وہ ممالک جہاں شیعہ موجود ہیں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

وہ ممالک جہاں شیعہ موجود ہیں

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 4 از 4

دبئی میں ایرانی شیعوں کی ایک جماعت ہے میگور اور برطانوی اس کا لیڈر ہے۔ قطر میں تاج کو جاسوسی اور منصوبہ بندی کا مرکز قرار دیا گیا ہے یہ برطانوی دارالاعتماد میں باقائدہ رابطہ رکھتا ہے۔ بعض ایرانی شیعہ خلیج عربی میں تجارت کے میدان میں نمایاں ہیں، یہ بڑے نامور تاجروں میں شمار ہوتے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔ بھبھائی، کاظمی، مزیدی، سلیمان حاجی حیدر ولاری اور اس کی اولاد، عبدالرضا اسماعیل اشکنائی محمد صدیق خلیل لاری، اکبر رضا، فریدونی، قبازرد، معرفی، بوشہری، دشتی وغیره۔ 

ایرانی تاجر بڑی بڑی کمپنیوں پر چھائے ہوئے ہیں ایک کمپنی استیراد المواد الغذائیہ ہے استيراد الخضار اور اعمال الصیرفہ قابلِ ذکر ہیں یہ ہر تجارت پر تسلط جمانے کے لئے کوشاں ہیں اور برآمد و درآمد اور بڑی پرانی فوڈ کمپنیوں پر ان کی نظر ہے علاوہ ازیں یہ رہائشی علاقوں اور زمینوں اور زرعی زمینوں اور جائے نماز کی تجارت وغیرہ پر چھا جانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں ۔ 

خلیج کی ریاستوں میں ایرانی شیعہ رہائش اختیار کرنے کے بہانے اسلحہ کی تجارت کرتے ہیں۔ 1961ء میں بحرین پر حملوں کے درمیان یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایک شیعہ کے گھر کافی تعداد میں اسلحہ ہے جسے "سردار" کہتے ہیں، ایک اور ایرانی کے گھر اسلحہ کی اطلاع ملی جو کہ ایک معمار تھا، بعد میں پتہ چلا کہ وہ ایرانی فوج میں ملازم ہے۔ 1965ء میں چار آدمیوں سے اسلحہ برآمد ہوا جو ایرانی شیعہ تھے یہ حکومت قطر میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار ہوئے بعد میں ان کا معاملہ پردہ راز میں چلا گیا وجہ یہ تھی یہ اسلحہ ایرانی تاجروں کے لئے لایا گیا تھا جنہوں نے قطر کی شہریت اختیار کر رکھی تھی۔ اور یہ اعلیٰ سوسائٹی میں شمار ہوتے تھے۔

 کویتی حملوں کے دوران 1965ء میں سالمیہ کے محلّہ میں دھماکہ ہوا تب پتہ چلا کہ ایرانی بیکری میں اسلحہ تھا۔ ایرانی ایک اور بیکری میں بھی اسلحہ چھپانے کا انکشاف ہوا تھا۔ علاوہ ازیں سمندری رستہ بھی اسلحہ سپلائی ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔ یہ خلیج میں موجود ایرانیوں تک پہنچایا جاتا تھا۔ دبئی اور بحرین میں اسلحہ کی سپلائی دوائیوں کے باکسوں میں بند کرکے کی گئی جو ایران سے آئے تھے بحرین کے بازار منامہ میں ایک دوائیوں کی دکان جس کا مالک جعفر تھا وہاں سے کافی تعداد میں اسلحہ پکڑا گیا۔ 

