تفسیر آیات رضوان - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسیر آیات رضوان

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 6 از 9

 ان ہر دو شیعہ علماء نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ حضور اکرمﷺ نے پیشنگوئی فرمائی تھی کہ ایران اور یمن کو جلد میری امت فتح کرے گی اور میرا دین وہاں پھیلے گا اور علامہ باذل نے تسلیم کیا کہ یہ زمین عادل سیدنا عمرؓ کے ہاتھوں کفر و ضلال سے پاک ہوئی اور ان کے ہاتھوں وہاں دین اسلام پھیلا جیسے رسول اللہﷺ نے دین من فرمایا تھا اور ظاہر ہے کہ دیندار کے ہاتھوں ہی کوئی زمین کفر و ضلال سے پاک کی جا سکتی ہے ثابت ہوا کہ آیت مدرجہ بالا میں فتوحات کے متعلق قرآنِ کریم کی تمام پیشگوئیاں خلفائے ثلاثہؓ بالخصوص سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے ہاتھوں پوری ہوئیں گویا اس فاتحِ اعظم کا ہاتھ رسولﷺ کا ہاتھ تھا اور اس کا پھیلایا ہوا دین رسولﷺ کا دین تھا اگر ایسا نہیں تو تاریخ سے قرآن کی اس آیت کا کوئی اور مصداق پیش کیا جائے یا ماننا پڑے گا کہ معاذ اللہ خدا سے بھول ہوگئی یا مجبور ہو گیا اب پھر اس حصہ آیت کو پڑھیے:

 وَأُخۡرَىٰ لَمۡ تَقۡدِرُواْ عَلَيۡہَا قَدۡ أَحَاطَ ٱللَّهُ بِہَا‌ۚ الخ (سورۃ الفتح آیت نمبر 21)۔

اور وَلَوۡ قَـٰتَلَكُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوَلَّوُاْ ٱلۡأَدۡبَـٰرَ ثُمَّ لَا يَجِدُونَ وَلِيًّ۬ا وَلَا نَصِيرًا۝۔ (سورۃ الفتح آیت نمبر 22)۔

5۔ اصولِ کافی جلد سوم روزہ کافی صفحہ 102 پر خندق کا واقعہ ان الفاظ میں بیان ہوا:

 لما حضر رسول اللهﷺ الخندق مروا بكدية فتناول رسول اللهﷺ المعول من يد امير المؤمنينؓ او من يد سلمانؓ فضرب بها فترفت بثلاث فرق فقال رسول اللهﷺ لقد فتحت على فی ضربتى هذه كنوز كسرىٰ و قيصر۔

ترجمہ: جب حضور اکرمﷺ خندق پر تشریف لائے تو سیدنا علیؓ سیدنا سلمانؓ کے ہاتھ سے کدال لی اور پتھر پر تین ضربیں لگائیں اور فرمایا کہ میرے لیے کسریٰ و قیصر کے خزانے کھول دیے گئے ہیں۔

 کسریٰ و قیصر کے خزانے کس کے ہاتھ لگے تھے؟۔ حضورﷺ نے تو فرمایا فتحت علی مجھ پر کھول دیے گئے اور ظاہر ہے کہ حضورﷺ کے زمانے میں تو یہ خزانے قیصر و کسریٰ کے اپنے پاس تھے تو جس کے ہاتھ لگے وہ گویا حضورﷺ کے ہاتھ ہی آئے اور وہ حضورﷺ کا سچا جانشین ہوا اور وہ سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے بغیر بھلا کون تھا؟ علامہ باذل نے اس واقعہ کو پیش کیا ہے۔

