تفسیر آیات رضوان - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسیر آیات رضوان

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 9

ترجمہ: رسول اللہﷺ کے تکیہ فرمانے سے اس درخت کی شانِ طوبیٰ درخت سے بھی بڑھ گئی علامہ بازل کے اس قول سے ایک عجیب بات ثابت ہوئی کہ رسول اللہﷺ کے جسمِ اطہر اس برکت و تقدس کا حامل تھا کہ جس چیز سے لگتا تھا اس کی شان بھی دوبالا کر دیتا تھا جب رسولِ اکرمﷺ کے جسمِ اطہر کے مس کرنے سے اس شجر کی شانِ طوبیٰ درخت سے بڑھ گئی تو جن جن انسانوں سے آپ کا وجود مبارک لگا جیسے امہات المومنینؓ ہوئی ان کی کیا شان ہوگی سبحان اللہ۔

سوال: مخالفین حضرات جن کا ایمان قرآنِ کریم پر نہیں ہے کہتے ہیں کہ یہ رضامندی وقتی تھی نہ کہ دائمی بلکہ ایک فعل پر تھی رضامندی کا تعلق فعل سے ہے نہ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ذات سے اور وہ فعل "اذیبایعونک" تھا بیعت کے فعل پر راضی ہوا فعل ایک وقتی چیز تھی رضامندی بھی وقتی تھی رضامندی کی علت اذ تعلیلیۃ ہے لہٰذا متعلق رضا فعل بیعت ہوا نہ کے ذاتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جب ذاتوں پر راضی نہ ہوا تو جنتی نہ ہوئے بدیں وجہ آیت وَٱلسَّـٰبِقُونَ ٱلۡأَوَّلُونَ مِنَ ٱلۡمُهَـٰجِرِينَ وَٱلۡأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحۡسَـٰنٍ۬ رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنۡہُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُ الخ۔ (سورة توبہ آیت نمبر 100)۔ میں بھی رضا کا تعلق فعل ہجرت و نصرت سے ہے نہ کہ ذاتوں سے رضا کا تعلق فعل ہجرت و نصرت ہوا وہ وقت تھا رضا بھی وقتی تھی یہ تقریر سوال علامہ عبداللہ مشہدی نے اپنی کتاب "اظہار الحق" میں کی ہے اور بندہ پر بھی مناظرہ میں یہ سوال ہوا تھا کہ یہ تو ٹھیک ہے کہ دخولِ جنت رضاء الہٰی پر موقوف ہے مگر رضا کا باقی رکھنا حسنِ خاتمہ پر موقوف ہے اور بقائے ایمان پر اور عدم صدور اعمال محبطہ پر۔

الجواب: اول مناظرہ میں جو جواب دیا تھا وہ یہ تھا کہ بہرحال خدا تعالیٰ راضی ہو گیا جب راضی ہوگیا اور جن پر راضی ہوا وہ اہلِ ایمان جنتی مقبول خدا ہوئے "ورضوان من الله اكبر" خداوندِ کریم کی تھوڑی رضامندی بھی بہت بڑا انعام ہے رضا مندی سے بڑھ کر کوئی مرتبہ نہیں ہے۔

جواب دوم: یاد رہے تعلقِ رضا کی علت فعلِ بیعت نہیں بلکہ "فٙعٙلِمٙ مٙا فِیْ قُلُوْبِهِمْ" ہے خدا تعالیٰ علام الغیب ہے جس نے دلوں کو پیدا کیا ہے وہ دلوں کے رازوں کو خوب جانتا ہے بیعتِ رضوان والوں کے دلوں کے رازوں کو جان کر اعلانِ رضامندی فرمایا ظاہری فعل پر تو وہ راضی ہوتا ہے جو اسرارِ قلوب سے جاہل اور انجام کار سے بے خبر ہو کیا خدا تعالیٰ کو یہ علم تھا کہ ان کے دلوں میں خلاف فعل ظاہر کچھ اور ہے یا علم نہ تھا اگر تھا تو ظاہر ہے کہ دھوکہ بازی ہوئی معاذ اللہ پھر خدا تعالیٰ کے کسی وعدہ پر اعتبار ہی نہ رہ اگر علم نہ تھا تو پھر خدا تعالیٰ معذور ہوا مگر ایسے خدا سے پناہ جس کو انجام کا علم بھی نہ ہو۔

