سوڈانی شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

سوڈانی شیعہ

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 3

محور:2 جو شیعیت کی طرف مائل کرتا ہے۔ یہ علمی قیادت ہے جو توجہ کو متاثر کرتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو علمی اداروں کے مدیر ہیں۔ ڈاکٹر عبدالرحیم علی ہے۔ ڈاکٹر خدیجہ کرار ہے اور ڈاکٹر حسن مکی ہے، یہ ڈاکٹر حسن مکی نے تو میڈیا میں شور برپا کر دیا تھا۔ اس نے جلیل القدر صحابی سیدنا عثمان بن عفانؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں اپنی آراء بیان کی ہیں اس سے واضح ہوتا ہے کہ شیعی فکر اس کے اندر دخل انداز ہو چکی ہے۔ اور یہ اس سے شدید متاثر ہے اور اس کی کوشش ہے کہ لوگوں کو ادھر مائل کرے۔ سوڈان میں جو حقیقی کامیابی شیعوں کو حاصل ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ زیادہ تر اخبارات جو عوام میں مقبول ہیں ان پر ان کا ہولڈ ہے۔ "الوفاق" اخبار ہے، یہ ان کے مضامین اور مسائل اور عقائد پھیلاتا رہتا ہے۔ اور واضح کرتا ہے کہ تحریر کرنے والا شیعیت سے متاثر ہے اور شیعوں کی کتابیں اعلانیہ دن کی روشنی میں بغیر کسی رکاوٹ کے فروخت ہو رہی ہیں اور فروخت کرنے والے انہیں خریدنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اور ایسی معلومات شائع ہو رہی ہیں کہ ایرانی سفارتخانہ کی گنتی کے مطابق سوڈان میں پندرہ ہزار کی تعداد میں شیعہ موجود ہیں۔ اور بعض مکمل بستیاں ہی شیعہ ہو چکی ہیں۔ مدینہ ابیض کے قریب ام دم بستی شیعہ ہے۔ یہ ایرانی سفارتخانہ کے لیے بڑے فخر کی بات ہے، اس نے اس کامیابی پر اظہارِ برتری کیا ہے۔ یہ وہ بستی ہے جس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا گالی دی جاتی ہے اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ پر ہر جمعہ لعنت کی جاتی ہے۔ خطیب خود لعنت کرتا ہے۔ اللہ اس پر بھی وہی کرے جس کا یہ مستحق ہے۔ 

سوڈان کے شمال میں الکربہ نامی بستی بھی شیعہ ہو چکی ہے اور شمالی سوڈان میں ہی ایک قبیلہ الرباضاض یہ بھی شیعیت میں آ چکا ہے، دارفور ریاست میں جو کہ سوڈان کے مغرب میں ہے تین

بستیاں شیعہ ہیں۔ شیعہ بنانے میں ان کے داعی اور بڑے ان علاقوں میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ اور شیعیت کے سوڈان میں پھیلنے کی وجہ یہ ہے کہ انہیں ایران تعلیم کی سہولتیں دے رہا ہے، ان طلباء کی وجہ سے سوڈان کی مسلم سرزمین میں شیعہ عقائد سرایت کر رہے ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ سرزمین ایرانی ثقافتی مرکز کے نام سے نہایت موزوں ثابت ہوئی ہے، ایران نے سوڈان میں مہدی مروی کو اپنا سفیر متعین کر دیا ہے۔ جو سوڈانی اور ایرانی تعلقات مضبوط کرنے کے میدان میں سرگرم عمل ہے، اس نے یہ ثقافتی مرکز قائم کیے ہیں۔ اس سفیر کی نمایاں ترین سرگرمی یہ ہے کہ اس نے سوڈانی تنظیم جو "الصداقہ الشعبية العالمیہ" کے نام پر تھی اسے "الصداقہ السودانيہ الایرانیہ" میں ضم کر دیا ہے، دونوں کو ایک کر دیا ہے۔ یہ جمعیت ایرانی سفارت کا کام دیتی ہے۔ اور اس نے ایرانی ثقافتی مراکز میں دعوتی سرگرمیوں میں باقاعدہ حصہ لیا ہے۔ اس جمعیت کے ارکان ان لائبریریوں میں جاتے ہیں جو ان مراکز کے تابع ہیں اس طرح شیعی سرگرمیوں میں تیزی آ جاتی ہے۔ قابلِ غور یہ بات ہے کہ صوفیوں کے ساتھ ایرانی شیعوں کا ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور یہ تعلقات مزید پختہ ہو رہے ہیں۔ اس میں یہ شیعہ یہ چال چلتے ہیں کہ صوفیوں سے کہتے ہیں۔ اہلِ بیت سے محبت میں ہم اور تم دونوں ایک ہو جاتے ہیں ۔

           تھیں میری اور رقیب کی راہیں جدا جدا  

           آخر کو منزل جاناں پر دونوں ایک ہو گئے

 اور یہ چیز آپس میں تعاون کا باعث بن جاتی ہے کہ ان کے عقیدہ کی بنیاد ایک ہے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ مادی اور مالی لالچ بھی دیتے ہیں۔ اس سے ان کے ان شیوخ سے رابطے اور پختہ ہوتے ہیں۔ اور شیعوں کو ان شیوخ کے مریدوں تک رسائی حاصل کرنے میں آسانی رہتی ہے۔ اور انہیں ان کے سامنے تقریر کرنے اور لیکچر دینے کا موقع مل جاتا ہے، یہ ان کی بستیوں اور مساجد میں انہیں شیعیت کا درس دیتے ہیں اور یہ بات بڑی مؤثر ثابت ہو رہی ہے کہ ان کا بنیادی نقطہ اہلِ بیت سے محبت کرنا متفق علیہ ہے۔ اس سے تعاون ہو رہا ہے، یہ چیز خواہ فرد ہو یا جماعت ظاہر ہے اثر اندازہ ہوتی ہے اور پھر یہ نقطہ نظر ایک ہے، لہٰذا آپس میں تعاون کریں سوڈان میں ایران کے شیعوں نے یہی چیز پیدا کی ہے اور اسی کو ملحوظ خاطر رکھا ہے اور اسے وہ پورا کر رہے ہیں، ایرانی سفارت کے ذریعے، مراکز کی شکل میں چوکیداروں کی صورت میں خدمت گاروں کے روپ میں سیکرٹری کے طور پر ڈرائیوروں اور مترجموں کے انداز میں یہ شیعیت پھیلا رہا ہے۔ اس ملازمت میں کوئی جفاکشی سے کام کرنے کا پابند نہیں کیا جاتا، بس جتنا ممکن ہو اتنا کرتا ہے، اصل تو شیعہ تعلقات قائم کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں سوڈان میں شیعہ ایسے اقدامات کر رہے ہیں جو معاشرہ میں ضروری ہیں اور مفید ہیں، مدارس قائم کر رہے ہیں ادارے اور تنظیمیں وجود میں لا رہے ہیں اور ثقافتی مراکز بنا رہے ہیں جن کے ذریعے عقیدہ شیعیت پھیلایا جا رہا ہے، در پردہ یہ ساری کارستانی ایرانی سفارتخانہ کی ہے، جو ملکوں میں معاشرہ کو شیعیت میں ڈھالنا چاہتا ہے، ان میں سے نمایاں خرطوم یونیورسٹی ہے جو ان کی ثقافت کا مرکز ہے، یہ ہندوستان کے سفارتخانہ کے قریب ہے۔ یوں سمجھیں یہ شیعیت کی فکر کی اشاعت میں مدبر عقل کی حیثیت رکھتی ہے۔ 

صفحہ 2 از 3