حزب اللہ کی شاخیں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حزب اللہ کی شاخیں

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 5 از 8

ایران میں خمینی انقلاب کے آتے ہی 1979ء میں ایران نے اپنے شیعی نظام کو سعودی عرب میں قائم کرنے کے لیے اپنے پیروکاروں کو تقسیم کر رکھا ہے۔ 1400ھ میں قطیف میں شیعہ تحریک اسی نظام شیعی کو چلانے کا ہی شاخسانہ تھی۔ پہلے پہل انہوں نے اپنے مذہبی کوڈ ورڈ شروع کیے تھے (مبدئنا حسینی و قائدنا خمینی) ہمارا آغاز حسینی ہے ہمارا قائد خمینی ہے، کبھی کہتے : (يسقط النظام السعودی) سعودی نظام گر رہا ہے۔ یہ لفظ ان کے زبان زد عام تھا۔ (یسقط فھد و خالد) فہد و خالد ناکام ہوئے۔ شاہ فہد اور شاہ خالد مراد لیتے تھے۔ علھما خمینی انقلاب کے ظہور کے دوران سعودیہ میں شیعوں اور ایرانیوں کے درمیان مسلسل رابطہ رہتا تھا۔ حسن صفار کو تنظیم بنانے کا حکم دیا اور اس کی تنظیم کو اس کی نگرانی اور رہنمائی میں دے دیا اس تنظیم کا نام یہ تھا "منظمة الثورة الاسلاميه لتحرير الجزيرة العربية" اس تنظیم کے اہداف و مقاصد درج ذیل تھے:

  1.  ایرانی انقلاب کی حمایت کرنا۔ 
  2. جزیرہ عرب کو آزادی دلوانا، مقصد ان کا یہ تھا سعودی حکومت کو سنی فرمانرواؤں کے ہاتھوں سے نکال کر شیعوں کے حوالے کر دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تنظیم یہ فتوٰی دیتی ہے کہ سعودی حکومت اور دیگر سنی خلیجی ریاستیں سب کافرانہ طاغوتی حکومتیں ہیں اور یہ تنظیم خود کو خمینی والے ایران کا ایک حصہ تصور کرتی ہے۔ اور اس کی یہ پختہ رائے اور یہ اس کا عزم ہے کہ سعودی عرب میں ایرانی اسلامی انقلاب کے لیے چار شرائط ہیں۔ 

(شرائط):

  1. سعودی قیادت سعودیہ سے باہر کے علاقوں کو کھلا چھوڑ دے۔ جو تنظیم بھی ہو اور جہاں وہ چاہے تنظیم سازی کرے، ادارے قائم کرے۔ 
  2.  اور شیعوں کے انقلابات ہمیشہ مسلح ہوتے ہیں لہٰذا اسلحہ پر سے پابندی اٹھائی جائے۔
  3.  تنظیم سعودی حکومت میں ویسا ہی اسلامی انقلاب لانا چاہتی ہے۔ جیسا کہ ایران میں آیا اور شیعوں کے انقلابات ہمیشہ مسلح ہوتے ہیں لہذا اسلحہ پر سے پابندی اٹھائی جائے۔ ہے، لہذا اسلحہ پر سے پابندی اٹھائی جائے۔ 
  4. ہماری تنظیم کے زیرِ اثر متعدد چھوٹے چھوٹے تنظیمی ڈھانچے قائم کرنے کی اجازت دی جاۓ۔

تنظیم الاسلامية تحرير الجزيرة العربيہ کا مرکز:

 اس تنظیم کا مرکز پہلے تو ایران میں تھا بعد ازاں کچھ دیر دمشق میں رہا اب مستقل طور پر لندن میں ہے۔

اس تنظیم کے اخبارات: 

یہ ثورہ اسلامیہ کے نام کی تنظیم اپنی نشریات جاری کرتی ہے۔ اس تنظیم نے نظر و فکر کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ اخبار کا یہ نام اور تنظیم کا نام ان کے مفاد کے مطابق نہیں اور نہ ہی اسے سیاسی ذرائع کی طرف سے قبولیت حاصل ہوگی تو انہوں نے یہ تکنیک اختیار کی کہ 1990ء کے آخر میں 1991ء کے شروع میں اس تنظیم کا نام بدل دیا اس کا نام رکھا۔ 

