سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل اور دیگر سیدات خانہ نبوی…

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل اور دیگر سیدات خانہ نبوی کے باہمی فضائل

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

ج: جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ کرتے ہوئے سیدنا طلحہ وغیرہ کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں تو ایک آدمی نے ان کی شان میں بے ادبی اور گستاخی کرنے کی کوشش کی، اس وقت سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ کی شان میں کیا کہہ رہا ہے تو ام المؤمنینؓ کا احترام کیوں نہیں کرتا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک وہ جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہوں گی۔ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات کہی اور وہ خاموش رہے۔

(فضائل الصحابۃ للامام احمد: جلد 2 صفحہ 868)

5۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیاتِ تخییر نازل ہوئیں:

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ وَاُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحًا جَمِيۡلًا ۞ وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡماً۞ (سورة الأحزاب آیت 28، 29)

ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں سے کہو کہ: اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے۔

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو دو میں سے ایک چیز پسند کرنے کا اختیار دیا۔ تو تمام ازواج مطہراتؓ نے اللہ، اس کے رسول اور دارِ آخرت کو پسند کیا اور دنیاوی عیش و عشرت کو ٹھکرا دیا۔ یہ ان کی صدقِ قلبی کی دلیل ہے اور اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مادی فوائد نہ رکھتے تھے جو ان کی ترغیب کا باعث بنتے اور آپﷺ اپنے ساتھ اپنی زوجات کو تنگ حالی پر صبر، صدق ایمان اور حقیقت تقویٰ کی تلقین کرتے۔ چنانچہ ان کی طرف سے یہ اختیار تقویٰ پر مبنی تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے شرف قبولیت سے نوازا اور انھیں خصوصی تکریم عطا کی:

الف: اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بعد کسی اور سے شادی کرنے سے روک دیا۔

ب: اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو منع کر دیا کہ ان میں سے کسی کو طلاق دیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی زوجات آخرت میں بھی آپﷺ کی زوجات ہوں گی اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بھی ان میں سے کسی کے ساتھ شادی کرنا حرام کر دیا۔

(شذی الیاسمین فی فضائل امہات المومنین: صفحہ 17۔)

6۔ اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہراتؓ سے شرک وغیرہ جیسی نجاست کی نفی کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞ (الأحزاب آیت نمبر 33)

ترجمہ: اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔

یہ بات ہم نے اس قول کی بنیاد پر کہی جس کے علاوہ کوئی دوسری رائے صحیح نہیں ہے۔ یعنی اہل بیت میں زوجات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہیں۔

7۔ عمل صالح اور اطاعات کے کاموں میں ان کا اجر دوگنا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَنۡ يَّقۡنُتۡ مِنۡكُنَّ لِلّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتَعۡمَلۡ صَالِحًـا نُّؤۡتِهَـآ اَجۡرَهَا مَرَّتَيۡنِ وَاَعۡتَدۡنَا لَهَا رِزۡقًا كَرِيۡمًا ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 31)

ترجمہ: اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی تابع دار رہے گی اور نیک عمل کرے گی، اسے ہم اس کا ثواب بھی دو گنا دیں گے، اور اس کے لیے ہم نے باعزت رزق تیار کر رکھا ہے۔

ئ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں کا تذکرہ تلاوت قرآن اور حکمت کے ساتھ کیا ہے۔ یہ ایسا شرف ہے جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَاذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلٰى فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالۡحِكۡمَةِ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيۡفًا خَبِيۡرًا  ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 34)

ترجمہ: اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور حکمت کی جو باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔ یقین جانو اللہ بہت باریک بین اور ہر بات سے باخبر ہے۔ 

بہرحال درج بالا چند فضائل کو جمع کر کے یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ امہات المؤمنینؓ کے بس اتنے ہی فضائل ہیں۔ نہیں بلکہ امہات المؤمنینؓ کے قرآن و حدیث میں اتنے فضائل و مناقب موجود ہیں کہ ان کو جمع کر کے کئی ضخیم جلدیں تیار ہو سکتی ہیں، تاہم ہمارے موضوع سے متعلق مذکورہ فضائل ہی کافی سمجھے جائیں۔ عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہے اور آزاد کے لیے بشارت کافی ہے۔


صفحہ 2 از 2