ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 4

اُمُّ المؤمنین حضرت سودہ رضی اللہ عنہا
نام: سودہ
والد: زمعہ بن قیس بن شمس قبیلہ عامر بن لوی
والدہ: شموس بنتِ قیس بن زیدقبیلہ بنو نجار
سنِ پیدائش: 40 سال قبل از بعثت
قبیلہ قریش: شاخ بنو عامر
زوجیتِ رسول: 10 نبوی ہجرت سے تین برس قبل
سنِ وفات: 23 ہجری
مقامِ تدفین: جنتُ البقیع مدینہ منورہ
کل عمر: 76 سال تقریباً
نام و نسب:
نام سودہؓ ہے، والد کی طرف سے سلسلہ نسب یوں ہے: سودہ بنتِ زمعہؓ بن قیس بن عبد شمس، جبکہ والدہ کی طرف سےاس طرح ہے: سودہ بنتِ شموس بنتِ قیس بن زید۔
ولادت:
آپؓ کی ولادت نبی کریمﷺ کے اعلانِ نبوت سے 40 سال قبل ہوئی۔
خاندانی پسِ منظر:
آپؓ کا سلسلہ کا نسب نبی کریمﷺ کے نسب مبارک سے لُوی میں جا کر مل جاتا ہے۔ آپؓ کے نانا قیس بن زید، آپﷺ کے پردادا ہاشم کے برادرِ نسبت تھے۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ یثرب کے معروف قبیلہ بنو نجار کے چشم و چراغ قیس بن زید کی ہمشیرہ سلمیٰ سے آپﷺ کے پردادا ہاشم کی شادی ہوئی تھی۔
پاکیزہ مزاجی:
آپؓ کے اخلاق و مناقب کے ابواب میں محدثین کرام نے بکثرت روایات نقل کی ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ آپؓ بہت پاکیزہ مزاج کی حامل تھیں۔
نکاح اول:
آپؓ کا پہلا نکاح اپنے چچا زاد سکران بن عمرو بن عبد شمس سے ہوا۔ سیدنا سکرانؓ کا قدیم الاسلام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں شمار ہوتا ہے۔ سیدنا سکرانؓ سے سیدہ سودہؓ کا ایک بیٹا سیدنا عبدالرحمٰنؓ پیدا ہوا۔ جو جنگِ جلولا میں شہید ہو گئے۔
قبولِ اسلام:
نبی کریمﷺ کی دعوتِ دین مکہ کے ہر گھر تک پہنچ رہی تھی، اسی دوران سیدہ سودہؓ نے آپﷺ کی دعوت پر لبیک کہا اور حلقہ بگوش اسلام ہو گئیں۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ آپؓ اپنے خاندان میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والی خاتون ہیں۔
آزمائشی حالات:
اسلام کے ابتدائی زمانہ میں اسلام قبول کرنا اور پھر اس کا اظہار کرنا بہت مشکل تھا، جو کوئی بھی اسلام قبول کرتا تو اس کے گھر والے، اس کا خاندان اور سردارانِ مکہ مل کر اس مسلمان کو قبولِ اسلام کی پاداش میں اپنے ظلم کا نشانہ بناتے اور انسانیت سوز تکالیف سے گزارتے تاکہ کسی طریقے وہ اسلام کو چھوڑ دے۔ آپؓ نے جب اسلام قبول کیا تو کفارِ مکہ کی طرف سے آپؓ کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑا اور ایک عرصے تک آپؓ ان سب مظالم کو سہتی رہیں۔
تبلیغِ اسلام:
