حزب اللہ کی شاخیں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حزب اللہ کی شاخیں

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 4 از 8

پتہ چلا ہے کہ پٹرول اور کیماوی کمپنی بھی عبد الرحمٰن جواہری کے زیرِ سرپرستی ہے جو کہ اصلی ایرانی شیعہ ہے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ وزارتِ بجلی وزارتِ صحت وزارتِ وزارت، وزارتِ بلدیات میں بھی شیعوں کی کثرت ہے۔ حتیٰ کہ وزارتِ تعلیم و تربیت جہاں اکثر سنی ملازمین تھے آج ان سب وزارتوں میں شیعوں رافضیوں کی بھر مار ہے۔ حتیٰ کہ بحرین میں دس برس بعد تعلیم و تربیت شیعی نقطہ نظر سے ہم آہنگ ہو جائے گی کیونکہ شیعہ افراد کا اس پر غلبہ ہے اور ان کی تشریحات پھیلائی جارہی ہیں اور ان تعلیم گاہوں سے فارغ ہونے والے افراد میں سے (90) فیصد فارغ ہونے والے شیعوں کے بیٹے ہیں۔ اگر اس خطر ناک منصوبہ سے سنی اب بھی آگاہ نہیں ہوئے تو نعوذ باللہ یہ اپنی پہچان کھو بیٹھیں گے۔ بحرین میں شیعہ کی سرگرمیاں اب پردہ راز میں نہیں رہیں، خصوصاً عراق پر امریکیوں کے ظالمانہ قبضہ کے بعد اور متشدد شیعی حملہ کے بعد جو انہوں نے عراق پر پوری دسترس حاصل کر لی ہے۔ اس کے بعد حکومتِ بحرین گروہی اکھاڑ بچھاڑ کے گڑھے میں گر گئی ہے۔ بحرین میں حکومت کا نظام اس شیعی حملہ نے درہم برہم کر دیا ہے اور شیعی تشریحات کو پسند کیا جانے لگا ہے اور یہ بہت ہی زیادہ تیز قدمی کے ساتھ ادھر بڑھ رہے ہیں کہ حکومت کی ہر راہ مسدود کر دیں اور یہ سب کچھ علم کی ترویج اولاد کی تربیت اور عمل کی اہمیت کے نام پر کیا جارہا ہے۔ 

1996ء کے آخری حادثات کے دوران کویت کا اخبار الانباء لکھتا ہے: 10 جون 1996ء میں حزب اللہ کویتی نے اسلحہ خریدنے پر کمر باندھ لی ہے وہ اسلحہ عراقی فوج کویت میں چھوڑ گئی تھی اسے حزب اللہ بحرینی نے بحرین سپلائی کرنے کا کہا ہے۔ اخبار کہتا ہے: 

ان الاوامر التی صدرت من السلطات الايرانية الى حزب الله البحرينی تضمنت اتباع خطة طويلة المدى لتهريب الأسلحة الى البحرين۔ 

ایران کی حکومت کی طرف سے جو احکام جاری ہوئے ہیں ان میں حزب اللہ کو یہ آرڈر ملا ہے طویل منصوبہ کی تکمیل کے لیے بحرین میں اسلحہ جمع کرے گا۔ 

یہ کام اتنا خفیہ ہوا کہ بحرین کے امن کے ذمہ داروں پر اس کی ایک رسی بھی ظاہر نہ ہو اور پھر فوراً اسے خفیہ ٹھکانوں میں پہنچا دیا جائے۔ بحرین کی حزب اللہ کے ایک قائد احمد کاظم متقی نے خود اعتراف کیا ہے کہ ہم نے ایرانی تاجروں کے ایک منتظم سے ملاقات کی جو کہ احمد شریف ہے۔ 

وفی هذا الاجتماع طرح علينا فكرة لتهريب الأسلحة للبحرين عن طريق البحر۔

ہماری اس ملاقات میں اس نے ہمیں بحرین کے لیے بذریعہ سمندر اسلحہ سپلائی کرنے کا گر بتایا ہے اس کی تائید جاسم حسین خیاط نے بھی کی ہے یہ کہتا ہے: 

