سوڈانی شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

سوڈانی شیعہ

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 3 از 3

ان کے مرکز کا ایک شعبہ ثقافت اور میڈیا ہے یہ ویڈیو اور آڈیو کیسٹیں اور ایرانی اخبارات کو تقسیم کرتے ہیں، ان ویڈیو کیسٹوں میں جو اہم ترین چیز پیش کی جا رہی ہے وہ حضرت علیؓ کی ولایت ہے۔ اور حضرت صدیق اکبرؓ کی بیعت کو باطل ثابت کیا گیا ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر خصوصاً حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ پر سبِّ وشتم کیا گیا ہے۔ جنہیں یہ مرکز میں آنے والوں میں مفت تقسیم کرتے ہیں اور وہ کتابیں جو شیعی نظریات پیش کرتی ہیں انہیں بھی مفت تقسیم کرتے ہیں۔ اور خصوصاً طلباء کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کی سب سے زیادہ خطرناک سرگری یہ ہے کہ یہ ایرانی جامعات میں مفت تعلیم کی پیشکش کرتے ہیں اور ان میں جامعہ خمینی میں تعلیم پر پُرزور طریقہ اپناتے ہیں کیونکہ اس میں فقہ جعفریہ پڑھائی جاتی ہے۔ عرصہ(9) سال کے دوران سوڈان میں سے بہت بڑی طلباء کی تعداد اس جامعہ خمینی میں داخل ہوئی ہے اور خصوصاً طالبات ان میں زیادہ ہیں۔ اس جامعہ سے وہ کافی تعداد میں سند فراغت حاصل کرنے کے بعد گئی ہیں۔ ان میں سے اکثر ایرانی مراکز ثقافتیہ میں متعین ہوئی ہیں اور بعض خرطوم میں ایرانی سفارتخانے میں ملازم ہوئی ہیں۔

 شیعوں نے دوروں کے نام پر بھی شیعیت دلوں میں اتارنے کا کام شروع کر رکھا ہے، مختلف موضوعات اور مہارات کا دورہ کرواتے ہیں، مثلاً فارسی زبان میں دورہ کرواتے ہیں یہ عوام اور ثقافتی لوگوں کے لیے رکھا ہوتا ہے۔ لغت کی تعلیم کے دوران بھی یہ اپنے شیعی افکار و آراء پڑھا جاتے ہیں اور امامت کا نقطہ نظر امام کے لوٹنے کا نظریہ اور پاؤں پر مسح کرنا وغیرہ شیعہ عقائد پر بحث کر جاتے ہیں۔ یہ اس طرح بہت سارے پڑھنے والوں کو اپنے شیعی جال میں پھانس لیتے ہیں۔ یہ فارسی زبان کے شہد میں شیعہ نظریات کا زہر ملا کر پلاتے ہیں۔ بات میں مثال اس طرح لے آئیں گے کہ جعفر صادقؒ نے کہا ہے: 

التقية دينی ودين آبائی فمن لا تقية له فلا دين له 

”کہ تقیہ میرا دین ہے اور میرے باپوں کا دین ہے جو تقیہ نہیں کرتا اس کا دین نہیں۔“

اس کی تشریح کرتے ہیں اور طلبا کو اس کی طرف مائل کرنے کے لئے دعوت دیتے ہیں، یہ ان کی خبیث مکاری ہے۔ دوروں میں اپنے مذہب کی کتاب ”الفقہ علی المذاہب الخمس“ بھی پڑھاتے ہیں حنفی، حنبلی، شافعی، مالکی، چار مذاہب یہ مراد لیتے ہیں اور پانچواں مذہب شیعہ فقہ مراد لیتے ہیں، جسے یہ فقہ جعفریہ کہتے ہیں۔ ان دوروں میں معلمین ایران سے آتے ہیں، ان میں سے حمید طیب حسینی ہے، عدنان تاج ہے، صالح ہاشمی ہے، امیر موسوی ہے، علاء الدین واعظی۔ ایوب حائلی ہے اور یہ ہمیشہ ان مذاہب میں سے فقہ جعفری کو ترجیح دیتے ہیں اور ہر معاملہ میں ان کا مرکزی نقطہ یہ ہوتا ہے کہ امام جعفر صادقؒ معصوم امام ہیں۔ اور تمام سنی مذاہب نے ان سے ہی علم لیا ہے اور بار بار یہ بات دہراتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ نے امام جعفر صادقؒ سے پڑھا ہے، وہ کہا کرتے تھے: (لولا السنتان لهلك النعمان) اگر امام جعفرؒ سے میں نے دو سال نہ پڑھا ہوتا تو میں ہلاک ہو جاتا۔ 

حالانکہ یہ سفید جھوٹ ہے ثابت نہیں کہ امام صاحبؒ نے یہ کہا ہے۔ گزشتہ دس سالوں سے تقریبا فقہ جعفریہ کے نوے دورے ہوئے ہیں، اس کے مقابلہ میں سنی لوگ سوڈان میں سخت کمزور سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جنہیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ ایران کے ثقافتی مرکز میں علم منطلق کے دورے بھی کروائے جاتے ہیں وہاں خلاصتہ المنطق پڑھائی جاتی ہے۔ اس سے طلباء کے عقائد میں شک پیدا کیا جاتا ہے، ابتدا اس منطق سے کرتے ہیں مگر اندر ہی اندر سے سنی طلباء کو شیعہ بنانے کی راہ ہموار کر لیتے ہیں۔ اسی طرح اصول فقہ کے دوروں میں کیا جاتا ہے یہ دورے خاص طور پر یونیورسٹیوں کے طلباء میں رکھے جاتے ہیں۔ خصوصاً "ام درمان الاسلامیہ یونیورسٹی" اور "جامعہ القرآن الحکیم والعلوم الاسلامیہ" کے طلبہ کو کروائے جاتے ہیں۔ ان کی اہمیت کے پیش نظر ایرانی مدرس اس موضوع کو خود پڑھاتا ہے۔ اس میں شیعہ اور سنی اختلاف پر بحث کی جاتی ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اختلاف بتاتے ہیں اور محمد بن عبدالوہابؒ کی دعوت و تحریک کو برے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تکفیر کرتے ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر لعنت کے مسئلہ پر باقاعدہ بحث کرتے ہیں اور بہت تعداد میں طلباء کو مائل کرتے ہیں۔  

یہ جو ممتاز حیثیت سے فارغ ہوتے ہیں یہ طلبا عقیدہ شیعہ میں رچ بس جاتے ہیں یہ ان کے دورہ لگانے والے داعی بن کر جاتے ہیں، یہ ایکسر سائز کرنے والے نوجوان جہاں جمع ہوتے ہیں وہاں چکر لگاتے ہیں، ان کی محفل میں پہنچ جاتے ہیں حصاحیص کے شہر میں بھی یہ اس لیے آئے تھے اور پھر یہ تو نوجوانوں کو انفرادی دعوت دیتے ہیں تاکہ یہ شیعہ مذہب کی طرف مائل ہوں اور اسے قبول کریں۔


صفحہ 3 از 3