قبولِ اسلام کے بعد آپؓ ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھی رہیں، بلکہ اسلام کی مبلغہ بن گئیں اور اپنے خاندان میں اسلام کی تبلیغ شروع کر دی،چنانچہ آپؓ کی پُر اثر تبلیغ سے متاثر ہو کر آپؓ کے شوہر نامدار مسلمان ہو گئے۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ آپؓ کی داعیانہ و مبلغانہ مساعی جمیلہ کی بدولت سیدنا عبداللہ بن سہیل بن عمروؓ، سیدنا حاطب بن عمروؓ، سیدنا سلیط بن عمروؓ، سیدہ فاطمہ بنتث علقمہؓ، سیدنا مالک بن زمعہؓ، سیدنا ابو صبرہ بن ابی رہمؓ مسلمان ہوئے۔
ہجرتِ حبشہ اولیٰ:
جب کفار مکہ کے مظالم کا سلسلہ نہ تھما تو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت ملی یہ نبوت کے پانچواں سال رجبُ المرجب کا مہینہ تھا، 11 مرد اور 4 خواتین پر مشتمل ایک قافلہ حبشہ کی طرف ہجرت کر گیا۔ اس دوران آپؓ اور آپؓ کے شوہر سیدنا سکران بن عمروؓ نے مکہ میں رہنے کو ترجیح دی اور حبشہ ہجرت نہ فرمائی۔
ہجرتِ حبشہ ثانیہ:
اس کے ایک برس بعد نبوت کے چھٹے سال میں دوبارہ حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم ملا چنانچہ اس بار 20 خواتین اور 83 مردوں پر مشتمل قافلہ حبشہ پہنچا۔ اس قافلہ سخت جاں میں سیدہ سودہؓ اور آپؓ کے شوہر سیدنا سکرانؓ نے بھی شامل ہونے کا ارادہ کیا، آپؓ کے قبیلہ والوں نے پوری کوشش کی کہ آپؓ ہجرت نہ کرنے پائیں اور آپؓ کے خاندان کا کوئی فرد آپؓ کے ہمراہ ہجرت نہ کرے، لیکن کفارِ مکہ کی خواہشات پر اوس پڑ گئی اور آپؓ کے ساتھ آپؓ کے شوہر سیدنا سکرانؓ اور خاندان کے کئی دیگر افراد ہجرت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان ہجرت کرنے والے مہاجرین میں سے کچھ تو واپس مکہ تشریف لے آئے سیدہ سودہؓ اور ان کے شوہر بھی واپس مکہ مکرمہ لوٹ آئے۔ جبکہ بعض لوگ سیدنا جعفر طیارؓ کے ساتھ حبشہ ہی میں مقیم رہے اور وہ غزوہِ خیبر کے موقع پر مدینہ منورہ پہنچے لیکن اکثر لوگ ان سے پہلے ہی مکہ مکرمہ واپس آ گئے تھے ان میں سیدہ سودہؓ بھی شامل تھیں۔
 پہلا خواب:
حبشہ میں کچھ عرصہ گزرانے کے بعد آپؓ اپنے شوہر سیدنا سکرانؓ سمیت واپس مکہ تشریف لائیں۔ آپؓ کو ایک خواب آیا، اس میں دیکھا کہ آپﷺ تشریف لائے اور آپؓ کی گردن پر قدم مبارک رکھے۔ آپؓ نے اس خواب کا ذکر اپنے شوہر سیدنا سکرانؓ سے کیا، سیدنا سکرانؓ فرمانے لگے: یوں لگتا ہے کہ میں بہت جلد فوت ہو جاؤں گا اور تم نبی کریمﷺ کی زوجہ بن جاؤ گی۔
دوسرا خواب:
ایک اور خواب بھی آپؓ کو آیا اس میں آپؓ نے دیکھا کہ چاند ان کی آغوش میں آ کر گرا ہے۔ آپؓ نے اس خواب کا تذکرہ بھی اپنے شوہر نامدار سیدنا سکرانؓ سے کیا۔ سیدنا سکرانؓ نے فرمایا کہ اس خواب میں یہ اشارہ مل رہا ہے کہ میں عنقریب فوت ہو جاؤں گا اور میرے بعد تم رسول اللہﷺ کی زوجیت کا شرف حاصل کرو گی۔
سیدنا سکرانؓ کی وفات:
حبشہ میں کچھ عرصہ تک رہنے کے بعد آپؓ اپنے شوہر کے ہمراہ واپس مکہ مکرمہ تشریف لے آئیں۔ واپس آ کر کچھ دنوں بعد سیدنا سکرانؓ کی طبیعت ناساز رہنے لگی۔ چنانچہ وہ اسی بیماری میں انتقال فرما گئے۔
شادی کی ضرورت:
صفحہ 1 از 4