سوم: رضامندی وقتی نہیں بلکہ دائمی ہے دوسری آیت

 وَٱلسَّابِقُونَ ٱلۡأَوَّلُونَ مِنَ ٱلۡمُهَاجِرِينَ وَٱلۡأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحۡسَانٍ رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنۡہُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُ الخ۔ (سورۃ التوبہ آیت نمبر 100) اور اس آیت میں تعلق رضاء کی علت سبقت ہجرت و نصرت کو قرار دیا جیسا مفسرین بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ سابق فی الہجرۃ ہیں جو ہمرہ رسول خدا ہوئے۔

 لا شك ان ابابكرؓ سابق الى الهجرات فهو من السابقين وقد اخبر الله تعالىٰ رضی الله تعالىٰ عنه ای ابی بكرؓ ولا شك ان الرضی معلل بالسبق الى الهجره فتدوم بدوامها فدل ذلك أی صحت ايمانه وامامته وعدم جواز الطعن عليه۔

ترجمہ: اس میں شک نہیں کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ سابق فی الہجرت ہیں پس وہ سابقینِ اولین مہاجرین سے ہوئے اور خبر دی اللہ تعالیٰ نے کہ وہ ان پر راضی ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ رضا کی علت سبقت ہجرت و نصرت ہے رضامندی دائمی ہوگی کیونکہ ہجرت دائمی ہے پس آیتِ قرآنی سیدنا ابوبکرؓ کے ایمان کی صحت پر خلافت کے صحیح ہونے پر اور طعن کے حرام ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

 خوب یاد رکھیں ہجرت و نصرت اور بیعت یہ عنوان نہیں بلکہ معنون ذاتِ اصحابِ رسولﷺ ہیں باری تعالیٰ کی رضامندی کا تعلق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ذات سے ہے ہجرت نصرت اور بیعت تعلقِ رضا کے علت ہیں نہ کہ متعلق لہٰذا یہ کہنا کہ یہ بیعت یا ہجرت و نصرت کے فعل پر راضی ہوا تو قرآنِ کریم سے جہالت کی دلیل ہے باقی رضامندی کا دوام حسنِ خاتمہ اور بقائے ایمان پر رہا ٹھیک ہے جب خدا تعالیٰ نے بیعتِ رضوان والوں کے ایمان کی شہادت دے کر رضامندی کا اعلان فرمایا تو خدا تعالیٰ کو ان کے حسنِ خاتمہ اور بقاءِ ایمان کا آخر عمر تک علم تھا تب ہی تو ایمان پر اعلان فرمایا دلوں کو جانتا تھا اعلان رضامندی میں ان کے خاتمہ بالخیر کی زبردست دلیل ہے آپ کے بے مغز خرافات چند منٹوں کے لیے فرضی طور پر تسلیم بھی کر لیں کہ فعل پر راضی ہو گیا تو ابھی ایمانی شہادت کے بعد رضامندی کا اعلان فرمایا لَّقَدۡ رَضِىَ ٱللَّهُ عَنِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ الخ (سورة الفتح آیت نمبر 18)۔ رضا مندی کا اعلان مومن کے لیے فرمایا جس طرح ایمان کا تعلق دائمی ہے آیت میں عموم ہے اس کا کوئی مخصص موجود نہیں ہے اگر ہے تو پیش کریں یاد رکھیں آیت بیعتِ رضوان والوں کے ایمان اور رضامندی کا قطعی طور پر اعلان کر رہی ہے مدلول مطابقی آیت کا ایمان اور رضامندی باری تعالیٰ ہے اب کوئی خبرِ واحد اس کے مقابلہ میں پیش کرنا سورج کو چراغ دکھانا ہے خبرِ واحد اپنے مافوق سے ٹکرا کر خود پاش پاش ہوگی۔

صفحہ 2 از 9