خلیفہ دوم، سسر نبی، داماد علی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ…

خلیفہ دوم، سسر نبی، داماد علی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

  شیخ عبدالصمد

صفحہ 2 از 2
حضورﷺ نے فرمایا کہ اے عمرؓ جس راستے سے تم آتے ہو شیطان اس راستے سے بھاگ جاتا ہے۔ سیدنا علیؓ کا فرمان ہے کہ ہم محسوس کرتے آئے ہیں کہ شیطان خوف کرتا ہے اس بات سے کہ سیدنا عمرؓ کو غلط کام کا حکم دے۔
عالمِ ارواح، مٹی، دنیا، محشر اور جنت میں سیدنا عمرؓ کا حضورﷺ کے ساتھ:
حضور ﷺ نے فرمایا کہ دنیا میں ان لوگوں کی ملاقات ہوتی ہے۔ جن کی عالمِ ارواح میں ہوئی ہو معلوم ہوا کہ سیدنا عمرؓ کی ملاقات حضورﷺ سے دنیا میں تھی تو عالمِ ارواح میں ساتھ تھے۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ میں اور سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ ایک مٹی سے پیدا ہوئے ہیں۔ اور اسی میں دفن ہونگے۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلے میری قبر کھلے گی۔ پھر ابوبکرؓ اور عمرؓ کی اور محشر کے میدان میں ساتھ ہوں گے اور یقیناً جنت میں بھی ساتھ ہوں گے کیونکہ آپﷺ نے فرمایا کہ جو جس سے محبت کرے گا قیامت میں اس کے ساتھ ہوگا۔
سیدنا عمر فاروقؓ کا زمین پر بولنا اور وحی کا اس کے موافق آسمان سے نازل ہونا:
حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر امت میں ایک محدَّث ہوتا ہے (مطلب جس کی دل پر خدائی الہام ہو) اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہے تو وہ سیدنا عمر فاروقؓ ہے۔ 
حضورﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی قوم میں کچھ ایسے بزرگ تھے، جو خدا سے حجاب میں بات کرتے تھے اگر میری امت میں ایسا کوئی ہے تو وہ سیدنا عمر فاروقؓ ہے۔
حضورﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے عمر فاروقؓ کے دل اور زبان پر حق کو جاری کیا ہے۔
شاہ ولی اللہؒ نے ازالۃ الخفا میں لکھا ہے کہ حضورﷺ کے اسی فیض کی وجہ سے سیدنا عمرؓ کے مشورے کے موافق تقریباً 20 دفعہ وحی الہٰی نازل ہوئی۔ جس کی کچھ مثالیں نیچے دے رہے ہیں:
سیدنا عمرؓ نے حضورﷺ کو مشورہ دیا کہ حضورﷺ مقامِ ابراہیم پر دو رکعت نفل پڑھنا چاہیے۔ آپﷺ نے فرمایا اس کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا ہے۔ یہ کہنا اور وحی نازل ہوئی کہ: وَاتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰهٖمَ مُصَلًّى‌ الخ۔
(سورۃ البقرۃ: آیت، 125)
مفہوم: مقامِ ابراہیم کو آپﷺ نماز کی جگہ بناؤ۔
سیدنا عمر فاروقؓ نے حضورﷺ کو مشورہ دیا کہ آپ کی ازواجِ مطہرات اور بنات پردہ کریں حضورﷺ نے فرمایا اس کے بارے میں مجھ پر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی ہے۔ یہ کہنا تھا اور وحی نازل ہوگئی۔ کہ
يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ يُدۡنِيۡنَ عَلَيۡهِنَّ مِنۡ جَلَابِيۡبِهِنَّ الخ۔
(سورۃ الاحزاب: آیت، 59)
مفہوم: اے نبیﷺ اپنی ازواج اور بنات اور مؤمنوں کی عورتوں کو پردے کا حکم دو۔
سیدنا عمر فاروقؓ نے حضورﷺ کو مشورہ دیا کہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابئ جو منافقین کا سردار ہے اس کا جنازہ نہ پڑھایا جائے تو اس مشورے کے موافق وحی نازل ہوئی کہ:
وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ الخ۔ 
(سورۃ التوبہ: آیت، 84) 
مفہوم: آپ کسی بھی منافق کا جنازہ نہ پڑھائیں اور نہ انکی قبر پر کھڑے ہوں۔
نبی کریمﷺ سے رشتہ داری:
سیدنا عمر فاروقؓ حضورﷺ کے سُسر ہیں کیونکہ آپﷺ کی بیٹی امُ المؤمنین سیدہ حفصہؓ حضورﷺ کے نکاح میں تھیں۔
سیدنا عمر فاروقؓ سیدنا علی المرتضیٰؓ کا داماد:
سیدنا علیؓ نے اپنی لاڈلی بیٹی سیدہ امِ کلثومؓ جو سیدہ فاطمہؓ سے تھی ان کا نکاح سیدنا عمرؓ سے کرایا۔ اسی طرح سیدنا عمرؓ سیدنا علیؓ کے داماد اور سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ کے بہنوئی ہوئے۔
اولادِ اہلِ بیتؓ پر سیدنا عمرؓ کا نام مبارک:
سیدنا علیؓ کے ایک فرزند کا نام عمر بن علیؒ تھا۔
سیدنا حسنؓ کے ایک فرزند کا نام عمر بن حسنؒ تھا۔
سیدنا حسینؓ کے ایک فرزند کا نام عمر بن حسینؒ تھا۔
سیدنا موسیٰ کاظمؒ کے ایک بیٹے کا نام عمر تھا۔
سیدنا علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ کے نکاح کے گواہ:
سیدنا علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ کے نکاح کے گواہ سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ تھے۔
سیدنا علیؓ و سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ کی سیدنا عمرؓ کے ہاتھ پر بیعت:
سیدنا علیؓ اور خاندانِ اہلِ بیتؓ نے سیدنا عمرؓ کے ہاتھ پر صدق دل سے بیعت کی۔ اور سیدنا علیؓ تو خاص مشیر ہوکر رہے۔
خلافت و شہادت:
آپؓ کی خلافت: 10سال 7 مہینہ 10 دن ہے ، 22 لاکھ مربعہ میل زمین پر اللہ اور رسولﷺ کی عظمت کا جھنڈا لہرایا۔ 1036 (ایک ہزار چھتیس) علاقے فتح کیے چار ہزار عام مسجدیں اور نو سو جامع مسجدیں تعمیر کرائیں۔
شہادت:
یکم محرم سنہ24 ھ میں مسجد نبوی کے مصلے پر شہید کیا گیا۔ اور آپؓ کو حضورﷺ کے ساتھ روضہ اطہر میں دفن کیا گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مأخوذ: ازلۃ الخفا از شاہ ولی اللہؒ۔ خلفائے راشدین از عبدالشکور لکھنویؒ۔ رحماء بینہم از مولانا نافع۔ خلفاء راشدین از علامہ خالد محمود مانچسٹر۔ صحابہ و اہلِ بیت کی رشتہ داریاں از مولانا عبدالرحیم بھٹو۔

صفحہ 2 از 2