وہ ممالک جہاں شیعہ موجود ہیں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

وہ ممالک جہاں شیعہ موجود ہیں

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 3 از 4

سعودی عرب میں شیعہ مختلف علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور کہیں زیادہ ہیں کہیں کم ہیں۔ مدینہ منورہ میں شیعوں کی متعدد جماعتیں ہیں۔ ان میں سے ایک نخاولہ ہے ان کی اکثریت اثنا عشری شیعوں پر مشتمل ہے۔ یہ مسجدِ نبویﷺ کے جنوب میں رہتے ہیں اور جنوب مشرق میں زیادہ ہیں ان کے ہاں جلدی شادی کرنے کی وجہ سے اور اجتماعی شادیوں کی بناء پر ان میں شادی کی زیادہ سہولت کی وجہ سے ان کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نخاولہ مختلف قبائل میں پائے جاتے ہیں۔ 

شریم، خوالده، دراوشہ دواوید، محاربہ، فار، اصابعہ، زوابعہ، وتشہ، زیرہ، جرافیہ، معاریف   وغیره میں پائے جاتے ہیں۔

بعض القاب اور نسبتیں ایسی ہیں جنہیں نخاولہ استعمال کرتے ہیں اور سنی لوگ بھی وہ نسبت رکھتے ہیں۔ ہم ان کی وضاحت کیے دیتے ہیں تاکہ فریب خوردگی سے محفوظ رہ سکیں۔ اور شیعہ دھوکہ دہی اور جھوٹ کا جال بننے پر در پردہ جو اپنی پرسکون انداز میں سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں ان سے آگاہ ہو سکیں۔ 

(الفحل) یہ لقب اہلِ سنت استعمال کرتے ہیں۔ نخاولہ میں بھی یہ نسبت پائی جاتی ہے یہ وداوید کی ایک قسم میں سے ہے۔

(الحربی) یہ اہلِ سنت کے قبائل استعمال کرتے ہیں نخاولہ بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ دھوکہ دینے کے لیے الحربی حاء پر زبر سے پڑھتے ہیں۔

(انحفیری) قصیم کے کچھ سنی قبائل استعمال کرتے ہیں۔ مگر نخاولہ شیعہ بھی یہ نسبت لگاتے ہیں۔ 

(العیسائی) یہ حضرمی اہلِ سنت استعمال کرتے ہیں لیکن نخاولہ شیعہ بھی استعمال کرتے ہیں۔

 (الصافی) (الصاوى) (المدنی) (المالکی) (السمیری) (الجرید) یہ ساری نسبتیں سنی استعمال کرتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ نخاولہ شیعہ بھی انہیں استعمال کرتے ہیں، مدینہ کے بعض شیعہ قبائل میں نخاولہ شیعوں کی تعداد بہت کم ہے، ان میں تشیع بعد میں آیا ہے۔ ان کے آباء و اجداد زیادہ تر سنی تھے۔ جہالت اور مالی لالچ اور سخت غربت نے انہیں شیعیت کی طرف مائل کیا اور شیعہ ان سے حسنِ سلوک کرتے تھے جس کی وجہ سے یہ شیعہ بن گئے۔ تاہم دیگر قبائل کی بہ نسبت یہ قلت میں ہیں ان کے زیادہ تر رشتہ دار اب بھی سنی ہیں، حرب قوم کا قبیلہ عوف جو ہے ان کی تعداد اس میں بہت کم ہے۔ قبیلہ "کلی" میں تھوڑی سی زیادہ ہے۔ یہ حرب کے قبائل میں سے سب سے بڑا قبیلہ ہے۔ اس میں چند شیعوں کے قصہ خواں ہیں وہ بھی چند گھر ہیں۔ زیادہ تعداد اور زیادہ آبادی سنیوں کی ہے۔ (الحمد للہ علیٰ ذالک)

 بنو عمرو قبیلہ میں اہلِ تشیع زیادہ ہیں۔ تاہم اگر مجموعی تعداد کا موازنہ کیا جائے تو یہ معمولی ہیں۔ لیکن ان کی خطرناکی یہ ہے کہ یہ سنیوں کے ناموں پر نام رکھ کر ناداں آدمی کو گمراہ کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ مشہدی شیعہ بھی ہیں۔ مکہ مدینہ کے قریب پائے جاتے ہیں یہ تعداد میں بہت ہی کم ہیں محمد بن عیسیٰ مشہدی ان کا سیکرٹری ہے۔ مدینہ میں بڑے بڑے اشراف شیعہ ہیں۔ نخاولہ کے بعد ان کی تعداد ہے۔ یہ بنو ہاشم میں سے سادات ہیں۔ ایک قسم سنیوں کی ہے اور ایک قسم شیعوں کی ہے۔ 

