حزب اللہ کی شاخیں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حزب اللہ کی شاخیں

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 3 از 8

حزب اللہ اور اس کے مریدوں نے جلاؤ گھیراؤ، دکانوں اور مدارس کی بڑی تعداد تباہ کر دی اور بہت زیادہ تعداد میں بجلی کے گرڈ اسٹیشن اور عوامی ٹیلیفون کا سامان جو بھی سڑکوں پر نصب تھے سب برباد کر دیئے۔ علاوہ ازیں بحرینی وزارتِ داخلہ میں چکر بازی کرتے رہے ہیں اور جھوٹی افواہیں پھیلاتے رہے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں پمفلٹ شائع کر کے حکومت اور اس کے نظام کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتے رہے ہیں۔ 1995ء میں ان کے بھیانک کارناموں کی تمہید شروع ہوئی تھی۔ 1996ء ماہِ مارچ حزب اللہ بحرینی نے "سُترہ وادیاں" کے علاقہ میں ایک ہوٹل جلا ڈالا۔ جس میں سات بنگلہ دیشی بھی راکھ ہو گئے اس سے ان کے سیاہ کینہ کی غمازی ہوتی ہے جو ان کے دلوں میں بھرا ہوا تھا۔ 1996ء (21) مارچ کو اس حزب اللہ نے گیراج کو آگ لگا دی اور اس میں موجود تمام گاڑیوں کو خاکستر کر دیا۔ 1996ء میں 4 مئی کو ایک ہی وقت میں نوے سے زیادہ تجارتی منڈیوں کو آگ لگا دی، انہیں توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ بحرین کا اسلامی بنک اور وطنی بنک اور ملکی مرکز کی تجارتی منڈیوں کو بھی لقمہ آتش بنا دیا یہ اس لیے کیا تھا کہ ملک بحرین کی اقتصادی حرکت کا ہا تھ مل کر دیا جائے۔ 13 فروری 1996ء کو تجارتی منڈیاں بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ 15 فروری کو طہران کے ریڈیو سے ایک ترجمان نے عربی زبان میں اعلان کیا کہ بحرین ملک میں عید الفطر کے لیے اجتماع نہ کیا جائے اور 2 مئی 1996ء کو اعلان ہوا کہ بحرین میں سول نافرمانی کریں اور عید الاضحیٰ کا اجتماع نہ کریں اور عید غدیر، عید نوروز سیدنا عمرؓ کو ابولولو مجوسی نے جو شہید کیا تھا فرعتہ الزہراء کے نام سے اسے عید کے طور پر مناتے ہیں، یہ منانے کا اعلان کیا۔ اس سن کے نصف اول میں بھی طہران ریڈیو فتنہ انگیز بیانات اور مرکز گریز رجحانات بے چینی پھیلا تا رہا ہے اور بحرین کی حکومت کے خلاف بغاوت پر اکساتا رہا ہے اور اس کے برقرار رہنے پر تنقید کرتا رہا ہے اور جو بھی لوگ بحرین حکومت کے خلاف دلوں میں کینہ پروری کے لاوے بھرے بیٹھے تھے انہیں انگیخت کرتا رہا ہے کہ بغاوت کے لیے اٹھیں۔ ریڈیو طہران کی طرف سے 22 مارچ 1996 میں یہ اعلان ہوا تھا:

ان الحكومة البحرينية لا تستطيع ان تقاوم او توقف المد الذی قام به الشعب البحرينی تقصد بذلك مطالب الشيعة وهی قلب نظام الحكم وتحويله لدولة صفوية شيعية اخرى على غرار دولة ايران۔

بحرین کی حکومت شیعی مقاصد و مطالب کا سامنا کرنے کی تاب نہیں رکھتی شیعوں کا مطالبہ یہ ہے کہ بحرین کا نظامِ حکومت بدل دیا جائے اور حکومتِ ایران کی طرز پر صفوی شیعوں کی حکومت بنائی جائے۔

