حزب اللہ کی شاخیں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حزب اللہ کی شاخیں

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 7 از 8

حزب اللہ کے خفیہ کردار: حزب اللہ سعودیہ کا خفیہ کردار عبد الکریم حسین ناصر ہے۔ یہ حزب اللہ کا قائد ہے۔ فاضل علومی ہے۔ علی مرہون ہے۔ مصطفیٰ معلم ہے۔ صالح رمضان ہے۔ انہیں الخمر کی تخریب کاری سے پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ یہ اس تخریب کاری کا ارادہ رکھتا تھے مگر گرفتار ہو گئے ۔ احمد مفصل نے یہ تخریب کاری حزب اللہ سعودی کے دوسرے گروپ کے ذمہ لگائی۔ شیخ جعفر علی مبارک بھی ان کا قائد ہے۔ عبد الکریم حبیل بھی، ہاشم الشخص بھی۔ یہ لوگ اس حزب اللہ کے نگران اور سپورٹر تھے۔ کچھ اور چھوٹی چھوٹی جماعتیں بھی ہیں جنہیں ملا کر اس تنظیم کی عمارت مکمل ہوتی ہے۔ حزب اللہ سعودی کے یہ افرد ایران اور لبنان میں تربیت حاصل کرتے رہے تھے۔ تاکہ یہ اپنے ان گندے منصوبوں کو پورا کر سکیں اور ایک حکومت اسلامی سلفی کو گرانے کی کوشش کریں اس گروہ کے خفیہ آدمی زیادہ تر گرفتار ہو گئے لیکن جو باہر چلے گئے تھے انہوں نے حزب اللہ سے سیاسی اور میڈیائی رابطہ باقاعدہ رکھا ہوا تھا۔ حزب اللہ اب تک ہیجان انگیز نشریات جاری کرتا رہا ہے اور تشدد کی دعوت دیتا ہے۔ اور سعودی حکومت کے مقابلہ پر آنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اور سعودی حکومت کو ناجائز قرار دینے پر مصر ہے۔ حزب اللہ انٹرنیٹ پر بڑا اثر انداز ہے اپنی تمام تنظیم الثورۃ الاسلامیہ کی نشریات اس سے جاری کرتا رہتا ہے۔ 

مطلب 3:

حزب اللہ کویتی کا تعارف (اس کی ابتداء):

حزب اللہ کویتی، حزب اللہ لبنانی کے بعد وجود میں آئی۔ حزب اللہ کویتی نے متعدد نام اختیار کیے ہیں۔ ایک نام رکھا تغیر نظام جمہوریہ کویت، صوت الشعب الكويتی الحر تنظیم جہادِ اسلامی، قوت المعظمه الثوریہ فی الکویت حقیقت میں یہ سارے نام حزب اللہ کویتی تنظیم کے ہی ہیں۔ 

حزب اللہ کی تاسیس:

کویت کے شیعوں کی ایک شاخ حزب اللہ کے نام سے معرض وجود میں آئی ہے یہ قم کے حوزہ علمیہ میں زیرِ تعلیم افراد پر مشتمل ہے اس کے زیادہ تر ارکان ایران کے پاسداران انقلاب سے منسلک ہیں انہوں نے ایرانی پاسداری سے ہی تربیت حاصل کی ہے۔ یہ ایک رسالہ النصر بھی جاری کرتی ہے ایران کے دارالخلافہ طہران کے اسلامی ذرائع ابلاغ کے اہداف و افکار ہی ان کا مرکز ہیں۔ یہ رسالہ کویتی شیعوں کو اپنے اہداف اور مصالح کے حصول کے لیے تیاری پر ابھارتا ہے۔ اور پکارتا ہے کہ نظام حکومت بدلنے کے لیے حکومتِ کویت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ اور شیعی نظام قائم کرنے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں۔ یہ تنظیم فتنہ انگیزیوں، ہنگاموں آتش رانی قتل و غارت گری اور اغوا کی ترغیب دیتی ہے۔ تاکہ ملک پر اس کا قبضہ ہو اور ایسی حکومت یہاں آئے جو ایران کے تابع ہو۔ حزب اللہ کویتی شیعہ ایرانیوں کا ایک جزو لانیفک ہے۔ علی خامئتی ان کا قائد ہے۔ حزب اللہ کا نظریہ یہ ہے کہ آلِ صباح کا حکومت کرنے کا قطعاً کوئی حق نہیں یہ ہمارا حق ہے۔ 

حزب اللہ کویتی کی سرگرمیاں:

