ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 4
سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ حجاب کے حکم نازل ہونے کے بعد سیدہ سودہؓ قضائے حاجت کیلئے گھر سے باہر نکلیں۔ چونکہ آپؓ کا جسم بھاری بھر کم تھا اس وجہ سے وہ لوگ آپؓ کو باوجود پردے کے بھی قد و قامت کی وجہ سے پہچان لیتے تھے جنہوں نے حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے آپؓ کو دیکھا ہوا تھا۔ سیدنا عمر بن خطابؓ نے سیدہ سودہؓ کو دیکھا تو فرمایا: میں نے آپ کو پہچان لیا ہے۔ چنانچہ سیدہ سودہؓ الٹے پاؤں واپس پلٹیں۔
سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپﷺ رات کو میرے گھر میں کھانا تناول فرما رہے تھے اور آپﷺ کے ہاتھ میں ہڈی تھی۔ اس دوران سیدہ سودہؓ نے رسول اللہﷺ کو سارا واقعہ بیان کیا۔ آپﷺ پر کیفیتِ وحی طاری ہو گئی۔ جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو ہڈی کو ہاتھ میں تھامے ہوئے فرمایا۔ تمہیں اپنی حاجات کیلئے باہر نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
حافظ ابنِ حجرؒ نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے: اصل بات یہ ہے کہ سیدنا عمرؓ کو برا لگتا تھا کہ اجنبی لوگ، ازواجِ نبیﷺ کو دیکھیں، حتیٰ کہ انہوں نے آپﷺ سے صراحتاً اس بارے میں کہہ بھی دیا کہ اپنی ازواج کو پردہ کرائیں۔ پھر اس پر اصرار فرماتے رہے۔ حتیٰ کہ حجاب کے بارے سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 53 نازل ہوئی۔
سیدنا عمرؓ اس کے باوجود بھی یہ چاہتے تھے کہ اس میں بھی مزید مبالغہ ہو یعنی اگر وہ پردے میں بھی ہوں، تب بھی ان کی پہچان ظاہر نہ ہو۔ چونکہ یہ بہت تنگی و مشقت والا معاملہ تھا تب اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب کی دوسری آیت 59 نازل فرمائی جس میں اللہ نے انہیں اپنی حاجات کیلئے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی۔
نوٹ: پردہ کی شرعی حیثیت کے بارے میں میری کتاب "مسلمان عورت" ملاحظہ فرمائیں۔
سخاوت و دریا دلی:
سیدہ سودہؓ کا ذاتی طور پر مزاج دنیا سے دوری کا تھا مزید رسول اللہﷺ کی خاص تربیت نے اس پر سونے کا سہاگہ کا کام کیا۔ دنیا کی محبت سے دل بالکل پاک تھا، اس مزاج اور تربیت نے آپ کو سخاوت و فیاضی کے اس مرتبہ تک پہنچایا جو بہت کم کسی کو ملتا ہے۔ آپؓ دستکاری میں مہارت رکھتی تھیں اور طائف کی کھالیں خود بنایا کرتی تھیں۔ اس سے جو آمدنی ہوتی تھی اسے راہ خدا میں خرچ کر دیتی تھیں۔ایک مرتبہ امیرُ المؤمنین سیدنا عمر بن خطابؓ نے دراہم سے بھری ہوئی ایک تھیلی سیدہ سودہؓ کی خدمت میں بھیجی، آپؓ نے پوچھا اس میں کیا ہے؟ بتایا گیا کہ اس میں دراہم ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ تھیلی تو کھجوروں کی ہے اور اس میں دراہم ہیں۔ یہ کہا اور تمام دراہم ضرورت مندوں میں کجھوروں کی طرح تقسیم فرما دیے۔ آپ کی ساری زندگی غریب پروری، دریا دلی، فیاضی، سخاوت اور شانِ استغنا کی غماز تھی۔
پابندیِ شریعت:
سیدہ سودہؓ دیگر اوصاف کے ساتھ ساتھ شریعت کی سخت پابند تھیں، عبادات و ریاضت اور زہد و تقویٰ میں بلند شان کی حامل تھیں۔ علامہ ابنِ کثیرؒ لکھتے ہیں سیدہ سودہؓ عبادت و تقویٰ اور زہد والی خاتون تھیں، نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی ازواجِ مطہراتؓ سے فرمایا: میرے بعد گھر میں بیٹھنا اس پر سیدہ سودہؓ نے ایسی سختی سے عمل فرمایا کہ پھر کبھی حج کے لئے بھی تشریف نہ لے کر گئیں اور فرماتی تھی کہ میں حج و عمرہ دونوں کر چکی ہوں اور اب رسولِ خداﷺ کے حکم کے مطابق گھر ہی میں بیٹھوں گی۔
سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ حضورِ اکرمﷺ کے اس ارشاد کے بعد سب ازواجِ مطہراتؓ نے آپﷺ کے انتقال کے بعد کئی حج کئے لیکن سیدہ زینب بنتِ جحشؓ اور سیدہ سودہ بنتِ زمعہؓ نے آپ کے بعد کوئی حج نہیں کیا اور برابر گھر میں رہیں اور فرمایا کرتی تھیں بخدا رسول اللہﷺ کے فرمان کے بعد ہم اپنی جگہ سے نہیں ہلیں گی۔
مناسکِ حج میں خصوصی رعایت:
سرور دو عالمﷺ نے 10 ہجری میں حج ادا فرمایا آپﷺ کی تمام ازواجِ مطہراتؓ ہمراہ تھیں۔ سیدہ سودہؓ چونکہ سن رسیدہ بھی تھیں اور جسم قدرے بھاری ہوگیا تھا اس لیے تیز رفتاری کے ساتھ چل پھر نہ سکتی تھیں۔
اُمُّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں: ہم سفرِ حج میں جب مزدلفہ پہنچے تو اُمُّ المؤمنین سیدہ سودہؓ نے نبی کریمﷺ سے اجازت مانگی کہ لوگوں کے مزدلفہ سے منیٰ روانہ ہونے سے قبل انہیں جانے کی اجازت دی جائے، کیونکہ لوگوں کے ہجوم میں چلنا ان کے لیے دشوار تھا۔ حضورِ اکرمﷺ نے کمالِ شفقت فرماتے ہوئے اجازت مرحمت فرما دی چنانچہ سیدہ سودہؓ رات ہی میں لوگوں سے پہلے مزدلفہ سے روانہ ہو گئیں۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہم لوگ مزدلفہ میں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی پھر ہم رسول اللہﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے۔
نوٹ: اصل مسئلہ یہ ہے کہ دورانِ حج جب مزدلفہ پہنچیں تو رات یہاں گزاریں اور صبح سورج طلوع ہونے کے بعد یہاں سے منیٰ کی طرف روانہ ہوں۔
خوشنودی نبوت کا حصول:
رسول اللہﷺ جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواجِ مطہراتؓ کے درمیان قرعہ ڈالتے کہ آپﷺ کے ساتھ جانے کیلئے کس کے نام قرعہ نکلتا ہے۔ مزید یہ کہ آپﷺ نے ان کے درمیان ایک رات دن کی باری مقرر فرمائی ہوئی تھی، ماسوائے اس کے کہ سیدہ سودہ بنتِ زمعہؓ نے اپنی باری اُمُ المؤمنین سیدہ عائشہؓ کو دی ہوئی تھی اور اس سے ان کا مقصود نبی اکرمﷺ کی خوشنودی اور رضامندی تھی۔
سیدہ عائشہؓ کی عجیب تمنا:
سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں: مجھے ازواجِ مطہراتؓ میں سب سے زیادہ سیدہ سودہ بنتِ زمعہؓ عزیز تھیں، میری تمنا تھی کہ کاش میں میری روح ان کے جسم میں ہوتی، اگرچہ سیدہ سودہؓ کے مزاج میں جلال جلد غالب آ جاتا تھا، جب وہ بوڑھی ہو گئیں تو انہوں نے اپنے گھر رسول اللہﷺ کی تشریف آوری کی باری سیدہ عائشہؓ کو دے دی اور عرض کی: یا رسول اللہﷺ میں نے اپنی باری سیدہ عائشہؓ کو دے دی ہے، پھر رسول اللہﷺ سیدہ عائشہؓ کے ہاں دو دن رہتے تھے، ایک دن سیدہ عائشہؓ کی باری کا اور ایک دن سیدہ سودہؓ کی باری کا۔
صفحہ 3 از 4