وہ ممالک جہاں شیعہ موجود ہیں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

وہ ممالک جہاں شیعہ موجود ہیں

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 4

مزید سنیں! مچھلی منڈی جو مشرقی علاقہ میں ہے یہ بھی ان شیعوں کے زیرِ اثر ہے۔ قطیف میں مچھلی بازار سارے سعودیہ کا مرکز ہے۔ یہاں یہی شیعہ تجارتی جگہوں بڑی بڑی دکانوں اور ڈسپنسریوں اور تجارتی مراکز اور بیکریوں اور طبع خانوں اور مختلف کمپنیوں کے مالک ہیں۔ اس میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس مشرقی علاقہ میں جو پریشان کن چیز ہے وہ یہ ہے کہ اس علاقہ میں سنی علماء کی بہت قلت ہے۔ تھوڑی تعداد میں ہیں، قطیف میں شیعوں کے بڑے بڑے علماء رہتے ہیں۔ ان کے ہاں طلبا اور پیروکار لوگوں کی تعداد اپنے مذہب کی تبلیغ کر رہی ہے۔ قطیف کی ہر بستی میں شیعہ عالم موجود ہے اور شیعوں کے نزدیک مقدس اور صاحب مرتبہ واعظ جو ہیں وہ بھی موجود ہیں۔ سعودیہ میں کئی جگہیں ایسی ہیں جن میں ان کے حسینی مراکز ہیں اور شیعہ امام بارگاہیں ہیں، جب آپ کو موقع ملے اذان کے وقت قطیف میں داخل ہوں تو اشہد ان علیا ولی اللہ اور حی علی خیر العمل کی صدائیں آپ کے کانوں میں گونجیں گی۔ ان امام بارگاہوں میں یہی ٹولیوں میں بیٹھے ہیں رانوں پر ہاتھ مار رہے ہیں، کربلا کی کنکریوں پر سجدہ کر رہے ہیں اور اپنی نماز اپنے طریقہ پر ادا کر رہے ہیں، یہاں ان کی مسجد زہراء ہے۔ مسجد عمار بن یاسر ہے، مسجد سیدنا حسینؓ ہے، مسجد سیدنا علیؓ ہے، مسجد قلعہ ہے، مسجد سیدنا عباسؓ ہے۔ ان کے حسینی مرکز ان کی اطلاعات کے منبر تصور کیے جاتے ہیں اور سعودی شیعوں کے لیے ایک کشادہ مجمع گاہ ہیں ان میں یہ شادیاں طے کرتے ہیں۔ خوشیاں مناتے ہیں، تعزیہ کرتے ہیں ان کی بہادری پر انہیں اکساتے ہیں، ان میں سنی لوگوں کے خلاف انتقام کی آگ بھڑکاتے ہیں۔ 

جو بات حیران کن ہے وہ یہ ہے کہ ان کے حسینی مرکز ایک ایک قبیلہ میں ایک ایک سے بھی زیادہ تعداد میں پھیلے ہوئے ہیں۔ وہاں نذرانے پیش ہو رہے ہیں اور ان پر پاکیزگی کی مہر لگی ہوتی ہے۔ یہ مراکز، حسینیہ زہراء ہیں۔ سیہات میں حسینیہ امام منتظر ہے اور حسینیہ الناصر ہے، قطیف میں حسینیہ الزائر ہے۔ حسینیہ سیدنا زین العابدینؓ ہے حسینیہ الرسول الاعظم ہے۔ جو عجیب تر بات ہے وہ یہ ہے کہ بہت سارے حسینی مرکز حزب اللہ البانی کی سپورٹ کرتے ہیں ایک خفیہ راز دار نے بتایا کہ ہر سعودی شیعہ ان حسینی مراکز میں آتا ہے اور جو کچھ وہاں ہوتا ہے وہ سنتا ہے، واعظ کے پاس بیٹھتا ہے، اس کی مجلس میں حاضر ہوتا ہے، ان کے مذہب کی ابتدائی خرابیاں جو ان کے بڑے چھوٹے، مرد و عورت کے دلوں میں ہوتی ہے وہ مضبوط کرتا ہے۔

