تفسیر آیات رضوان - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسیر آیات رضوان

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 5 از 9

 بیابد ازاں حکم ایشاں رواج ستاننداز خسرواں ساج و باج 

نہ ملک عرب تادیار عجم گذا رند برحکم ایشاں قدم

ترجمہ: (حضور ﷺ نے فرمایا) چچا جان! میں اپنی قوم کے ساتھ کون سی برائی کر رہا ہوں میں تو انہیں روز بروز ہدایت کی راہ دکھا رہا ہوں ایک دن آئے گا کہ ان کا حکم دنیا میں جاری ہوگا اور سلاطین دنیا ان کے باجگزار ہوں گے عرب و عجم ان کے تابع فرمان ہوگا اور اسی کتاب کے صفحہ نمبر 28 پر ابو طالب کی وفات کے وقت ان کی زبانی بیان کیا کہ

چنیں دیدہ ام من بچشم یقین کہ دینش بگیرد سراسر زمین

 نہ ملک عرب تا دیار عجم درآید بفرمان اویک قلم۔

ترجمہ: (ابو طالب نے کہا) میں نے نگاہِ یقین سے دیکھا ہے کہ حضورﷺ کا دین عرب و عجم میں پھیلے گا اور انہی کا حکم دنیا میں چلے گا۔

علامہ باذل ایرانی مجتہد شیعہ نے ان اشعار میں دو باتوں کا اعتراف کیا ہے۔

 اول: یہ کہ رسول اللہﷺ کا دین پوری دنیا میں پھیلے گا۔

 دوم: یہ کہ مسلمان عرب و عجم کے مالک ہوں گے تو یہ پیش گوئی اور خدا کا وعدہ خلفائے ثلاثہؓ کہ عہد میں پورا ہوا اس کا نقشہ بھی علامہ بازل نے یوں پیش کیا ہے:

چناں شد کہ یک شب بعلمِ نجوم چنیں گشت معلوم والی ءروم

 کہ از گردش نیلگوں آسماں رود ملک از دست عیسائیاں

 شونداز کساں درجہاں بادشاه کہ دردین شاں ختنہ باشدروا 

بروز دگربامداواں پگاه برآمد براندیشہ قیصر بکاه

طلب کردپس نزد خود در زمان حکیماں دا انجیل واں راہباں

چوکردند آن خبر داں انجمن درآمد شہ رومیاں درسخن

 بگفت آنکہ از گردش اختراں چنیں گشتہ بردانش من عیاں

 کہ برکشورما بزودی شوند مسلط گروہے کہ ختنہ کنند۔

ترجمہ: ہوا یوں قیصر روم کو ایک رات علمِ نجوم کے ذریعے معلوم ہوا کہ عیسائیوں کا ملک ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور وہ قوم بادشاہی کرے گی جن کے ہاں ختنہ کا رواج ہے دوسرے دن صبح اس نے دانشوروں اور علماءِ انجیل اور راہبوں کو دربار میں بلایا جب یہ لوگ جمع ہوئے تو بادشاہ نے کہا کہ مجھے گردشِ آسمانی سے معلوم ہوا ہے کہ بہت جلد ہمارے ملک پر ایک ختنہ شدہ قوم مسلط ہو جائے گی۔

 قیصر روم اپنے کواب کی تعمیر معلوم کر ہی رہا تھا کہ سیدنا دحیہؓ کلبی حضور انورﷺ کا دعوت نامہ لے کر اس کے دربار میں پہنچے جس میں حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ مسلمان ہوجا ورنہ ساری رعیت کا گناہ تجھ پہ ہوگا۔

 تاریخ شاہد ہے کہ رومی سلطنت خلفاء ثلاثہؓ کے عہد میں اسلام کی زیرِنگیں آئی اور خلفائے ثلاثہؓ کے جانشین رسول اللہﷺ اور خلیفہ برحق ہونے کی گواہی آسمان کے ستاروں نے بھی دے دی۔

ملاباقر مجلسی نے حیات القلوب میں بھی قیصر روم کے خواب کا ذکر قریباً انہیں الفاظ میں کیا ہے:

واما قیصر روم او ہرقل بادشاہ روم بود گفت درخواب دیدم کہ بادشاہ ختنہ کنندگان ظاہر گردید است۔ (جلد 2 صفحہ 509)۔

3۔ حضور اکرمﷺ نے مقوقس مصر کو جو دعوت نامہ بھیجا اس کے متعلق علامہ بازل نے لکھا ہے:

بود وصف آن خاتم انبیاء کہ عیسی خبر داده ازوۓ بماشود تابع او جہاں سر بسر چہ ازیں ملک وچہ ملکہائے دگر۔

ترجمہ: (مقوقس نے کہا) کہ جو اوصاف تم نے بیان کیے ہیں یہ شخص تو خاتم انبیاء ہوگا اس کی خبر عیسیٰ علیہ السلام نے ہمیں دی ہے مصر اور دوسرے ممالک اس کے تابع فرمان ہوں گے۔

جب قاصد وآپس آیا شاہِ مصر کا جواب حضور اکرمﷺ کو سنایا:

بفرمودرحق ادایں حدیث بخیلی بملکش نمود آن خبیثولے آنکہ از قدرت ذوالجلال نمی مانداز ملک بروئے بحالشنیدم کر در عہد عادل عمرؓ مقوقس رواں شد بقعر سقربتائید وفضل جہاں آفرین نملکش مسلط شدند اہلِ دیں۔

ترجمہ: حضورﷺ نے فرمایا کہ اس خبیث کے قبضہ میں کچھ عرصہ تک رہے گا پھر اللہ کی قدرت سے اس کے ہاتھ سے جاتا رہے گا۔

 میں نے سنا ہے کہ عادل سیدنا عمرؓ کے عہد میں مقوقس مصر واصلِ جہنم ہوا اور تائید ایزدی اور فضلِ ربانی سے اہلِ دین اس پر قابض ہو گئے۔

(حملہ حیدری جلد 1 صفحہ 236)۔

فائدہ: حضور اکرمﷺ کی یہ پیش گوئی سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے زمانے میں پوری ہوئی جن کو رسول اللہﷺ نے دیندار کے لفظ سے یاد فرمایا اور علامہ باذل نے عادل عمرؓ کہا۔

4۔ حضور اکرمﷺ نے صلح حدیبیہ کے بعد کسریٰ ایران کو دعوت نامہ لکھا اس نے دعوت نامہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے اور پاؤں تلے مسل دیا پھر حاکم یمن باذان کو حکم بھیجا کہ جاؤ اور نبی عربی کو گرفتار کر کے لے آؤ باذان نے فیروز دیلمی کو فوجی دستہ دے کر مدینہ روانہ کیا اس واقعہ کو علامہ باذل نے بیان کیا ہے۔

شما سوئے بازان گردید بار کہ کوتاه شد آن آرزوئے درازبگوئید اول جواب سلام رسانید آنکہ زمن ایں پیامکہ از قدرت قادر ذوالجلال شود پاک گیتی زکفر و ضلالہم اہل ایران واہل یمن بزودی در آئند دردین من۔

ترجمہ: تم بازان گورنر کے پاس لوٹ جاؤ تمہاری آرزو تو پوری نہیں ہوئی اسے سلام کا جواب دو اور میرا پیام سناؤ کہ اللہ کی قدرت سے زمین کفر اور گمراہی سے پاک ہو جائے گی تمام ایرانی اور یمنی بہت جلد میرے دین میں داخل ہو جائیں گے۔ (حملہ حیدری جلد 1 صفحہ 235)۔

اور ملاباقر مجلسی نے اس واقعہ کو یوں بیان کیا ہے

 اما کسریٰ پس چوں نامہ حضرت راخواند نامہ را درید و حضرت اور انفریں کرد کہ ملک ایشاں بزودی زائل شود و چناں شد۔(حیاۃ القلوب جلد2 صفحہ 511)

پھر لکھا ہے مشت خاک از برائے حضرت فرستاد حضرت فرمود کہ امت من بزودی مالک زمین او خواہد شد۔(حیاۃ القلوب صفحہ 512)

صفحہ 5 از 9