تفسیر آیات رضوان - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسیر آیات رضوان

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 3 از 9

 جب بیعتِ رضوان والوں سے کوئی عمل صادر نہیں ہوا جو کہ محبط عمل بنے چہ جائیکہ محبط ایمان ہو اس آیت کے مقابلہ میں فدک کا قصہ پیش کرنا اور حدیثِ قرطاس دہرانا آفتاب پر خاک ڈالنا ہے یہ قصے مخصص آیتِ قرآنی نہیں ہیں لہٰذا 15 صد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مومن ہونا خدا تعالیٰ کا ان پر راضی ہونا اور ان کا جنتی ہونا اس آیتِ کریمہ سے اظہر من شمس ثابت ہو گیا فھو مقصود ہاں جو شخص بوجہ عناد و عداوت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن کرے اسے قرآن سے اس بات کا ثبوت پیش کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایمان اور رضامندی کے اعلان کے بعد عدمِ رضا اور حبط ایمان کا اعلان کیا ہو حضور اکرمﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حق میں بھی اعلان فرما دیا: 

"انتم خير اهل الارض" تم پوری زمین پر بسنے والوں میں سب سے افضل ہو۔

انعامِ سوم: فٙعٙلِمٙ مٙا فِیْ قُلُوْبِهِمْ ای من الصدق والوفا۔

یعنی ان کے دلوں میں صدق و حق تھا اور بیعت پر وفا کرنا تھی۔

انعام چہارم:  فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ قال ابنِ عباس كل سكينة فی القرآن فهی طمانية۔

سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کا اعلان ہے کہ قرآنِ کریم میں جہاں کہیں سکینہ کا ذکر آیا ہے اطمینان مراد ہے یعنی اطمینان قلبی قرآنِ کریم نے ان کے ایمان اکمل کی شہادت دے کر اور رضامندی کا اعلان کر کے بعد میں ان کے قلوب پر سکینہ نازل فرما کر دلوں کو مطمئن فرما دیا کہ پھر ایمان میں کسی قسم کی جنبش پیدا نہ ہو جس شخص کا قرآنِ کریم کی اس آیت فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ پر ایمان ہے وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر ہرگز طعن نہیں کر سکتا اگر ان میں بیعت کے بعد کوئی خرابی پیدا ہو تو یقیناً یہ جملہ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ کا وعدہ غلط ہو جائے گا معاذاللہ۔

انعامِ پنجموَيَهۡدِيَكُمۡ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًاۙ فرمایا بیعتِ رضوان والوں کا ہادی و رہبر ہوں اور ظاہر ہے کہ جس کا ہادی و رہبر خدا تعالیٰ ہو اس کو گمراہ کرنے والا کون ہے۔

فمن يهده الله فهو المهتد یہ ہے نتیجہ نماز پنجگانہ کی دعا کا "ٱهۡدِنَا ٱلصِّرَٲطَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ صِرَٲطَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ" فاتحہ میں دعا بتائی آخر میں وعدہ فرمایا کہ میں تمہارا ہادی ہوں اور وعدہ بھی بصیغہ مضارع فرمایا کہ اب بھی میں ہادی ہوں اور آئندہ بھی میں ہی ہوں گا لہذا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے آئندہ گنہگار ہونے کا الزام غلط ہوا اس الزام کو درست مان لیا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ ان کے آئندہ کے حالات سے واقف نہیں تھا معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔

 بہرحال اس آیتِ قرانی سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ہدایت یافتہ ہونا ثابت ہوگیا جو شخص ان کے گمراہ ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے وہ قرآنِ کریم کی اس آیت کی تکذیب کرتا ہے خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے سے بیعتِ رضوان میں شامل ہونے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین پر پانچ انعامات کا اعلان فرمایا۔

  1.  ان کے ایمان کی شہادت۔
  2.  رضائے خداوندی۔ 
  3. ان کے دلوں میں صدق و صفا کے موجودگی۔
  4. طمانیہ قلب۔
  5. ان کی ہدایت کی ذمہ داری اور ان کا ہدایت یافتہ ہونا 

اگر عصمتِ انبیاء کی ذات سے مخصوص نہ ہوتی تو بیعتِ رضوان والوں کو معصوم کہنا کچھ بعید نہ تھا اب پانچ دنیاوی انعامات کا ذکر ہوتا ہے۔

وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا۞ (سورة الفتح آیت نمبر 18)۔

یعنی فتح خبر 

قيل اقام النبیﷺ بالمدينه بعد الرجوع من الحديبية عشر ليال اوخمسة عشر وقيل عشرين ليلة۔

ترجمہ: حدیبیہ سے واپسی کے بعد حضور اکرمﷺ نے مدینہ طیبہ میں دس یا پندرہ یا بیس دن قیام کیا۔

اس کے بعد خیبر پر حملہ کر دیا اور فتح ہوئی اس لیے فتح قریب سے یہی مراد ہے۔

وَمَغَانِمَ كَثِيْرَةً يٌَاْخُذُوْنَهَا ای من اموال يهود خيبر وكانت خيبر ذات عقار واموال و ذات نخيل فقسمها رسول اللهﷺ بينهم۔

ترجمہ: اور بہت غنیمتیں جن کو وہ لیں گے یعنی خیبر کے یہودیوں کے اموال اور خیبر پر زرخیز جگہ جہاں کھجوروں کے باغات تھے نبی کریم نے یہ اموال ان میں تقسیم کر دئیے۔ 

وَعَدَكُمُ ٱللَّهُ مَغَانِمَ ڪَثِيرَةً۬ تَأۡخُذُونَہَا فعجل لكم هذه وكف ايدی الناس عنكم ولتكون آية للمؤمنين وهی المفتوح التی يفتح لهم الى يوم القيامة فيه تسلية للمؤمنين انصرافهم من مكة بصلح فعجل لكم هذه يعنی فتح خيبر وآيت المؤمنين يعنی ولتحصل من بعدكم آية تدلهم على ان ما وهبكم الله تحصيل مثله لهم۔ 

ترجمہ: وعدہ کیا اللہ نے تم سے بہت غنیمتوں کا کہ تم ان کو لو گے سو جلدی پہنچا دی تم کو یہ غنیمت اور روک دیا لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے اور تاکہ ایک نمونہ رہے قدرت کا مسلمانوں کے واسطے یہ وہ فتوحات ہیں جو انہیں قیامت تک حاصل ہوتی رہیں گی اس میں اہلِ ایمان کی تسلی کا سامان ہے کیونکہ وہ مکہ سے صلح کر کے واپس ائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے یہ یعنی فتح خیبر کا سامان جلدی کر دیا۔

وَأُخۡرَىٰ لَمۡ تَقۡدِرُواْ عَلَيۡہَا قَدۡ أَحَاطَ ٱللَّهُ بِہَا‌ۚ قال ابنِ عباسؓ هی فارس و الروم وما كانت العرب تقدر على قتال فارس والروم بل كانوا حولا لهم حتىٰ اقدرهم الله تعالىٰ عليهم بشرف الاسلام (خازن)۔ 

ترجمہ: اور ایک فتح اور جو تمہارے بس میں نہ آئی وہ اللہ کے قابو میں ہے سیدنا ابنِ عباسؓ کہتے ہیں اس سے مراد فارس اور روم ہیں کیونکہ وہ فارس اور روم کے ساتھ جنگ کرنے پر قادر نہ تھے حتیٰ کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں ان پر قدرت عطا فرما دی۔

وَلَوۡ قَـٰتَلَكُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوَلَّوُاْ ٱلۡأَدۡبَـٰرَ ثُمَّ لَا يَجِدُونَ وَلِيًّ۬ا وَلَا نَصِيرً۬ا۝ (سورۃ الفتح آیت نمبر 22)۔

ان پانچ انعامات کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک قانون بیان فرمایا: سُنَّةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِى قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلُ‌ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ ٱللَّهِ تَبۡدِيلاً۝ (سورۃ الفتح آیت نمبر 23)۔

ترجمہ: اللہ کا یہ طریقہ پہلے سے چلا آرہا ہے اور اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی نہ ہوگی.

صفحہ 3 از 9