حزب اللہ کی شاخیں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حزب اللہ کی شاخیں

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 8

جبہہ اسلامیہ تنظیم نے بحرین میں اسلحہ سپلائی کرنا شروع کر دیا تا کہ بحرین میں آزادی حاصل کریں۔ ماہِ ستمبر 1981ء محمد تقی مدرسی کی قیادت میں جبہہ تنظیم نے بحرین کے حاکم کے خلاف خبیث انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی اور سیاسی قیادت کے صفایا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یوم وطنی کے دن، یعنی ملک کی سالگرہ کے موقع پر کام کرنے کا منصوبہ تیار کیا، یہ تباہ کن منصوبہ بالکل ناکام رہا اور حکومتِ بحرین نے (73) آدمی جو اس ہولناک جرم میں ملوث تھے انہیں گرفتار کر لیا مگر جبہہ اسلامیہ کو توڑنے کے لیے اور ان کی کمر شکنی کے لیے اتنا ہی کافی نہ تھا یہی وجہ ہے کہ اس تنظیم کے قائدین نے بحرین سے آزادی کے لیے اجتماع کیا، ساتھ ایرانی بھی شامل تھے۔ انہوں نے اس پر اتفاق کیا، حزب اللہ بحرینی کے نام سے فوجی دستہ ترتیب دیا جائے اس گروہ کا محمد علی محفوظ سربراہ بنا۔ اس کے تحت یہ پروان چڑھی۔ اس نے تقریباً تین ہزار بحرینی شیعہ اس فوجی دستہ میں شامل کر دیئے اور لبنان اور ایران میں انہیں تربیت دی اس تنظیم کا بڑا شیخ عبد الامیر جمری تھا اس کا نائب جو آجکل ہے وہ شیخ علی احمد سلمان ہے، یہ ان کی جمعیت وفاقی اسلامیہ کا جنرل سیکرٹری بھی ہے اور اس جمعیت کی مجلس کا اہم رکن بھی ہے۔ ہادی مدرسی جبہہ اسلامیہ آزادی بحرین کی تنظیم کا مرشد و راہنما ہے۔ اور اس گروہ کا ستون ہے۔ محمد تقی مدرسی کا بھی اس تنظیم کی مضبوطی میں بے مثال کردار ہے، جب ان کی انقلابی سرگرمیوں کا انکشاف ہوا تو پھر یہ ایران چلے گئے۔ 1994ء کے آخر میں اس تنظیم کی نمایاں کارکردگی ماہِ نومبر و دسمبر میں یہ ہے کہ انہوں نے بحرین میں مظاہرے کرواۓ اور ہیجان پیدا کر دیا۔ افراتفری مچادی شور و شغب برپا کر دیا اور تخریب کاری پھیلا دی یہ چار سال تک، یعنی 1998ء تک انارکی قائم رہی۔ آج تک بحرین میں یہ انارکی دامن پھیلائے بیٹھی ہے۔ حزب الله بحرینی کے مختلف نام استعمال ہوتے ہیں۔ تنظیم العمل المباشر، حرکت اصرار البحرين تنظيم الوطن السليب حماس وغیرہ نام ہیں۔ حقیقت میں یہ حزب اللہ بحرینی کے ہی مختلف روپ ہیں۔ اب اس تنظیم کے سارے نام ایک ہی تنظیم میں ڈھل گئے ہیں جمعیتہ وفاق الوطنی الاسلامی اس کا سیکرٹری جنرل علی سامان ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ جمعیت وفاقی سیاسی نشریاتی ثقافتی حقوق کی بھی علمبردار ہے اور فوجی سرگرمیاں اور تنظیمی معاملات سارے کے سارے حزب اللہ کے سپرد ہیں جو کہ حزب اللہ بحرینی ہے۔ ان کی تنظیم جمیعت وفاق سے خواتین کی تنظیم بھی وجود میں آئی ہے اس کا نام جمعتہ المستقبل النسائیہ ہے اس کی لیڈر شپ ڈاکٹر شعلہ شکیب کے حوالہ ہے جو کہ خالصتاً ایرانی ہے۔ یہ بحرین کی وزارتِ صحت میں ملازم ہے۔ حزب اللہ بحرینی تنظیم اب اپنی ماہانہ نشریات کی دوسرے نام سے اشاعت کرتی ہے، اس کا آغاز لندن سے صوت البحرین کے نام سے کیا تھا اس میں اس نے اپنے مطالبات اہداف و مقاصد اور اپنی سرگرمیوں کو بیان کیا تھا اور اس میں اپنی خبریں بھی شائع کرتی ہے۔ اس کا نمایاں صحافی ڈاکٹر مجید علوی ہے جو کہ استعمر السنی و الخلیفی لدولتہ البحرین کے نام سے کالم لکھتا تھا صلح کے بعد یہ وزارتِ داخلہ میں وزیر بن گیا یہ کس قدر افسوسناک بات ہے کہ اتنا مخالف شیعہ صحافی وزارت میں براجمان کر دیا گیا۔ یہ تحریک کئی دوسری جہات سے بھی تعاون حاصل کر رہی ہے۔ خصوصاً بحرین کے ان شیعہ لوگوں سے جو کہ اصحابِ ثروت ہیں جیسا کہ حاجی حسن عالی ہے۔ احمد منصور عالی ہے اور کویت کے اصحابِ دولت میں بھبھانی ہے جو کہ سعودی عرب کا ہے۔ ایک انٹرویو کے مطابق انہیں لندن وغیرہ بیرون ملک سے حاصل ہونے والی رقم کا اندازہ اسی ہزار ