ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 4 از 4
سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے: اُمُ المؤمنین سیدہ سودہؓ کو خطرہ ہو گیا تھا کہ سرور عالمﷺ انہیں طلاق دے دیں گے چنانچہ انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ مجھے طلاق نہ دیں مجھے اپنی زوجیت کے شرف سے محروم نہ فرمائیں اور میری باری کا دن سیدہ عائشہؓ کو دے دیا کریں، چنانچہ آپﷺ نے منظور فرمایا،اس پر آیت نازل ہوئی:
وَاِنِ امۡرَاَةٌ خَافَتۡ مِنۡۢ بَعۡلِهَا نُشُوۡزًا اَوۡ اِعۡرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَاۤ اَنۡ يُّصۡلِحَا بَيۡنَهُمَا صُلۡحًا‌ وَالصُّلۡحُ خَيۡرٌ‌ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت، 128)
ترجمہ: اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے غالب احتمال، نامناسب رویہ یا بے پرواہی کا ہو تو دونوں کو اس امر میں کوئی گناہ نہیں کہ دونوں باہم ایک خاص طور پر صلح کرلیں اور صلح بہتر ہے۔
سوکن کو ترجیح دینا:
سیدہ سودہؓ کے ایثار کا یہ عدیمُ النظیر اور فقیدُ المثال واقعہ ہے کہ حضورِ اکرمﷺ کی منظورِ نظر اور چہیتی بیوی کو اپنی باری کا دن تفویض فرما کر اپنے شوہر کی رضا مندی کا تمغہ بھی حاصل کر لیا اور اپنی سوکن کوبھی راضی کر لیا۔
خصوصیت سیدہ سودہؓ:
اُمُ المؤمنین سیدہ سودہؓ کے خصائص میں سے ایک خصوصیت تھی کہ انہوں نے اپنی باری سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو سپرد کردی ان کا یہ جذبہ ایثار اس وجہ سے تھا کہ وہ اس حبیبہ رسولﷺ کی وجہ سے بارگاہِ نبوت میں تقرب حاصل کریں۔
ظرافت اور حسنِ مزاح:
سیدہ سودہؓ کے مزاج میں اگرچہ جلال جلد غالب آ جایا کرتا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان میں حسِ مزاح اور ظرافت بھی خوب تھی۔ کبھی کبھار آپﷺ کو ہنسانے کی غرض سے عام مزاج سے ہٹ کر چل کر دکھاتیں جس پر آپﷺ ہنس پڑتے۔
سیدہ سودہؓ ایک رات آپﷺ کے ساتھ قیام اللیل میں کھڑی ہو گئی، آپﷺ سے کہنے لگیں: میں نے آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپﷺ نے اتنا لمبا رکوع فرمایا کہ مجھے یوں لگا کہ میری نکسیر پھوٹ پڑے گی اور اپنے ناک کو سہلانے لگیں، اس پر آپﷺ بہت مسکرائے۔
خوش گوار موڈ:
نبی کریمﷺ بہت سنجیدہ طبیعت کے مالک تھے لیکن اس کے باوجود آپﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مجلس میں وقتاً فوقتاً مزاحیہ کلمات اور ظرافت بھرے جملے ارشاد فرماتے، اسی طرح اپنے اہلِ خانہ کے درمیان بھی خوشگوار موڈ میں رہتے۔ گویا آپﷺ اہلِ بیتؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین زندگی پوری طرح فطری انداز میں بسر فرمائی جو تکلفات سے بالکل پاک تھیں اور یہی تعلیم اپنی امت کو دی ہے۔
وفات:
سیدہ سودہؓ کی وفات سیدنا عمرؓ کے خلافت کے آخری زمانہ میں ہوئی اور سیدنا عمرؓ کی شہادت 23ھ میں ہے۔


صفحہ 4 از 4