تفسیر آیات رضوان - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسیر آیات رضوان

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 8 از 9

رسولﷺ موید بہ نیر وے بخت بیامد سوئے سایہ آن درخت برو تکیہ فرمود خیر البشر بعزت ز طوبیٰ گزشت آن شجر بفرمود تاہل دین حنیف بیائیدنزدش وضیع و شریف دلیراں ہماں دم بفرمان او کمر بستہ رفتند از چار سو چوں مجمع نمودند انصاردیں بدیشاں چنیں گفت سلار دیں کہ جہال گردن کشان قریش نہاد نداز کثرت وکین و طیش فراترز اندازہ خولیش پاء کنوں نیست مارا بجز جنگ رای  بپاسخ بگفتند اصحاب دیں کہ یاری وہت باد جاں آفریںبحکم تو بو دیم در انتظار چوں بر جنگ رائے تراشد قرار قدم پیش بگزار و مارا بہ بیں کہ چومی می زنیم آسماں بر زمین بدیشاں نبی آفریں کرد و گفت کہ تائید حق باشما باد جفت ولی از شماخواہم اے اہل دیں بحکم خدا بیعت ایں چنیںکہ وگرآن کہ از گردش آسماں نگردید فیروز بر دشمنان ہمہ گشتہ گر دید درکار زار نہ گیرید درپیش راہ فرار

خلاصہ: حسنِ اتفاق سے حضورﷺ درخت کے سایہ میں تشریف لائے آپﷺ کے اس درخت سے تکیہ اور سہارا کی وجہ سے اس کی شانِ طوبیٰ سے بھی زیادہ ہو گئی حضورﷺ نے ہر طبقہ کے لوگوں (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) سے کہا کہ وہ قریب آ جائیں چاروں طرف سے فوراً دلیرانِ اسلام جمع ہو گئے حضورﷺ ان سے مخاطب ہوئے کہ قریش حد سے بڑھتے چلے جا رہے ہیں اس لیے سوائے جنگ کے اب کوئی چارہ کار نہیں ان دیندار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ کو جواب دیا اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو ہم تو آپ کے حکم کے منتظر ہیں اگر آپ کی رائے مبارک جنگ کرنا ہے تو دیکھیں کہ ہم آسمان کو کس طرح کاٹ کر زمین پر لاتے ہیں حضورﷺ نے آپ کو شاباش فرمائی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ کی امداد آپ کے شاملِ حال ہو میں آپ سے حکمِ خداوندی کے تحت بیعت لینا چاہتا ہوں کہ دشمن کے خلاف اس قدر ثابت قدمی سے لڑیں کہ حرم پاک حاصل کر لیں دوسرا یہ کہ اگر بالفرض آپ دشمن پر کامیابی حاصل نہ کر سکیں اور جنگ کا نقشہ بدل جائے تو آپ تمام اپنی جانوں کو اس میدانِ کارزار میں قربان کر دیں گے اور راہِ فرار کبھی بھی اختیار نہ کریں گے۔ 

فائدہ: یہ بیعت صرف جان قربان کرنے کے لیے لی گئی اور دیکھیے کہ ان جانثاروں نے کس شوق اور کس خوشی سے حضور اکرمﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر جانثاری کا عہد کیا گو اس موقع پر جانثاری کا عملی مظاہرہ نہ ہو سکا مگر وہ لوگ اس جماعت میں سے ہی تھے جنہوں نے اس عہد کو یوں پورا کیا کہ روم کی سلطنت جو چار صد سال سے ایک خاندان میں چلی آرہی تھی اس میں دین کا ڈنکا بجا دیا اور ایران کی حکومت جس کے استحکام میں گیارہ صدیاں گزر گئی تھیں کفر و ضلالت سے اس مقدس گروہ کے ہاتھوں پاک ہوئی جس کی قیادت جانثارِ رسولﷺ سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے ہاتھ میں تھی سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے تیرا ہجری میں مسندِ خلافت سنبھالی سب سے پہلے حضور اکرمﷺ کے نامہ مبارک کی بے حرمتی کرنے کا انتقام لینے کے لیے ایرانیوں سے جنگ کرنے کا منصوبہ بنایا اور 15 ہجری میں ایک فیصلہ کن جنگ ہوئی اس میں سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے اضطراب کا وہی عالم تھا جو حضورﷺ کا جنگِ بدر میں تھا سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے صبح کی نماز میں بھی مسلمانوں کی فتح کے لیے دعا قنوت پڑھنا شروع کر دیا اور عام بھرتی کا اعلان کر دیا سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کو سپہ سالار بنا کر اس محاذ پر بھیجا کل تعداد ساٹھ ہزار بتائی جاتی ہے جن میں ایک ہزار صحابی تھے اور ان میں ننانوے بدری صحابی تھے دوسری طرف ایرانیوں نے اپنی ساری قوت اور ساری دولت اس فیصلہ کن جنگ میں جھونک دی نتیجتاً ایک لاکھ ایرانی قتل ہوئے اور چھ ہزار مسلمان شہید ہوئے اور مسلمانوں کا ایران پر قبضہ ہو گیا اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ 

