شیعہ علماء کے بے بنیاد دعوے - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ علماء کے بے بنیاد دعوے

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 2

قرآن سے تو یہ پہلے ہی دستبردار ہو چکے ہیں اگر یہ بہانہ کیا جائے کہ حضورﷺ نے ان چار کو تو اپنی چادر میں لیا تھا مگر سب مہاجرین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کب چادر اوڑھائی تو ماننا پڑے گا کہ اہلِ بیت بننے کا مدار چادر اوڑھنا ہے تو اس اصول کا ذرا اپنا کر دیکھا دو۔

بہیقی اور ابنِ ماجہ وغیرہ کتب میں ایک واقعہ موجود ہے:

اخرج البیہقی عن ابی سعید المساعدی قال قال رسول اللہﷺ العباس بن عبد المطلب یا ابو الفضل لا تترک منزلک انت وینبوک غدا حتیٰ اتیکم فان لی فیکم حاجۃ فانتظروہ حتیٰ جاء بعد ما اضحی فدخل علیھم فقال السلام علیکم فقالوا وعلیک السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ قال کیف اصحبتم قالوا اصحبنا بخیر و نحمد اللہ تعالیٰ فقال لھم تقاوبوا فرحت بعضھم الی بعض اذا امکنوا اشتمل علیھم بملائه ثم قال یا رب ھذا عمی وصنوا ابی وھئو لاء اھل بیتی استرھم من النار کستری ایاھم بملاتی ھذہ قال فامنت اسکفۃ الباب وحوائط البیت وقالت آمین آمین۔

امام بیہقی نے ابوسعید ساعدی سے روایت کی ہے کہ نبی کریمﷺ نے سیدنا عباسؓ بن عبدالمطلب سے فرمایا کہ آپ اور آپ کے بیٹے میرے آنے تک گھر سے نہ نکلنا مجھے تم سے کام ہے سب نے حضورﷺ کا انتظار کیا دوسرے دن حضور ﷺ تشریف لائے سلام دعا کے بعد فرمایا میرے قریب ہو جاؤ وہ سب سرک کر قریب ہو گئے تو آپﷺ نے ان سب کو اپنی چادر میں لے لیا اور دعا کی کہ الہٰی یہ میرا چچا ہے اور میرے والد کی جا بہ جا ہے اور یہ میرے اہلِ بیت ہیں انہیں دوزخ سے یوں محفوظ رکھنا جیسے میں نے انہیں اپنی چادر میں چھپا لیا ہے اس پر کواڑوں اور دیواروں سے آمین آمین کی آواز آنے لگی۔

لیجیے چادر میں لپیٹ لیا گیا دعا بھی کی ھو لاء اھل بیتی بھی کہا پھر بھی سیدنا عباسؓ اور ان کی اولاد اہلِ بیت نہ کہلا سکی اہلِ بیت چار ہی رہے یہ چادر بھی حضورﷺ کی ہی تھی دعا بھی حضورﷺ کی زبان سے نکلی پھر بھی قبول نہ ہو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قبولیت دعا کا تعلق اللہ کریم سے نہیں تھا بلکہ شیعہ سے تھا جسے یہ قبول کریں وہ دعا قبول اور جسے یہ حضرات اور رد کر دیں وہ دعا غیر قبول شیعہ نے اپنے لیے اتنا اونچا مقام تجویز کیا ہے حقیقت ہے کہ سفر پر روانہ ہوتے ہی آدمی کا رخ زرا بھی مڑ جائے تو ہر قدم پر منزل سے دور ہی ہوتا چلا جاتا ہے جب تک اللہ تعالیٰ اس کو توفیق نہ دے اپنے سمت سفر درست کر لے۔

قرآنِ کریم کی آیت اس کا سیاق و سباق لفظ مضمون جو مفہوم پیش کرتا ہے روایات جس کی تائید کرتی ہیں لغت اور عرف جس کو درست کہتا ہے اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ٹھیک وہی ہے کہ اہلِ بیتؓ نص قطعی کے اعتبار سے ازواج النبیﷺ ہیں اور حضورﷺ نے شفقت کی بنا پر ان چار حضرات کے لیے دعا کی کہ انہیں بھی اہلِ بیتؓ میں شامل کر لیا جائے۔

مگر شیعہ کا عقیدہ یہ ہے کہ آیت کا یہ ٹکڑا یہاں اجنبی ہے ازواج النبیﷺ قطعاً اہلِ بیت نہیں بلکہ وہی چار اہلِ بیت ہیں جن کے لیے دعا کی گئی یہ عقیدہ قرآن کے خلاف لغت کے برعکس اور عرف کے مخالف ہے لہٰذا عقیدہ اہلِ سنت صحیح اور اسلامی عقیدہ ہے۔

اصل مسئلہ تو طے ہو گیا اس سے ضمناً ایک اور مسئلہ بھی حل ہو رہا ہے وھو ھذا:

اللہ تعالیٰ نے ازواج النبیﷺ کو دو راستے دکھائے کہ اگر دنیوی مال دولت درکار ہے تو نبیﷺ سے تمہارا تعلق نہیں اور اگر آخرت کی راہ میں مطلوب ہے تو تمہارے لیے انعامات تیار کر رکھے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو جو یہ بات سخت ناپسند کی کہ نبیﷺ کی بیویوں کے پاس مال و دولت ہو تو اسے اپنے نبیﷺ کے لیے یہ پسند تھا کہ وہ مال و دولت جمع کرتا رہے اگر نہیں اور واقعی نہیں تو نبی کریمﷺ نے وہ کون سا مال جمع کر رکھا تھا کہ آج تک نبیﷺ کی میراث کی تقسیم کے مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوا پھر لطف یہ ہے کہ نبیﷺ کہ ورثاء تو متعدد تھے مگر سب خاموش ہیں مگر ایک وارث کے حق میں دہائی دی جا رہی ہے یہ دونوں باتیں ناقابلِ فہم ہیں۔

پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ معاشی پہلو میں حکم دیتا ہے کہ:

لِيُنۡفِقۡ ذُوۡ سَعَةٍ مِّنۡ سَعَتِهٖ‌ؕ الخ۔(سورۃ الطلاق آیت نمبر7)۔

صاحبِ وسعت کے ذمہ اس کے حیثیت کے مطابق ہے اور تندرست کے ذمے اس کی حیثیت کے موافق۔

اور عَلٰی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَعَلٰی المُقْتِرِ قَدَرَہُ الخ۔(سورة البقرہ آیت نمبر 236)۔

وسعت والے کو اپنی وسعت کے مطابق بچہ پر خرچ کرنا چاہیے۔

صاحبِ وسعت کے ذمہ اس کے حیثیت کے مطابق ہے اور تندرست کے ذمے اس کی حیثیت کے موافق۔

تو نبی کریمﷺ کہ پاس مال کی فراوانی اور وسعت تھی تو اہلِ بیتؓ پر کیوں نہ خرچ کیا اور اللہ کی طرف سے طلاق یا تخییر مابین دولت دنیا اور آخرت کا معاملہ کیوں پیش آیا؟ یہاں یہ سوال ابھرتا ہے اگر رسول کریمﷺ کے پاس مال نہیں تھا تو ازواجِ مطہراتؓ نے مطالبہ کیوں کیا ظاہر ہے کہ حضورﷺ تو امین تھے غلطی سے انہیں مالک سمجھ لیا گیا وہ تو قوم کا مال تھا حضورﷺ کا ذاتی نہیں تھا۔


صفحہ 2 از 2