کہ یک گوشہ سنگ از شکست دراں وقت برتے ازاں سنگ جستکہ روشن شد آن دشت و صحرا تمام برآورد تكبير خير الانامبضرب دوم ضلع دیگر شکست بد انگونہ برقے از وباز جستبفرمود تکبیر باردوم بزوپس براں سنگ ضرب سومدریں بارہم جست برقے چناں نبیﷺ بتکبیر رطب اللساںشد ایں بارآن سنگ زیروزبر نماندا احتياجش بضرب دگردراں دم بدو گفت سلمان چنیں کہ اے خاک راہت سپہر بریںندیریم ہر گزکہ گردو پزیر بدینگونہ برقے زسنگ وحديدچہ بدایں وباشد چہ تعبیرآں بہ تکبیر چوں برکشوری زباںبپاسخ چنیں گفت خیر البشر کہ چوں جست برق نخست از حجرنمودند ایوان کسریٰ بمن دوم قیصر روم سوم از یمن سبب را چنیں گفت روح الامیں کہ بعد ازمن انصار واعوان دینبرآں ملکتہا مسلط شوند بہ آئین من اہل ان بگردندبریں مژده وشكر لطف خدا بہر بار تکبیر کردم اداشنیدند آں مژده چوں مومناں کشیدند تكبير شادی کناں۔

خلاصہ: آپﷺ کی پہلی ضرب سے پتھر کا ایک حصہ ٹوٹا اس سے روشنی ظاہر ہوئی حضورﷺ نے تکبیر کا نعرہ بلند کیا دوسری ضرب سے کچھ حصہ اور ٹوٹا اور روشنی نمودار ہوئی حضورﷺ نے اللہ اکبر کہا تیسری ضرب پر بھی یہی عمل ہوا اور پتھر ریزہ ریزہ ہو گیا سیدنا سلمان فارسیؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ یہ کیا معاملہ تھا میں نے پتھر اور لوہے کے ٹکرانے سے ایسی روشنی کبھی نہیں دیکھی حضورﷺ نے فرمایا پہلی مرتبہ مجھے روشنی میں کسریٰ ایران کے شاہی محل نظر آئے دوسری مرتبہ قیصر روم کے محل تیسری مرتبہ یمن کے محل نظر آئے اس کا مطلب جبرائیل علیہ السلام نے یہ بتایا ہے کہ میرے بعد دین کے حامی اور مددگار ان ممالک پر قابض ہو جائیں گے اور ان میں اسلام کا قانون رائج ہوگا۔ اس بشارت کو سن کر میں نے شکرانہ کے طور پر تکبیر کہی مسلمانوں نے جب بھی یہ مژده سنا تو خوشی سے تکبیر کا نعرہ بلند کیا۔ (حملہ حیدری جلد 1 صفحہ 165)۔

اور ملاباقر مجلسی نے (حیات القلوب جلد 2 صفحہ 219) پر لکھا ہے:

ودر ہر مرتبہ برقے ساطع می شد کے جہاں روشن می شد واللہ اکبر می گفت و صحابہؓ اللہ اکبر می گفتند پس فرمود کہ در برق اول قصر ہایء یمن را دیدم خدا آن را بمن دادو در دوم قصر ہایء شام راد یدم و خدا آن را بمن داد ودر برق سوم قصر ہایء مدائن راد یدم و ملک شاہان عجم را بمن داد وپس خدا فرستاد کہ لِيُظۡهِرَهُ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡمُشۡرِكُونَ۔ 

ترجمہ: ہر ضرب سے جو روشنی نکلتی اس سے گویا ایک جہان روشن ہو جاتا تھا اور حضور اکرمﷺ اللہ اکبر کہتے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی تکبیر کا نعرہ بلند کرتے آپﷺ نے فرمایا کہ پہلے روشنی میں یمن کے محل دیکھے کہ خدا نے وہ محل مجھے دے دیے دوسری مرتبہ شام کے محل دیکھے کہ خدا نے مجھے دے دیے تیسری مرتبہ مدائن کے محل دیکھے کہ خدا نے مجھے دے دیئے پھر خدا نے یہ وحی بھیجی کہ آپﷺ کے دین کو تمام ادیان عالم پر غالب کرے گا خواہ مشرکوں کو یہ بات نہ بھائے۔

صفحہ 6 از 9