ہم نے ایرانی نمائندہ احمد شریف سے یہ ضابطہ طے کیا ہے وہ بحرین میں اسلحہ پہنچائے گا اور جاسم خیاط نے صراحت کی ہے کہ ہمارا اصل ہدف یہ ہے کہ بحرین کی حکومت میں فوجی قوت کے ذریعے انقلاب بپا کیا جائے اور شیعی حکومت قائم کی جائے جس کے ایران کے ساتھ دوستانہ مراسم ہوں۔ 

اس نے یہ بھی وضاحت کی تھی کہ جو پہلی کرج کی تربیت گاہ میں دستہ بھیجا گیا تھا یہ کرج ایران کے دارالخلافہ طہران کے شمال میں ہے تو یہ تعاون ایرانی نمائندہ محمد رضا آلِ صادق اور لواء وحیدی کے ذریعہ ہی بھیجا گیا تھا۔ اپنے مقاصد کی تیاری پر اکسانا 1996ء میں عباس علی احمد جمیل نے خطابات کیے جن میں بحرین کی حکومت کے خلاف سختی پر اتر آنے کی ترغیب تھی اور بحرین کی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت تھی اور وہاں یہ اس لیے رکا رہا کہ جماعتوں کو حزب اللہ کی ماتحتی میں رہنے کا طریقہ بتائے۔ عبد الوهاب حسین تو اس حزب اللہ کے لیے بڑے بڑے دورے کرتا رہا ہے اور امن قائم کرنے والوں سے کیسے پیش آتا ہے اس بارے میں لیکچر دیتا رہتا ہے اور تفشیش کرنے والوں سے کیسے بچنا ہے۔ ان کے مشکل سوالات کے جوابات میں کیا کہنا ہے۔ اور حکومت کے خلاف عوام کو کیسے تیار کرنا۔ ہے اور معاشرتی شورش کیسے بپا کرتی ہے۔ 

خطیب عباس حبیل محمد ریاش اور لیڈر عبد الامیر کے ذریعہ احکامات حاصل کیا کرتا تھا۔ مجلسِ وزراء اور بحرین کے وزیرِ اطلاعات نے وضاحت سے کہا ہے کہ حزب اللہ انقلابِ ایران کے بعد پاسدران کی تربیت گاہ میں تربیت حاصل کرتی رہی ہے۔ کرج میں بھی اس نے تربیت لی ہے۔ جب 1996ء کے بعد حزب اللہ بحرینی کو ایران میں رکھنا مشکل ہوگیا تو پھر اسے لبنان میں موجود تربیت گاہوں کی طرف منتقل کر دیا گیا۔ ان کو فوجی تربیت دی جاتی۔ اسلحہ کی ٹریننگ دی جاتی اور مشین گنیں چلانے اور خود کو اسلحہ اور حملہ سے کیسے بچانا ہے۔ اس کی تربیت دی جاتی۔ معلومات جمع کرنا اور انہیں مرکز تک کیسے پہنچاتا ہے اور خفیہ رازوں کی حفاظت کیسے کرنا ہے اور بحرین کی حکومت میں پراپیگنڈہ مہم کیسے چلانی ہے۔ بحرین میں انتخابات میں شیعی مشارکت کی سرگرمیاں ایران تک کیسے پہنچانی ہیں اور بحرین میں ایرانی مفادات کی قانون سازی کے اداروں میں اور ملک کی بنیادی آسامیوں میں شیعہ کی بھرپور کثرت کیسے ثابت کرنی ہے۔ علاوہ ازیں خلیجی ریاستوں اور دیگر عرب ممالک میں ایران کی طرف رغبت پیدا کرنے کے لیے اور اس کے اثر و رسوخ کے لیے غلغلہ بلند کرتے رہیں وغیرہ حزب اللہ بحرینی کی سرگرمیاں ہیں۔

مطلب 2:

سعودی حزب اللہ اور اس کے جرائم:

صفحہ 4 از 8