1964ء میں ایرانی ڈاکٹروں کی زمین میں جو کہ رأس الخیمہ میں ان کے لئے مخصوص تھی اس کی ایک کھیتی سے اسلحہ ملا یہ کوئی ڈیڑھ سو کے قریب افراد لگے ہوئے تھے کہ اس اسلحہ کو جمع کریں ڈاکٹروں سے ملنے کے بہانے یہ اسلحہ پہنچاتے تھے، جسے منظّم اور خفیہ طریقہ سے یہاں پہنچایا جاتا۔ 1965ء میں شیعوں کے حسینی مرکز سے جو قطر کے جھرمیہ کے علاقہ میں تھا۔ فوج نے آدھی رات کے وقت چھاپہ مارا وہاں بیس آدمی ایرانی شیعہ جنگی مشقیں کر رہے تھے انہیں گرفتار کیا اور سارا اسلحہ ضبط کر لیا۔ انہوں نے حسینی مرکز کو بھی اپنی خفیہ، مشکوک اور خطرناک سرگرمیوں کا مرکز بنا رکھا ہے۔ حکومت کویت میں شیعوں کی سرگرمیوں کی جستجو کی گئی ہے کہ یہ اپنے منصوبوں کی تکمیل میں بہت قریب ہو چکے ہیں، حالانکہ انہوں نے لمبی مدت کے لئے بنائے تھے ان کی بائیس امام بارگاہیں ہیں اور شیعوں کی یہ امام بارگاہ صرف نماز کے لئے نہیں ہوتی وہاں ان کے اجتماعات ہوتے ہیں نشر و اشاعت کا ادارہ ہوتا ہے اور اس میں متعدد کمیٹیاں ہوتی ہیں جو ان کے خاص و عام معاملات کو منظّم کرتی ہیں وہاں کتابیں تقسیم کرتے ہیں اور شیعی لٹریچر شائع کرتے ہیں۔ جو ان کے گمراہ کن نظریات کا پرچار کرتا ہے۔ 

کویت میں شیعوں نے صرف اپنی امام بارگاہوں پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ انہوں نے قلعہ نما حسینی مراکز تعمیر کر رکھے ہیں مختلف علاقوں میں ان کے تقریباً ساٹھ سے زیادہ حسینی مراکز ہیں۔ دعیہ میں دس سے اوپر میں نبید الجار میں نو سے اوپر ہیں عبداللہ سالم کے علاقہ میں دو حسینی مرکز ہیں منصورہ میں دس سے اوپر ہیں مشرق کے علاقہ میں سولہ سے اوپر ہیں صلیخات میں بارہ سے اوپر ہیں۔ 

علاوہ ازیں کویت میں شیعوں کے طبع خانے ہیں جو کتابچے اور پمفلٹ تقسیم کرتے ہیں اور یہ مفت بانٹتے ہیں۔ اور یہاں کمرے بھی موجود ہیں جہاں کویت کے باہر سے آنے والے شیعہ ٹھہرتے ہیں۔ 

کویت میں شیعوں کے ادارے اور تنظیمیں بھی ہیں جیسا جمعیت الثقافة الاجتماعیہ ہے جو حولی کے علاقہ میں ہے یہ کویت کی تنظیم الشباب کی سرپرستی کرتی ہے ایک شیعوں کے میٹرک کے طلباء اور علمی اداروں کی تنظیم ہے یہ اس کی بھی سر پرستی کرتی ہے۔

 یہ جائیدادیں، عمارتیں بھی خریدتے ہیں ان کا مقصد ہے کہ ان کے اپنے محلے ہوں یہ سنیوں سے بڑی مہنگی قیمت پر مکانات خریدتے ہیں یا گھروں کا تبادلہ کرتے ہیں اور جائز و ناجائز ہر حربہ اختیار کرتے ہیں صرف اس لئے کہ یہ اپنا خاص محلہ بنائیں ۔ انہوں نے اپنے غرباء شیعوں کو چند سالوں میں اپنے پاؤں پر کھڑا کیا ہے، اس لئے کہ ہمارے مستقل محلے بن جائیں جہاں شیعوں کے علاوہ دوسرا نہ رہتا ہو۔ ان کی ان منصوبہ بندیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ یہ خلیجِ عرب میں وزنی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ بحرین میں یہ تقریبا 50/100 ہیں ۔ دبئی اور دبئی اور شارجہ میں 30/100 میں کویت میں 20/100 ہیں۔ عراق میں 50/100 ہیں۔


صفحہ 4 از 4