صحیح احادیث کے معنیٰ اپنی خواہشات کے مطابق بدل دینا - دفاعِ…

صحیح احادیث کے معنیٰ اپنی خواہشات کے مطابق بدل دینا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

قدیم و جدید شیعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عائشہ و حفصہ( رضی اللہ عنہما ) کے ہاتھوں زہر پلانے کی روایت مسلسل بیان و تحریر کرتے ہیں اور پرزور طریقے سے کہتے ہیں کہ ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر پلایا۔ ذیل میں وہ روایت من و عن تحریر کی جاتی ہے جو امام بخاری و مسلم نے صحیحین میں روایت کی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ’’ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی مرض میں منہ کی ایک جانب سے دوا پلائی (اللدود: جب مریض کو منہ کی ایک جانب (دائیں یا بائیں ) سے دوا پلائی جائے اور زبان اور باچھ کے درمیان دوا ڈالی جائے۔ قدیم عربوں میں یہ بات مشہور تھی کہ جسم خصوصاً پیٹ اور سینہ میں جس طرف درد ہو منہ کی اسی طرف سے دوا پلانے سے افاقہ ہوتا ہے۔ (تہذیب اللغۃ للازہری: جلد 14 صفحہ 49۔ الفائق فی غریب الحدیث للزمخشری: جلد 3 صفحہ 85۔ لسان العرب لابن منظور: جلد 3 صفحہ 390۔)  اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اشارے سے ہمیں کہہ رہے تھے: تم مجھے منہ کی ایک جانب سے دوا نہ پلاؤ۔‘‘

راوی کہتا ہے: ہم نے کہا: مریض دوا کو ناپسند کرتا ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ ہوا تو آپ نے فرمایا: کیا میں نے تمھیں منہ کی ایک جانب سے دوائی پلانے سے منع نہیں کیا تھا؟

راوی کہتا ہے: ہم نے کہا: مریض دوا سے نفرت کرتا ہے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے سامنے عباس کے علاوہ تم سب کو اس کے منہ کی ایک جانب سے دوا پلائی جائے، کیونکہ عباس تمہارے ساتھ شامل نہیں ہوئے تھے۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 6897۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 2213)

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’ابتدا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں بیمار ہوئے اور آپﷺ کا مرض اتنا شدید ہو گیا کہ آپﷺ پر غشی طاری ہو گئی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے آپﷺ کے منہ کی ایک جانب سے دوا پلانے کے بارے میں مشورہ کیا۔ چنانچہ سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طریقے سے دوا پلا دی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ ہوا تو فرمایا: یہ کیا طریقہ ہے؟ ہم نے کہا: یہ ان عورتوں کا فعل ہے جو وہاں (سرزمین حبشہ) سے آئی ہیں۔ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی ہجرت حبشہ میں شامل تھیں۔ اے رسول اللہ! وہ کہنے لگیں: ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اندیشہ تھا کہ آپ کو درد قولنج (ذَاتَ الْجَنْبِ: پہلو میں ہونے والا درد۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 1 صفحہ 303۔ لسان العرب لابن منظور: جلد 1 صفحہ 281۔) پڑ گیا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مجھے اس میں مبتلا نہ کرے گا۔

(لِیَقْرُفَنِی: یعنی اللہ تعالیٰ مجھے اس میں مبتلا کرنے کا قصد نہیں کرے گا۔ محدث سندھی کی یہ رائے ہے۔ (تحقیق مسند احمد: 45، 462)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس گھر میں موجود سب لوگوں کو اسی طرح دوا پلائی جائے، سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس کے۔‘‘

بقول راوی: ’’اس دن میمونہ رضی اللہ عنہا اگرچہ روزہ سے تھیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی وجہ سے اسے بھی منہ کی ایک جانب سے دوا پلائی گئی۔‘‘

(مسند احمد: جلد 45 صفحہ 460 حدیث نمبر 27469۔ مصنف عبدالرزاق: جلد 5 ص 428 حدیث نمبر 9754۔ مسند ابن راہویہ: جلد 5 صفحہ 42، حدیث نمبر 2145۔ شرح مشکل الآثار للطحاوی: جلد 5 صفحہ 195، حدیث نمبر 1935۔ صحیح ابن حبان: جلد 14 صفحہ 552، حدیث نمبر 6587۔ المعجم الکبیر للطبرانی: جلد 24 صفحہ 140، حدیث نمبر 372۔ مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 225 حدیث نمبر 7446 ۔ حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شیخان کی شرط پر یہ حدیث صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے فتح الباری: جلد 8 صفحہ 148 پر صحیح کہا اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے السلسلۃ الصحیحۃ: حدیث نمبر: 3339 پر صحیح کہا۔

مذکورہ دونوں نظریوں کی بنیاد پر استوار مذکورہ بہتان کا متعدد طریقوں اور دلائل سے رد کیا جائے گا۔

(اس بہتان کے رد کے لیے مطالعہ کریں: الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افترأ ات الشیعۃ لعبد القادر عطا صوفی: صفحہ 51، 70 اور شیخ عبدالرحمٰن طوخی کا مقالہ بعنوان رد الشبہ و الافتراء ات عن السیدۃ عائشۃ)

دلیل نمبر 1  زہر والا قصہ تاریخی کذب بیانی کی ایک بھونڈی مثال ہے اور یہ ایسا عجیب و غریب افسانہ ہے جو کتب شیعہ میں قدیم سے جدید دور میں ایک تسلسل اور تواتر کے ساتھ موجود ہے۔

چنانچہ شیعہ جب اپنی لغویات اور حفوات کی تائید و توثیق کرنا چاہتے ہیں تو اپنے دعویٰ کو کچھ قرآنی آیات سے مزین کرتے ہیں اور پھر ان آیات کی تفسیر میں اپنے من گھڑت قصے اور خود ساختہ افسانے احادیث کے طور پر لاتے ہیں، جو ان کے نزدیک ان کے بہتانات کی تائید و توثیق کرتے ہیں، حتیٰ کہ نوآموز شیعہ یہ اعتقاد بنا لیتے ہیں کہ اس بہتان کی تاکید و تائید میں مذکورہ آیات قرآنیہ نازل ہوئی ہیں اور یہی مقصد اس بہتان سے حاصل کرنا چاہتے ہیں جو انھوں نے انبیاء مرسلین کے بعد روئے زمین پر سب سے بہترین افراد سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور ان دونوں کی بیٹیوں پر لگایا ہے۔

(الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ: صفحہ 51 معمولی رد و بدل کے ساتھ نقل کیا گیا۔)

انھوں نے یہ من گھڑت کہانی جو سورۂ تحریم کی تفسیر کے ضمن میں تحریر کی ہے کتب شیعہ کے علاوہ ہمیں کسی اور کتاب میں نہیں ملی۔

جبکہ صحیح ترین احادیث کی رو سے حقیقت یہی ہے کہ سورت تحریم کا سبب نزول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے اوپر شہد حرام کر لینا تھا۔ جیسا کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی روایت میں ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس شہد پیتے تھے اور آپﷺ ان کے پاس ٹھہر جاتے تھے، پھر میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے اتفاق کر لیا۔

(فَوَاطَیْتُ: میں نے اتفاق کیا۔ (شرح مسلم للنووی: جلد 10 صفحہ 74۔) 

صفحہ 1 از 3