بحرین کی شیعہ تنظیم حزب اللہ نے بحرین میں جو نقصان کیا اور تباہی مچائی اس کا اندازہ کیا گیا ہے کہ یہ تقریباً (15) ملین ڈالر ہے۔ ان بڑے بڑے حادثات کے رونما ہونے کے بعد اور ان روح فرسا فسادات کے باوجود شیعہ اور اس کی قیادت کی طرف سے جن کا حکومتِ بحرین کو سامنا کرنا پڑا اور حکومت نے شیعوں کو دبا بھی لیا اس کے باوجود یہ شیعہ طے شدہ اپنے منصوبوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بحرین کی حکومت کو یہ انکشاف ہوا ہے 2006ء ماہِ ستمبر میں ایران نے ایک منصوبہ تیار کیا ہے کہ بحرین کے مختلف علاقوں میں اراضی خریدے اور وہاں کے رہائشیوں کی ترکیب ہی بدل دے کہ ان میں شیعیت پھیلائے اور تمام علاقوں پر شیعوں کے حلیف پھیلا دے اور درپردہ ان جہات سے تنظیموں سے اور شیعی جماعتوں سے جو کہ ایران سے دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں تعاون لے۔ ان زمینوں کو ایران کے بنک خریدتے ہیں اور بحرین کے دارالخلافہ منامہ میں کئی جگہیں شیعوں کی ملکیت ہو چکی ہیں اور محرق میں بھی ان کے حصے ہیں۔ "حوراء قضیہ" دواوادہ میں اس کا خاص اہتمام انہوں نے کر رکھا ہے۔ محرق اور آلِ بنو علی کے محلوں میں بھی انہوں نے خاص اہتمام سے جگہ خرید رکھی ہے اس محلہ کا نام کریمی ہے اس میں ماتم بھی برپا کرتے ہیں اور اس میں ان کے حسینی مراکز بھی ہیں۔ ہے۔ آخر میں بحرین میں موجود حزب اللہ کی آرزو ہے اس کی تیاری اس نے اس طرح کی ہے کہ ایران کے دارالخلافہ طہران کے قریب انہوں نے اپنے عناصر کے لیے فوجی تربیت دینے کا ایک مرکز بنایا، لبنان سے اسرائیل نے جو آخری جنگ 2006ء ماہِ اگست میں لڑی تھی اس میں بحرین کے شیعوں کی بہت بڑی تعداد بحرین کے شیعوں نے اپنے حزب اللہ لبنانی بھائیوں کے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر پوری شرکت کی تھی یہ اس بات پر روشن دلیل ہے کہ دونوں گروہوں کے افرادی تنظیمی اور عقائدی رابطے کسی قدر گہرے ہیں اور بیروت میں حزب اللہ لبنان سے اس حزب اللہ بحرینی کے بے شمار افراد نے احتجاج کرنے اور سول نافرمانی کرنے اور خود کو محفوظ کرنے کے طریقوں کی باقاعدہ تربیت لی ہے بحرین کے اخبارات نے خود اس مسئلہ کا انکشاف کیا ہے کہ یہ خطر ناک کھیل 2007ء میں ماہِ جنوری میں کھیلا گیا ہے۔ بحرین کی جمعیت وفاق الوطنی جو کہ حزب اللہ کی ترجمان ہے اس کے افراد تقریباً سات ہزار سے لے کر دس ہزار تک ہیں۔ اور جو اس کے ساتھ دلی میلان رکھتے ہیں، ان کی تعداد تقریباً بیس ہزار ہے۔ بحرین کی حزب اللہ جمعیت الوفاق اور حرکت حق، یہ تنظیمیں اتنی طاقتور ہو چکی ہیں یہ بحرین کے ہر جوڑ پر اور اس کی ہر حالت پر اور اس کے ہر ادارہ پر اس کی ہر وزارت پر جب چاہے غلغلہ بپا کردیں اور شور شرابہ کر دیں۔ یہ سارا کام سابقہ وزیرِ خارجہ نزار نے کیا تھا۔ کچھ دیر سے متعصب شیعہ محمد سُتری وزارتِ عدل پر براجمان ہے یہ جب سے اس منصب پر فائز ہے سنی ملازمین کو چن چن کر انہیں فارغ کر رہا ہے اور وہابی کہہ کر بدنام کر کے انہیں نکال رہا ہے۔ 

اور مؤلف کہتے ہیں ہمارا یہ حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے کہ: 

ان كل وزارة او موسسة أو هيئة رسمية او قطاع عام يتولى رئاستها رافضی شيعی يتم تنظيفها من العناصر السنية۔

جو وزارت، ادارہ حکومت سازی یا عام اراضی ہو اس میں شیعہ رافضی کی سرکردگی ہو تو یہ اہلِ سنت کا وہاں سے صفایا ہی کرے گا۔ 

صفحہ 3 از 8