وَأُخۡرَىٰ لَمۡ تَقۡدِرُواْ عَلَيۡہَا قَدۡ أَحَاطَ ٱللَّهُ بِہَا‌ۚ الخ۔ (سورۃ الفتح آیت نمبر 21)۔

 کے ہاتھوں پورا ہوا۔ قادسیہ کی جنگ میں تائید غیبی کے جو چند واقعات پیش آئے وہ بھی سن لیجئے 

  1. جنگ کے پہلے روز ہرمزان حاکم آزر بائیجان ایک تیز رو گھوڑے پر سوار ہو کر میدان میں آیا اور کہا "آج ہم عربوں کو کچل دیں گے" کسی نے کہا "کہو اگر خدا نے چاہا" جواب میں کہنے لگا "خدا چاہے نہ چاہے" یہ الفاظ سنتے ہی سیدنا منذر بن حسانؓ نے ایک تیر مارا اور وہ گھوڑے سے گرا اور مر گیا۔ 
  2. جنگ کے دوسرے روز سیدنا عمرو بن معدی کربؓ نے ایرانی فوج پر تنہا حملہ کر دیا کئی ایرانی قتل کیے آخر فوج نے انہیں گھیرے میں لے لیا ان کا گھوڑا مارا گیا تو ایک ایرانی سپاہی کے دوڑتے ہوئے گھوڑے کو ٹانگ سے پکڑ کر کھڑا کر لیا ایرانی سوار گھوڑے سے اتر کر بھاگا اور آپ اس کے گھوڑے پر سوار ہو گئے۔ 
  3. جنگ کے پہلے روز ایک ایرانی پہلوان گھوڑے پر سوار اکڑتا ہوا اور بکواس کرتا ہوا میدان میں آیا اس کے مقابلہ میں ایک کمزور پست قد اور دبلا پتلا مسلمان باہر نکلا ایرانی نے پہلے وار میں اسے گھوڑے سے گرا دیا اس نے اپنے گھوڑے کی رسی اپنی کمر سے باندھی ہوئی تھی جب وہ مسلمان کا سر کاٹنے لگا تو اچانک گھوڑا ڈر کر بھاگا اور وہ ایرانی پہلوان کو گھسیٹتا ہوا چلا گیا اس مسلمان نے فوراً اٹھ کر تعاقب کیا اور اسے قتل کر دیا۔
  4.  لڑائی کے اختتام پر ایرانیوں نے دریا کا پل توڑ دیا کہ دارالخلافہ کو مسلمانوں سے بچا لیں سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ نے فرمایا کہ کچھ پرواہ نہیں انہوں نے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اور بارگاہِ الہٰی میں سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے عدل و انصاف کا واسطہ دے کر گھوڑا دریا میں ڈال دیا ساری فوج نے ان کی تقلید کی جب تھک جاتے تھے قدرت الہیٰ سے دریا میں خشک جگہ نمودار ہوتی اور وہ آرام کر لیتے ساری فوج صحیح سلامت دریا کے پار ہو گئی صرف ایک آدمی کا لکڑی کا پیالہ پانی میں رہ گیا جس کو دریا کی لہر نے باہر پھینک دیا۔ 
صفحہ 8 از 9