خبر کے سیاق سے یہ بات بخوبی سمجھ میں آتی ہے۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 8 صفحہ 147)

انسان کو جس چیز پر تعجب ہوتا ہے وہ رافضیوں کی یہ حرکت ہے کہ انھوں نے فتح خیبر کے موقع پر یہودیوں کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر کھلانے والے واقعہ کو بالکل نہیں چھیڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کے مرض الموت میں اس زہر کے جو اثرات اور درد انگیز اذیتیں ظاہر ہوئیں حتیٰ کہ آپ نے ہم سب کی ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا: اے عائشہ! میں نے جو کھانا خیبر میں کھایا تھا اس کا درد ابھی تک محسوس کر رہا ہوں۔ پس ان لمحات میں اس زہر کے اثرات سے میں اپنے حلق کی رگوں کو کٹتا ہوا محسوس کر رہا ہوں۔

(اس کی تخریج گزر چکی ہے)

پھر رافضی یہ افتراء ام المؤمنینؓ پر باندھتے ہیں گویا انھوں نے دو اقسام کی شرارتوں کو اپنی جھولی میں ڈال لیا۔ اللہ کے اعلانیہ دشمنوں سے دوستی کا اظہار اور ان کے جرم سے انھیں بے گناہ قرار دینا اور اللہ تعالیٰ کے خصوصی دوستوں میں طعن کرنا اور انھیں ایسے افعال میں مطعون کرنا جن سے اللہ تعالیٰ نے انھیں بری کر دیا ہو۔

آخر میں ہم کہتے ہیں: ’’رافضیوں کا بہتان لگانا معمول کا کام ہے کیونکہ ان کے شبہات و شکوک ان کے دعوؤں سے زیادہ ہوتے ہیں جو ان کے جھوٹ اور دھوکا بازی کی واضح دلیل ہیں۔


صفحہ 3 از 3