ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 4
سیدہ سودہؓ اپنے شوہر نامدار کی وفات پر صدمے سے دوچار تھیں اور دوسری طرف نبی کریمﷺ اپنی جانثار زوجہ سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ کی وفات پر پریشان تھے۔ کسی تحریک سے وابستہ قیادت کو گھریلو ذہنی سکون کی کتنی ضرورت ہوتی ہے؟ یہ سوائے اس کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔ نبی کریمﷺ تو دنیا کی سب سے بڑی عالمگیر دینی، سماجی، معاشرتی اور انسانی تحریک کی تنِ تنہا قیادت فرما رہے تھے اور کفار ِمکہ کی اذیتوں کو حوصلہ مندی اور صبر و تحمل سے برداشت کر رہے تھے۔ ایسے حالات میں تسلیاں دینے اور دکھ بانٹنے والی اہلیہ کی وفات، گھر میں اکیلی بچیوں کی تربیت اور دیکھ بھال اور سب سے بڑھ کر خدا کے دین کو ساری دنیا میں پھیلانے کی منظم منصوبہ بندی اور پیش رفت۔ یہ سب مسائل اس بات کے متقاضی تھے کہ آپﷺ کی ذہنی یکسوئی اور اپنے مشن کی تکمیل کے لیے ایسی رفیقہ حیات ہو جو بچوں کی پرورش، آپﷺ سے دکھ درد بانٹنا اور اسلام کی عالمگیر محنت میں دست بازو بنے۔
 پیغامِ نکاح کا مرحلہ:
چنانچہ ان حالات کے پیشِ نظر سیدنا عثمان بن مظعونؓ کی اہلیہ سیدہ خولہ بنتِ حکیمؓ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ آپ کو ایک غمگسار رفیقہ حیات کی ضرورت ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: جی ہاں کیونکہ پہلے تو گھر بار کا انتظام اور بال بچوں کی پرورش سب سیدہ خدیجہؓ کیا کرتی تھیں۔ اس پر سیدہ خولہ بنتِ حکیمؓ نے فرمایا کہ کیا میں آپﷺ‎ کے لئے کہیں نکاح کا پیغام دے دوں؟ آپﷺ نے فرمایا: بالکل مناسب بات ہے خواتین ہی اس کام کے لئے موزوں ہوتی ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: کس جگہ پیغام دینے کا خیال ہے؟ سیدہ خولہ بنتِ حکیمؓ نے کہا کہ یا رسول اللہﷺ اگر آپ کسی کنواری سے نکاح فرمانا پسند کریں تو آپﷺ‎ کے نزدیک تمام مخلوق میں جو سب سے زیادہ محبوب ہے سیدنا ابوبکر صدیقؓ اُس کی بیٹی سیدہ عائشہؓ موجود ہے ان سے نکاح فرما لیں اور اگر کسی بیوہ سے نکاح فرمانا چاہیں تو سیدہ سودہ بنتِ زمعہؓ موجود ہے جو آپ پر ایمان بھی لا چکی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: دونوں جگہ پیغام دے دیں۔
سیدہ خولہؓ اور سیدہ سودہؓ کی باہمی گفتگو:
نبی کریمﷺ سے جب اجازت ملی تو سیدہ خولہ بنتِ حکیمؓ پہلے سیدہ سودہ بنتِ زمعہؓ کے پاس آئیں اور کہا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ پر خیر و برکت کے دروازے کھول دیے ہیں، میں آپ کے پاس جناب رسول اللہﷺ کا پیغامِ نکاح لائی ہوں۔ سیدہ سودہؓ نے فرمایا:
میں محمد رسول اللہﷺ پر ایمان لائی ہوں، وہ میرے ہادی بھی ہیں اور میرے رہنما بھی، میری ذات کے متعلق انہیں مکمل اختیار ہے۔ وہ جو چاہیں فیصلہ فرمائیں۔
سیدہ خولہؓ اور سیدنا زمعہؓ کی باہمی گفتگو:
سیدہ خولہؓ کو جب یہ معلوم ہوا کہ سیدہ سودہؓ اس پر رضامند ہیں تو وہ آپؓ کے بوڑھے والد زمعہ بن قیسؓ کے پاس گئیں اور جا کر کہا کہ میں محمدﷺ بن عبداللہ بن عبد المطلب کی طرف سے آپ کی بیٹی سودہؓ کے لئے نکاح کا پیغام لائی ہوں۔ زمعہ نے یہ سن کر کہا: ھو کفو کریم۔
