حزب اللہ کی شاخیں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حزب اللہ کی شاخیں

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 6 از 8

1993ء میں سعودی حکومت اور شیعوں کی اس تحریک کے درمیان اتفاق رائے ہوا۔ حکومت نے چند امور پر تصفیہ کر لیا۔ اس میں یہ بات طے پائی کہ اس تحریک اصلاح شیعہ کے بیرونی تمام دفاتر بند کر دیے جائیں گے۔ اور ان سے جاری ہونے والے تمام رسائل بند کر دیے جائیں گے۔ اور بیرونی سیاسی تمام سرگرمیاں جو حزب اللہ کے مفاد میں کرتے ہیں۔ یہ ختم کرنا ہوں گی۔ اور تحریک اصلاح شیعہ جزیرہ عرب کے نام سے جو تحریک ہے اس کے لیے بھی یہ اپنی سرگرمیاں ختم کرے گی۔ اور یہودی تنظیموں اور بیرون ملک جتنی بھی اجنبی تنظیمیں ہیں ان کے درمیان جو حرکت اصلاح تنظیم شیعوں کی ہے ان کے درمیان قطعاً کسی قسم کا تعلق نہیں ہوگا۔ اور سعودی حکومت کے معاشرہ اور اداروں میں امن و سکون برقرار رکھنا ہوگا۔ خمینی انقلاب کی حقیقت کھل جانے کے بعد کہ یہ ایک فرقہ کی تحریک اور انقلاب ہے۔ جو علاقہ میں سیاسی اثر و نفوذ چاہتا ہے یہ دین اور سیاست دونوں میں تقیہ استعمال کرتے ہیں۔ اس کے تحت کچھ تو ان شقوں کے پابند ہو کر سعود یہ لوٹ آئے ہیں تاکہ نئے دور کا آغاز کریں اور حکومت سعودی کے اندر عمل دخل دیں ۔ لیکن کچھ باقی رہ گئے ہیں جو کہ بیرونی سعودی ہیں تا کہ وہ اپنے مومن بھائیوں کے خبیث منصوبے جو انہوں نے شروع کر رکھے ہیں۔ انہیں پورا کر سکیں۔ یہ بیرون ملک سے اپنے منصوبوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں، حالانکہ یہ اس بات پر اتفاق کر چکے ہیں کہ یہ سیاسی سرگرمیاں جو کہ فرقہ واریت کو ہوا دیں وہ نہیں اختیار کریں گے اس کے باوجود یہ باز نہیں آتے۔ 

حزب اللہ سعودی کی فوجی شاخ:

حزب اللہ سعودی کا ایک فوجی دنگ بھی ہے جسے یہ حزب اللہ حجاز کہتے ہیں۔ 1987ء کے دوران تنظيم الثورة الاسلامیة فی الجزیرۃ العربیہ کا فوجی وِنگ وجود میں آیا۔ اور بالاتفاق انہوں نے اس کا نام حزب اللہ حجاز رکھا کبھی حزب الله سعودی بھی کہتے ہیں ان کے رسائل بھی جاری ہوتے ہیں یہ حزب اللہ سعودیہ میں خوفناک عمل وقوع پذیر کرواتا ہے یہ ایرانی پاسداران نے تشکیل دی ہے یہ ایرانی تاجر احمد شریفی کے زیرِ نگرانی ہے بعض سعودی شیعہ جو ایران کی قم یونیورسٹی میں پڑھے ہوئے ہیں اس نے انہیں اس تنظیم میں جمع کر دیا ہے۔ 

حزب اللہ اور تنظیم الام میں فرق:

سعودیہ میں چونکہ شیعوں کی سیاسی مرکزیت مختلف ہے، جہت میں اختلاف ہے اس کے پیشِ نظر حزب اللہ حجاز اور حزب الله الثورۃ الاسلامیہ الخ میں شخصی تصادم بھی ہوا تھا۔ اس وجہ سے نظم و نسق کے ذمہ دار ایرانی منتظم احمد شریفی نے حزب الله سعودی اور تحریک اصلاحِ شیعہ جزیرہ عرب کے درمیان تفریق کر دی ہے کہ یہ اپنے اپنے میدان میں کام کریں گے اور حزب الله سعودی کو مسلح فوجی سر فوجی سرگرمیاں انجام دینے کی امتیازی حیثیت بھی دی ہے۔ 

حزب اللہ سعودی کے جرائم:

اس سعودی ملک کے بارے میں جوان کے دلوں میں کینہ پایا جاتا ہے اس کا اظہار حسن صفار نے ایک شیعی مجلس میں قطیف کے علاقے میں ماہِ اکتوبر 2006ء میں کیا تھا۔ دراصل یہ دبے الفاظ میں دھمکی ہے۔ کہ اگر شیعہ کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو اندرون ملک کے شیعہ انارکی پیدا کریں گے۔ یہ 1400ھ اور 1407ھ میں دھمکی ہی نہ رہی تھی بلکہ انہوں نے اسے پورا کر دکھایا تھا۔ 1407ھ میں حج کے موقع پر حزب اللہ حجاز کے کچھ افراد اٹھے اور ساتھ تحریک ایرانی انقلاب کے پاسداران کا تعاون بھی شامل تھا انہوں نے بہت بڑا مظاہرہ کیا حجاج کرام کو قتل کیا اور عوامی املاک کو تباہ کر دیا۔ اور مسجد حرام میں فتنہ برپا کر دیا۔ اور مقاماتِ مقدسہ میں فتنہ پروری کی۔ حزب اللہ سعودی اور کویتی نے مل کر معیصم کی نماز میں زہریلی گیس چھوڑی جس کی وجہ سے بیت اللہ کے سینکڑوں حاجی زخمی اور شہید ہو گئے۔

9 یا 2 یا 1417ھ مطابق 25۔1994ء میں حزب الله سعودی کے کچھ افراد اٹھے انہوں نے شہر الخبر میں رہائشی علاقوں میں ایک بہت بڑی تیل کی ٹینکی کو آگ لگا دی۔ مجمع کے قریب تیل والا ٹینکر کھڑا کیا اور اس میں آگ لگادی چار منٹ میں وہ ٹینکی بھڑک اٹھی ۔ یہ خبیث مکارانہ حرکت کرنے والے درج ذیل اشخاص تھے۔ 

  1.  هانی صايغ 
  2. مصطفى قصار 
  3. جعفر شویخات
  4. ابراہیم یعقوب 
  5. علی حوری
  6. عبد الكريم ناصر
  7. احمد مغصل
  8. اور عسکری ونگ سے احمد مفصل تھا۔ 

خُبر کے مجمع میں آگ لگانے کے عمل کی حسین مغیص عبداللہ جراش شیخ سعید بحار، شیخ عبد الجلیل سمین نے قیادت کی خُبر کے مجمع پر آگ لگانے کے بعد ہائی صایغ کو گرفتار کر لیا گیا۔ اور امریکہ کے ذریعے اسے سعودی عرب کے حوالے کر دیا گیا عبد الکریم ناصر، احمد مفصل، ابراہیم یعقوب، علی حوری ایران فرار ہو گئے شویخات سوریا بھاگ گیا سوریا گرفتاری کے ایک دن بعد ہی اس کی موت کا اعلان ہوا کہ اس نے خود کشی کر لی ہے اور مر گیا ہے۔ 

دوسرا قول یہ بھی ہے کہ اسے ایران کے کہنے پر کسی ایجنٹ کے ذریعے مروایا گیا تھا تا کہ خُبر کے مجمع میں جو آگ بھڑکانے کی سازش ہے وہ صیغہ راز میں رہے۔ اور اس کا مرکزی کردار ختم ہو جائے۔ 

صفحہ 6 از 8