تفسیر آیات رضوان - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسیر آیات رضوان

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 7 از 9

خندق کا کشفی واقعہ سب کے نزدیک متفق علیہ ہے ان تمام ممالک کے فتح ہونے کے متعلق حقیقت کشف طور پر دکھائی گئی پھر بقول باقر مجلسی بذریعہ وحی یہ پیش گوئی کی گئی اور علامہ باذل کے کہنے کے مطابق حضور اکرمﷺ نے صاف فرمایا: میرے دین کے حامی اور ممد میرے بعد ان ممالک پر مسلط ہوں گے اور مجلسی کے قول کے مطابق حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ "بمن داد" مجھے دیے ان باتوں سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ایران و روم شام و یمن جن لوگوں کے ہاتھوں فتح ہوئے ہیں وہی دین حق کے حامی اعوان و انصار تھے اور ان کا مسلط ہونا بعینہ رسول اللہﷺ کا مسلط ہونا ہے یعنی حضور اکرمﷺ کے سچے جانشین تھے اگر خلفائے ثلاثہؓ کو کامل الایمان حامیانِ دین جانشینِ رسولﷺ تسلیم نہ کیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ معاذ اللہ خدا نے بھی غلطی کی۔ جبرائیلؑ نے بھی دھوکہ کیا اور رسول اللہﷺ نے بھی غلطی کی یا اس پیشگوئی اور اس آیت کا مصداق ڈھونڈنا پڑے گا مگر تاریخ کے اوراق سے خلفائے ثلاثہؓ کے بغیر اس کا کوئی اور مصداق ملتا ہی نہیں۔

اور حیات القلوب صفحہ 271 جلد 2 علامہ مجلس شیعہ یوں فرماتے ہیں:

ابنِ شہر آشوب وغیرہ روایت کردند کہ روزے آنحضرت نظر کردبسوۓ ذراعہای سراقہ بن مالک کہ باریک و پرمویءلود پس فرمود کہ چگونہ خوابدبود حال تو درہنگام دست رنج ہا بادشاہ عجم رادردست ہائے خود کردہ باشی پس چوں در زمان عمرؓ اور ابطلبد و دست رنج ہاے بادشاہ عجم را دست ہائے او کردو فرمود کہ چوں مصر را فتح کنید قبطیاں را مکشید کہ ماریہ مادر ابراہیم از ایشاں است و فرمود کہ رومیہ رافتح خواہید کر دوچوں اور افتح کنید کلیسائی کہ در جانب شرق آن واقع است انرامسجد کنید۔

 خلاصہ: ابنِ شہر آشوب نے اور دوسروں نے بھی بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے سراقہ بن مالک کے بازوؤں کی طرف دیکھا جو بالوں سے پر تھے اور باریک تھے تو فرمایا کہ اے سراقہ تو اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب بادشاہِ عجم یعنی ایران کے کنگن تو اپنے ہاتھوں میں ڈالے گا پس جب سیدنا فاروقؓ اعظمؓ کا زمانہ آیا ان کے زمانے میں مدائن جو دارالخلافہ ایران تھا فتح ہوا تو سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے سراقہ بن مالک کو طلب کیا اور شاہِ ایران کے کنگن سراقہ کے ہاتھ میں ڈال دیے اور حضور نبی اکرمﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جب مصر کو فتح کرو گے تو قوم قبطیہ کو قتل نہ کرنا اور حضورﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جب شہرِ رومیہ کو فتح کرو گے تو وہ گرجا جو جانب مشرق واقع ہے اس کو مسجد بنا دینا۔ 

فوائد: بتاؤ یہ تین پیشنگوئیاں کس زمانے میں پوری ہوئیں الفضل ما شهدت به الاعداء سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے حضور اکرمﷺ کی پیش گوئی کو پورا کرنے کے لیے خود سراقہ کو بلایا اور شاہِ ایران کے کنگن اس کے ہاتھ میں پہناۓ اور باقی دونوں وصیتوں کو بھی نہایت اہتمام سے پورا فرمایا جزاه الله عنا خير الجزاء۔

سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے اپنے عہد میں دین کی حفاظت اور اشاعت کے لیے مسجدیں بنانے کا یہ اہتمام کیا کہ جو مقام قبضہ میں آیا وہاں مسجد بنانے کا فوری طور پر حکم دے دیا اور مساجد میں ائمہ اور موذنوں کا تقرر فرمایا جن کی تعداد چار ہزار تک ہے اور نو سو جامع مسجدیں تعمیر کی گئیں اور بیت المقدس کی تعمیر بھی سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے کرائی اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

إِنَّمَا يَعۡمُرُ مَسَـٰجِدَ ٱللَّهِ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّڪَوٰةَ وَلَمۡ يَخۡشَ إِلَّا ٱللَّهَ‌ۖ فَعَسَىٰٓ أُوْلَـٰٓٮِٕكَ أَن يَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُهۡتَدِينَ۝ (سورۃ التوبہ آیت نمبر 18)۔

 قرآنِ مجید نے سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے کامل الایمان ہدایت یافتہ ہونے کی شہادت دے دی بلکہ قرآنِ کریم تو یہ اعلان کرتا ہے کہ:

مَا كَانَ لِلۡمُشۡرِكِينَ أَن يَعۡمُرُواْ مَسَـٰجِدَ ٱللَّهِ الخ(سورۃ التوبہ آیت نمبر 18)۔ 

اس لیے سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی خدمت اسلام کا انکار نہیں کیا جاسکتا بیعتِ رضوان والوں کی وفاداری اور ان کی شان کا اعتراف اور سیدنا عروہ بن مسعود ثقفیؓ نے اس وقت کیا جب اسلام نہیں لایا تھا علامہ باذل نے حملہ حیدری کے (صفحہ212 جلد 2 ) پر ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔

کہ من آنچہ دیدم زیاران او ازاں سر بکف جانثار ان اودر ایران ودر روم ودر زنجبار نہ دیدم زینک و بدآن دیار کہ دارند پاس شاہ خود چنیں بسائند بر نقش پائش جبیں محمدﷺ گر انداز و آب دہن برآں آب خوں می کند انجمن کہ گیر ند و مالند بر چشم ورد وزاں آب تازہ کنند آبرو  غرض اے دلیران ما نام وننگ نہ دار د برائے شما سرفہ جنگ کہ ایشاں زمابر نہ تابندرو بجا ہائے نازک رسد گفتگو ہماں بہ کہ ایں قصہ کوتاہ کنید ازاں پیش کہ راکند راہ دہيد۔

 خلاصہ: میں نے حضورﷺ کے ساتھیوں کو جان قربان کرنے کے لیے سروں کو ہتھیلیوں پر رکھے ہوئے دیکھا میں نے ایران روم اور زنجبار کے علاقوں میں کوئی ایسا (نیک اور بد لوگوں میں) نہیں دیکھا جو اپنے بادشاہ کی عزت اتنی کرتا ہو جتنی کہ حضورﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ان کی عزت و قدر کرتے ہیں اور جس طرح وہ حضورﷺ کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں دوسرا کوئی نہیں جلتا اگر حضورﷺ منہ سے پانی (تھوک) زمین پر پھینکتے ہیں تو اس کو حاصل کرنے کے لیے جملہ حضرات خون گرانے کو بھی تیار ہوتے ہیں اس (تھوک) کو حاصل کرنے کے کے اپنی آبرو کو تازہ کرنے کے لیے آنکھوں اور چہروں پر ملتے ہیں غرض یہ کہ وہ آپﷺ کے خلاف جنگ کرنے سے گریز نہیں کریں گے حالات نازک مرحلہ پر آ پہنچے ہیں بہتر یہ ہے کہ اس قصہ کو مختصر کریں پیشتر اس کے کہ وہ زبردستی مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے راستہ مانگیں انہیں راہ دے دو۔

فوائد: اہلِ حدیبیہ کی عقیدت جانثاری اور وفاداری کا اعتراف ایک کافر نے کیسے جامع انداز میں کیا اور شیعہ عالم نے ایسا عمدہ بیان کیا اب اس بیعت کی تفصیل بھی علامہ باذل کی زبانی سنئے۔

(حملہ حیدری جلد 2 صفحہ 215)۔

صفحہ 7 از 9