بے شک میری بیٹی کی خوش قسمتی ہے محمدﷺ اس رشتے کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہیں۔ لیکن آپ سیدہ سودہؓ کی رائے بھی معلوم کر لیں۔ اس پر سیدہ خولہؓ نے کہا کہ میں نے ان سے بات کر لی ہے اور انہیں یہ پیشکش قبول ہے۔
سودہؓ اُم المؤمنین بنتی ہیں:
سیدہ سودہؓ کے وہ خواب شرمندہ تعبیر ہونے لگے جو آپ نے سیدنا سکرانؓ کی وفات سے پہلے دیکھے تھے۔ سیدنا زمعہ بن قیسؓ نے سیدہ سودہؓ سے نکاح کی اجازت طلب کی اور کہا: اے میری لخت جگر! سیدہ خولہ بنتِ حکیمؓ مجھ سے کہتی ہیں کہ محمدﷺ بن عبداللہ بن عبد المطلب نے تجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے کیا تو اس کے لیے راضی ہے؟ دیکھ بیٹی! میرے نزدیک تو وہ نہایت عزت دار گھرانہ ہے اگر تو بھی راضی ہو تو میں اس معاملہ کو پکا کر دوں؟ سیدہ سودہؓ نے جواب دیا کہ جی ابو جان میری رائے بھی یہی ہے۔ چنانچہ رسول اللہﷺ ان کے ہاں تشریف لے گئے اور سیدہ سودہؓ کے والد سیدنا زمعہ بن قیسؓ نے آپ کا نکا ح پڑھایا اور 400 درہم حق مہر مقرر ہوا۔
رسول اللہﷺ نے سیدہ خدیجۃؓ کی وفات کے بعد رمضان 10 نبوی میں سیدہ سودہؓ سے نکاح فرمایا یہ نکاح سیدہ عائشہؓ سے بھی پہلے فرمایا اور سیدہ سودہؓ مکہ مکرمہ ہی میں آپﷺ کے گھر آ گئیں اور پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔
ہجرتِ مدینہ:
سیدہ سودہؓ نبی کریمﷺ کے ساتھ مکہ میں تین سال رہیں اس کے بعد اللہ کی طرف سے ہجرت مدینہ کا حکم آیا۔ نبی کریمﷺ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے ہمراہ مدینہ طیبہ ہجرت فرما گئے۔ چونکہ حالات اس قدر سنگین ہو چکے تھے کہ اس وقت اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے جانا خطرے سے خالی نہیں تھا اس لیے آپﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ اپنے گھر والوں کو ساتھ نہ لے جاسکے۔
چھ ماہ تک سیدہ سودہؓ مکہ مکرمہ میں نبی کریمﷺ کی بچیوں کی دیکھ بھال، تربیت کی کٹھن ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے پورا کرتی رہیں۔ ایک سن رسیدہ خاتون کے لئے اپنی سوتیلی اولاد سے شفقت و محبت کا برتاؤ کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے مگر آپؓ نے سیدہ خدیجہؓ کی صاحبزادیوں کے ساتھ باوجود یہ کہ وہ سوتیلی اولاد تھیں، انہیں حقیقی ماں جیسا پیار دیا۔ سیدہ اُمِ کلثومؓ اور سیدہ فاطمہؓ کم و بیش پانچ چھ سال تک سیدہ سودہؓ کی زیرِ تربیت رہیں لیکن ساری زندگی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیشں نہیں آیا، نہ سیدہ سودہؓ کی طرف سے اور نہ ہی سیدہ اُمِ کلثومؓ اور سیدہ فاطمہؓ کی طرف سے۔
مدینہ طیبہ میں آپﷺ نے مسجدِ نبوی تعمیر کی اور ساتھ ہی دو مکان بھی تعمیر کرائے۔ اس کے بعد آپﷺ نے رمضان 1 ہجری کو سیدنا زید بن حارثہؓ اور سیدنا ابو رافعؓ کو دو اونٹ اور پانچ سو درہم دے کر مکہ کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ مقامِ قدید "قُدَیْد ق پر پیش اور پہلے د پر زبر کے ساتھ پڑھنا ہے" سے مزید ایک اور اونٹ بھی خرید لینا تاکہ سیدہ سودہؓ، سیدہ اُمِ کلثومؓ اور سیدہ فاطمہؓ آسانی سے سوار ہو سکیں، چنانچہ سیدنا زید بن حارثہؓ اور سیدنا ابورافعؓ حسبِ حکم مکہ آئے اور خاندانِ نبوت کو بحفاظت ہمراہ لے گئے۔
آیتِ حجاب کا نزول:
صفحہ 2 از 4