تفسیر آیات رضوان - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسیر آیات رضوان

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 4 از 9

يعنی سن الله سنت غلبة اوليائه وانبيائه على اعدائه قال الله تعالىٰ لاغلبن انا ورسلی۔

ترجمہ: یعنی اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے اس کے انبیاء اور اولیاء کو اس کے دشمنوں پر غلبہ حاصل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے یہ بات (اپنے حکم ازلی میں) لکھ دی ہے: 

وقال فَإِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡغَـٰلِبُونَ۝ (سورۃ المائدہ آیت نمبر 56)۔

 اور وقال بِـَٔايَـٰتِنَآ أَنتُمَا وَمَنِ ٱتَّبَعَكُمَا ٱلۡغَـٰلِبُونَ۝ (سورۃ القصص آیت نمبر 35)۔

وقال تعالىٰ وَكَانَ حَقًّا عَلَيۡنَا نَصۡرُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ۝ (سورۃ الروم آیت نمبر 47)۔ 

وقال تعالیٰ وَكَفَى ٱللَّهُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٱلۡقِتَالَ‌ۚ ألخ (سورۃ الاحزاب آیت نمبر 25)۔

ترجمہ: کہ میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے خوب سن لو کہ اللہ ہی کا گروہ غالب ہے اور اہلِ ایمان کا غالب کرنا ہمارے ذمہ تھا اور جنگ میں اللہ تعالیٰ مومنوں کے لیے آپ ہی کافی ہو گیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ وعدے کس زمانے میں اور کس کے ہاتھ پر پورے ہوئے وہی خلیفہ اللہ ہوا وہی خلیفہ رسول ہوا وہی امیر المومنین ہوا اور حدیبیہ والوں کو مخاطب کر کے جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس کا مصداق وہی شخص ہوا اس کے خلیفہ برحق ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا تاریخ شاہد ہے کہ حضور اکرمﷺ کے زمانے میں وہ فتوحات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور فتح خبر اور فتح مکہ آنے والے فتوحات کا پیش خیمہ اور مقدمہ تھی مگر اسلام نے جزیرہ عرب سے باہر قدم نہیں رکھا تھا۔ البتہ خلفائے ثلاثہؓ کے زمانے میں بیرون عرب فتوحات کا سلسلہ وسیع ہوتا گیا اور انہیں کے مبارک عہد میں کفر کی پر شوکت اور مستحکم سلطنتیں اسلام کے زیرِ نگین آئیں اور وہ روم اور ایران کی سلطنتیں تھی ان غیر مسلم قوتوں کو قرآنِ کریم نے أُوْلِى بَأۡسٍ شَدِيدٍ الخ (سورۃ بنی اسرآئیل آیت نمبر 5)۔ اور وَأُخۡرَىٰ لَمۡ تَقۡدِرُواْ عَلَيۡہَا الخ۔ (سورۃ الفتح آیت نمبر 21)۔ سے ظاہر فرمایا ان شدید قوتوں کے ساتھ خلفائے ثلاثہؓ کے زمانہ میں اسلام کی ٹکر ہوئی اور بفضلِ اللہ انہیں حضرات کے ہاتھوں یہ سلطنتیں پاش پاش ہو گئیں حضور اکرمﷺ کے بعد علی اتصال یہ خلافتیں قائم ہوئی اور انہوں نے کفر کا زور توڑا جس سے ثابت ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہ سارے وعدے خلفائے ثلاثہؓ کے زمانے میں پورے ہوئے۔

 حدیبیہ والوں کے لیے ان وعدوں کے پورا ہونے کی صورت نبی کریمﷺ کے مبارک ہاتھوں سے یوں شروع ہوئی۔

فَعَجَّلَ لَكُمۡ هَـٰذِهِ الخ (سورۃ الفتح آیت نمبر 20)۔ کے مطابق حضور اکرمﷺ نے مغانم خیبر کی تخصیص بیعتِ رضوان والوں سے کردی اور یہ اموال صرف انہی حضرات میں تقسیم فرمائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی کرنے کا حکم دیا تھا کہ قال تعالی: 

سَيَقُولُ ٱلۡمُخَلَّفُونَ إِذَا ٱنطَلَقۡتُمۡ إِلَىٰ مَغَانِمَ لِتَأۡخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعۡكُمۡ‌ۖ يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُواْ كَلَـٰمَ ٱللَّهِ‌ۚ قُل لَّن تَتَّبِعُونَا ڪَذَٲلِكُمۡ قَالَ ٱللَّهُ مِن قَبۡلُ‌ۖ فَسَيَقُولُونَ بَلۡ تَحۡسُدُونَنَا‌ۚ بَلۡ كَانُواْ لَا يَفۡقَهُونَ إِلَّا قَلِيلاً۝ (سورۃ الفتح آیت نمبر 20)۔