"سوارجیہ" میں ایک بستی انہی اشراف کی ہے، یہ مدینہ منورہ کے مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مکہ مکرمہ، جدہ، طائف اور سعودیہ کے جنوبی علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ احساء، قطیف میں زیادہ ہیں۔ مکہ، مدینہ، جدہ میں کم ہیں۔ ان میں سے زیادہ کے رابطے حزب اللہ لبنانی کے ساتھ ہیں۔ ریاض میں اسماعیلی مکارمہ شیعہ پائے جاتے ہیں۔ سعودیہ کے جنوب الحبیبہ میں پائے جاتے ہیں اور نجران شہر میں بھی محدود تعداد میں شیعہ موجود ہیں۔

دوسری بحث:

 1971/11/30ء میں حکومتِ ایران نے فوجی حملہ کیا اسے برطانیہ کی حمایت حاصل تھی۔ اس نے ان عربی جزیروں پر حملہ کیا تھا۔ طمبہ کبریٰ اور طمبہ صغریٰ پر حملہ کیا یہ دونوں رأس الخیمہ کے ماتحت تھے۔ تیسرا جزیرہ ابو موسیٰ ہے جس پر حملہ کیا۔ یہ شارجہ کے زیرِ اثر تھا اس کے رہائشیوں کو ساحل عمان کے ملک امارات میں دھکیل دیا حکومتِ ایران نے بحرین کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ یہ تینوں جزیرے ہمارے حوالہ کرو قبضہ کرنے کے باوجود تین ماہ بعد یہ مطالبہ پورا ہوا تھا۔ یہ بھی تجارت کی صورت میں ہوا خلیج سے برطانیہ کے جانے (48) گھنٹے بعد ان کا قبضہ دیا۔ 

یہ جزِیرے ساخت یا آبادی کی کثرت کے لحاظ سے اہم نہ تھے ہرمز کی تنگنائے کی وجہ سے یہ تجارتی موقع محل کے لحاظ سے یہ نہایت ہی اہم تھے۔ (75 فیصد عالمی تیل یہاں سے ہو کر جاتا ہے 18 فیصد متحدہ امریکہ ریاستوں کا اور یورپ کا 52 فیصد)، جو ہیں ہر (11) منٹ بعد تیل کی سب سے بڑی نقل و حرکت اسی ہرمز کی تنگنائے سے ہو رہی ہے، یہ سب کچھ ایرانی فوجی دستوں کی حمایت و نگرانی سے ہو رہا تھا۔ اس تنگنائے کا حدود اربعہ بیس میل ہے عراقی، کویتی، سعودی اور قطر کے تیل کے ٹینکر یہیں سے گزرتے ہیں علاوہ ازیں ابوظہبی کے تیل کی گزرگاہ بھی یہی تھی۔ 

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تینوں جزیرے ایران کے لیے کس قدر اہم تھے اور بعض عرب جزائر ایسے تھے جنہیں ایران نے بغیر کسی مدافعت کے قبضہ میں لے لیا تھا۔ ایک جزیرہ ثرٰی بھی انہی میں سے ہے جو ابوظہبی اور شارجہ کے درمیان واقع ہے۔ یہ 1964ء کی بات ہے وہاں انہوں نے ایک اہم جنگی ائرپورٹ بھی بنا رکھا ہے۔ 1950 میں جزیرہ ہنگام پر جو کہ رأس الخیمہ کے قریب ہے اس پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ اسی طرح ایرانی شیعوں نے جزیرہ الغنم، جو کہ عمان کے تابع ہے اس کے تجارتی لحاظ سے اہم ہونے کی بنا پر اس پر قبضہ کر لیا۔ 

فارسی تمام حکومتیں یہ پختہ یقین رکھتی ہیں کہ خلیج فارس، شط العرب سے لے کر مسقط تک اس کے جزیروں سمیت اور بندرگاہوں سمیت، سارا فارس ان کا ہے۔ کیونکہ ان علاقوں کو فارسی کے علاقے کہہ کر منسوب کیا جاتا ہے، لہٰذا یہ ہمارے ہیں عربوں کے نہیں۔ چودہویں ہجری کے آغاز میں ایرانی شیعوں نے اسی اعتقاد کے پیشِ نظر لڑنا شروع کر دیا تھا۔ بحرین میں ایرانیوں کی تنظیم کا سربراہ جسے گلوم کے نام سے پکارتے ہیں یہ برطانیہ کے داراعتماد میں باورچی کا کام کرتا تھا۔ یہ دس برسوں میں بڑے اہم تاجروں کی فہرست میں آ گیا ہے۔ بحرین کی حکومت میں جاگیر فروش ہے۔ سلمان کی بندرگاہ میں بحری جنگی کشتیوں کا نمائندہ ہے۔ 

صفحہ 3 از 4