 شیعہ کی ہر بستی میں فلاحی ادارہ ہے۔ جو بے شمار منصوبہ جات پورے کرتا ہے اور شیعوں تک اعانت پہنچاتا ہے، احساء میں یہ فلاحی ادارہ "جمعیۃ العمران الخیریہ" کے نام سے ہے، دوسرا ادارہ "جمعیۃ المواساة الخيريہ" ہے۔ ایک "جمعیۃ البطالیہ" ہے۔ یہ فلاحی ادارے بہت سارا تعاون کرتے ہیں، شادی کے لیے تعاون کرتے ہیں، عوامی مفادات میں کام کرتے ہیں، خصوصاً جہاں شیعہ رہتے ہیں وہاں بڑا خیال رکھتے ہیں اور حسینی مرکز بناتے ہیں ، مردوں کے لیے غسل خانے اور قبرستان کی اصلاح کرتے ہیں شیعہ تنظیم مختلف آلات بھی خریدتی ہے، کمپیوٹر، ٹائپ رائٹر، درزی کا کام علاوہ ازیں ریاض الاطفال کے نام سے مدارس قائم کرتے ہیں اور ان کا بڑا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ ادارے بیماروں کا بہت خیال رکھتے ہیں اور انہیں علاج و معالجہ کی سہولتیں مہیا کرتے ہیں۔ ان خیراتی اداروں کے اخراجات (2) ملین، تین سو اکیاسی ہزار ریال ہیں خیراتی ادارہ "المنصور الخیر" یہ جو کہ احساء میں ہے پچھلے سالوں میں سے ایک سال اس نے (2) ملین چھ لاکھ ریال خرچ کیے ہیں۔ سعودی شیعوں کا عقیدہ وہی ہے جو دنیا کے دوسرے شیعوں کا ہے۔ یہ شرک اور بت پرستی کے عقیدہ پر ہیں اور قبر پرست ہیں۔ توحید کے ملکوں میں یہ اپنے شرکیہ مظاہر اور بدعات علی الاعلان سرانجام دے رہے ہیں اور یہ قبروں کو پختہ کرتے ہیں اور انہیں قبہ نما بلند بناتے ہیں اور ان پر عمارتیں تعمیر کرتے ہیں اور میت قبر کے قریب فوت شدہ کی فوٹو رکھتے ہیں اور کبھی قبر پر فاتحہ پڑھتے ہیں اور اس پر ستون بناتے ہیں اور بعض قبروں پر عَلم گاڑھ دیتے ہیں۔ 

قطیف کے ایک گاؤں میں ایک قبر ہے ان کا خیال ہے وہ سیدنا یسع علیہم السلام کی قبر ہے، اس پر انہوں نے عَلم گاڑھ رکھے ہیں اور اس کی ایک جانب انہوں نے نماز کے لیے جگہ بنا رکھی ہے اور اس کے قریب ایک باکس سا بنا رکھا ہے اس میں شرکیہ ورد وظائف اور تسبیحات ہیں۔ اور ایک باکس ہے یہ قبر کے نذرانوں کے لیے ہے اس قبر کے نزدیک اور بھی چونے گچ پکی قبریں موجود ہیں ۔ قطیف اور اس کے اردگرد کی تمام قبریں ایک مناسب ترتیب سے ہیں۔ سعودی شیعہ قبروں اور مزاروں کی تصاویر بھی پھیلاتے ہیں اور ان کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔ جیسا کہ کاظم کا روضہ ہے،سیدنا علیؓ اور سیدنا باقر کا روضہ ہے، سیدنا حسینؓ کا روضہ ہے۔

 یہ تصاویر رنگین ہوتی ہیں انہیں بازاروں میں اٹھائے پھرتے ہیں اور سر عام فروخت کرتے ہیں اپنے علماء اور مجتہدین کی تصاویر بھی دست بدست لیتے ہیں جیسا کہ خمینی اور خامنئی ہے اور انہیں حاصل کر کے اور گھروں اور دکانوں میں لٹکا کر اور فروخت کر کے فخر کی کمائی تصور کرتے ہیں یہ سٹکرز بھی فروخت کرتے ہیں جن میں ان کے ائمہ کے نام، جائے پیدائش اور وفات لکھی ہوتی ہے۔ اور جہاں کی مقبرے ہیں وہ مقامات لکھے ہوتے ہیں۔ یہ زینت و زیبائش اور انورار بھی روشن کرتے ہیں اور بینرز بھی لگاتے ہیں اور حلویٰ بھی تقسیم کرتے ہیں اور اپنی حسینی مراکز میں لیکچر کے لیے مجالس بھی منعقد کرتے ہیں اور اپنے مذہبی تہوار بھی مناتے ہیں۔ جیسا کہ غدیرِ خم کی عید اور امام کی ولادت کی خوشی کا دن ہے۔ یہ سیاہ جھنڈے لہراتے ہیں، قصائد پڑھتے ہیں اور ایسے بینرز لٹکاتے ہیں جن پر آہ و بکاہ کے الفاظ تحریر ہوتے ہیں۔ سیدنا حسینؓ اور دیگر شیعہ اماموں کی وفات پر غم و اندوہ کا اظہار کیا ہوتا ہے۔ ایک بینر پر یہ لکھا تھا: 

يا حسين الدنيا بعد فراقك مظلمة۔ 

اے سیدنا حسینؓ دنیا تیری جدائی کے بعد اندھیرا۔ 

شیعوں کی گھنی آبادیاں

صفحہ 2 از 4