حزب الدعوة الشیعہ، کا مبارک کام قاتلانہ حملہ ہے۔ (25۔5۔1985ء میں امیرِ کویت کی گاڑی سلیف محل کی طرف آرہی ہے۔ وہ دسمان کے محل کے اندر سے آرہی تھی۔ یہ حزب اللہ اپنی تخریب کاری کے لیے کمر بستہ تھی۔ اس نے ٹریفک کھولنے والے اشارے بند کر دیے تا کہ سواری گزر جائے رک نہ جائے۔ ایک جانب کے اشارے کھلے رکھے تا کہ امیرِ کویت کی گاڑی کی طرف جانے والی جانب سے ٹریفک آتی رہے امیر کا خاص حفاظتی دستہ اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ پھٹ جاتی ہے جو اس خاص باڈی گارڈ کی گاڑی کو جلا دیتی ہے۔ محمد غنیزی اور ہادی شمریؒ یہ بھی اس میں جل جاتے ہیں۔ پھر وہ آگ امیر کی دائیں جانب والی گاڑی جو کہ ان کی گاڑی کو روک رہی یہ بھی باڈی گارڈ تھے کو انہوں نے اس آگ والی گاڑی کو شدید دھکا سے فٹ پاتھ کی جانب دھکیل دیا۔ آگ تباہی مچا رہی تھی۔ تاہم امیرِ کویت اس خطر ناک قتل سے محفوظ رہا۔ 12 جولائی 1985ء میں حزب اللہ کویتی نے کویت میں آگ سے تخریب کاری کا منصوبہ بنایا ان خبیثوں کی آگ رانی سے بہت سارے شہری زخمی اور شہید ہو گئے۔ 29 اپریل 1986ء میں کویت کی امن قوتوں نے اعلان کیا کہ 12 افراد طیارہ ہائی جیک کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یہ طیارہ شرقِ ایشیا کی طرف روانہ ہونے والا تھا۔ ماہِ اپریل 1988ء میں حزب اللہ نے جابر بن صباح کا کویتی ہوائی جہاز اغواء کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اور انہوں نے (لارنکا) قرص کے ایئر رپوٹ پر لے جانے کے لیے اسے قابو میں کر لیا۔ اس دوران دو کویتی عبداللہ خالدؒ اور خالد ایوبؒ شہید بھی ہو گئے۔ ان ظالموں نے ان کے سروں میں گولیاں ماریں اور سب کے سامنے انہیں طیارہ سے نیچے پھینک دیا تاہم یہ طیارہ اغواء نہ کر سکے۔ 1983ء میں حزب اللہ کویتی نے اپنی ماتحت تنظیم جہادِ اسلامی کے ذریعے آگ کے گولے برسائے گرڈاسٹیشن، ائر پورٹ، امریکہ اور فرانس کے سفارت خانے اور تیل کے مرکز، اور رہائش کے مرکز سب کو ایک ہی دن میں نشانہ بنایا۔ سات آدمی شہید ہوئے 62 زخمی ہوئے سب کویتی تھے اور تیل کمپنی میں کام کرتے تھے۔ حزب اللہ کویتی در پردہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ملکِ کویت میں فعال سیاسی مشارکت سے کام لیتی ہے۔ اور تقیہ کے انداز میں اسلامی ملکی الفت کے نام پر خبیث سیاست کا کھیل کھیلتے ہیں صلح پسندی کے نام پر اپنے اہداف اور ایرانی مطالبات حاصل کرتے ہیں ۔ اس حزب اللہ کے باقی ارکان محمد باقر مہدی۔ عباس بن نخی، عدنان عبد الصمد، ڈاکٹر ناصر صلخوہ ڈاکٹر عبد الحسن جمال ہیں۔ بیانات سے ظاہر ہوا ہے کہ جنوبی عراق پر ایرانی قبضہ ایرانی تاجروں اور پاسداران کے لیے ایک پناہ گاہ بن چکا ہے۔ یہ ایک بنیاد بن چکا ہے کہ جو کویت کے شیعوں کے لیے غذا اور اسلحہ پہنچانے کے کام آرہی ہے جس سے یہ حکومتِ کویت کے خلاف بھڑکاؤ اور اضطرابات پیدا کرتے ہیں۔ ان بیانات سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ ایرانی اسلحہ ڈیلر حکومت کویت میں وسیع پیمانے پر اسلحہ سپلائی کرتے ہیں اور یہ حکومت ایران کے پڑوس میں شیعہ جماعتوں کی تخریب کاری اور ان کے خلاف احتجاج کرنے کی ترغیب سے بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ بات درست ہے۔  

مطلب 4:

حزب اللہ یمنی کا تعارف:

صفحہ 7 از 8