الحركة الاصلاحيه الشيعية فی الجزيرة العربية۔ 

اور اخبار کا نام مجلہ الجزیرۃ العربیہ رکھا۔ سعودی حزب اللہ نے (الصفا) کے نام سے کتابوں کی اشاعت کا ادارہ قائم کیا۔ یہ سعودی حکومت کے خلاف جھوٹ بولتا ہے۔ اور سعودی معاشرہ اور عوام کو حکومت کے خلاف بھڑکاتا ہے۔ یہ اداره (الصفا) مغربی تنظیموں اور یہودیوں کے بیانات اور معلومات جاری کر کے ان کی تقویت کا باعث بن رہا ہے۔ اس تنظیم کے امریکہ میں اور دیگر مغربی ملکوں میں مضبوط تعلقات ہیں۔ یه مجله الجزیرۃ العربیہ 1991ء ماہِ جنوری میں جاری ہوا 1993ء کے نصف تک یہ شائع ہوتا رہا ہے۔ یہ رسالہ باہر کے یہودیوں کے ساتھ غیر محدود تعاون کرتا رہا ہے وہ یہودی جو سعودیہ کی اسلامی حکومت کے نظام سے انتقام لینے کے آرزومند ہیں، یہ شیعوں کا اخبار ان کا سہارا تھا۔ اور اس کا مقصد یہ تھا اس ملک سعودی میں بدامنی ہو، اور یہ دھرتی بے قرار ہو جائے۔ 

اس رسالہ کا مدیرِ اعلیٰ حمزہ حسن تھا۔ اور عام مدیر عبدالامیر موسیٰ تھا۔ 

حقوقِ انسانی کے نام پر کمیٹی:

شیعوں کا اصل مقصد تو یہ تھا اپنے مطالبات منوانے کے لیے متعدد چھوٹی چھوٹی پارٹیاں قائم کی جائیں یہ تحریک اصلاحِ شیعہ کے نام سے اس لیے وجود میں آئی تھی۔ اس نے ہی یہ جماعت حقوقِ انسانی کے نام سے قائم کی تھی انہوں ظاہر تو یہی کیا کہ یہ ایک خود مختار کمیٹی ہے دراصل ان کے امریکی نظام کے ساتھ گہرے رابطے تھے وجہ یہ ہے کہ امریکی اور یہودی لابیوں کے ساتھ اس تنظیم کے بہت زیادہ گہرے رابطے تھے۔ اس کمیٹی نے ایک اخبار بھی شائع کیا جس کا نام اریبہ مونڑ تھا۔ یہ انگریزی زبان کا ترجمان تھا۔ اس میں سعودی حکومت کے خلاف دل کھول کر اور بڑھا چڑھا کر اور جھوٹوں کا پلندہ تیار کر کے بیان دیے جاتے ہیں۔ اور سعودیہ میں موجود اس تنظیم کے افکار اور آئیڈیا لوجی کو بھرپور طریقہ سے بیان کرتے ہیں۔ 

واشنگٹن میں اس کمیٹی کا نگران جعفر شایب ہے۔ لندن میں صادق جبرال ہے۔ اور اس کا معاون توفیق سیف ہے جو کہ اس کمیٹی کا اب بھی کرتا دھرتا ہے۔ اور اس تحریک کا جنرل سیکرٹری بھی ہے۔ 

اس تنظیم کے اہم نمائندے:

تحریک اصلاح شیعہ کے نمایاں نمائندے درج ذیل ہیں:

  1.  حسن صفار جو کہ اس تحریک کا بانی راہنما اور نگران ہے۔
  2. توفیق السیف یہ اس تحریک کا جنرل سیکرٹری۔
  3.  حمزه حسن ، یہ جزیرہ عربیہ رسالہ کا مدیر اعلیٰ ہے۔ 
  4. میرزا خویلدی ہے۔ یہ نشر و اشاعت کے شعبہ دارالصفا کا مسئوول ہے۔ 
  5. عادل سلمان 
  6. حبیب ابراہیم
  7. فواد ابراہیم 
  8. محمد حسن
  9. زکی میلاد 
  10. عیسی مزعل
  11. جعفر شایب 
  12. صاد جبران
  13. فوزی سیف۔

تحریک اور سعودی حکومت میں اتفاق:

صفحہ 5 از 8