 ان المؤمنين انصرفوا من الحديبيه على صلح من غير قتال ولم يصيبوا من الغنائم شيئا وعدهم الله عزوجل فتح خيبر وجعل غنائمها لمن شهد الحديبيه خاصة عوضا عن غنائم اهل مكه حيث انصرفوا عنهم ولم يصيبوا منهم شيئا

 قال تعالىٰ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُبَدِّلُوْا كَلَامَ اللّٰهِ ای يريدون ان يغيروا ويبدلوا مواعيد الله لاهل الحديبية حيث وعدهم الله غنيمة خيبرلهم خاصه وهذا قول جمهور المفسرين۔

ترجمہ: جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ عنقریب جب تم (خیبر کی) غنیمتیں لینے چلو گے کہیں گے کہ ہم کو بھی اجازت دو کہ ہم تمہارے ساتھ چلیں وہ لوگ یوں چاہتے ہیں کہ خدا کے حکم کو بدل ڈالیں آپ کہہ دیجئے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے خدا تعالیٰ نے پہلے سے ہی یوں فرما دیا ہے تو وہ لوگ کہیں گے بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کرتے ہو بلکہ خود یہ لوگ بہت کم بات سمجھتے ہیں۔

 حدیبیہ سے مسلمان جنگ کے بغیر صلح کر کے لوٹ گئے کوئی غنیمت ہاتھ نہ آئی اللہ تعالیٰ نے فتح خیبر کا وعدہ فرمایا اور خیبر کے غنائم حدیبیہ والوں کے لیے مخصوص کر دیے یہ گویا اس کے بدلے میں تھا کہ وہ حدیبیہ سے غنیمت حاصل کیے بغیر لوٹے تھے۔

 وہ لوگ خدا کی بات بدلنا چاہتے ہیں یعنی یہ چاہتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ والوں سے خیبر کی غنیمت کا جو وعدہ کیا ہے وہ ان کے ساتھ مخصوص کر دیا ہے اس وعدہ کو بدل دیں یہ جمہور مفسرین کا قول ہے۔ 

اس سے دو باتیں ثابت ہوئیں:

اول: یہ کہ جو لوگ اہل و عیال اور مال کے غیر محفوظ ہونے کا عذر کر کے بیٹھ گئے اور حدیبیہ کی نعمت اور بیعتِ رضوان کی فضیلت سے محروم ہوئے ان کو اللہ تعالیٰ نے معیتِ رسولﷺ سے منع فرمایا کہ تم آئندہ رسول اللہﷺ کے ہمراہ ہو کر کسی قوم سے جہاد نہیں کرو گے۔

دوم: فتوحاتِ خیبر کے غنائم سے کوئی حصہ حاصل کرنا غیر اہلِ حدیبیہ کے لیے حرام قرار دیا ہے حضور اکرمﷺ ہی مراد ہوتے تو لم تقدروا کی جگہ لم تقدر ہوتا صیغہ جمع کا ہے مفرد کا نہیں اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وہ قومیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے أُوْلِى بَأۡسٍ شَدِيدٍ الخ۔ (سورۃ بنی اسرآئیل آیت نمبر 5)۔ اور لَمۡ تَقۡدِرُواْ عَلَيۡہَا الح۔(سورۃ الفتح آیت نمبر 21)۔ کے الفاظ بیان فرمائے ہیں فارس اور روم کی سلطنتیں ہیں یہ وعدہ ان لوگوں کے ہاتھوں پورا ہوا جنہوں نے بیعتِ رضوان میں حصہ لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی رضا مندی کا اعلان فرما دیا جس خلیفہ کے عہد میں یہ وعدہ پورا ہوا وہ اس آیت کا موعود لہ ہوگا یہ امر بھی مخفی نہیں کہ ایران اور روم کی سلطنتیں حضورﷺ کے عہد میں فتح نہیں ہوئی بلکہ خلفائے ثلاثہؓ کے زمانہ میں اسلامی سلطنت میں شامل ہوئیں اس لیے ثابت ہوگیا کہ اس آیت کا مصداق خلفائے ثلاثہؓ ہیں۔ 

اس حقیقت کا اعتراف علامہ باذل نے حملہ حیدری میں ان الفاظ میں کیا ہے کہ دعوت العشیرہ کے موقع پر حضور اکرمﷺ نے اپنے چچا ابو طالب کے سامنے بطورِ پیشگوئی فرمایا تھا۔

(حملہ حیدری جلد 1 صفحہ 12 طبع ایران)۔

کہ اے عم چہ بدمی کنم بقوم رہے می نمائم ک یوماً فی یوم

صفحہ 4 از 9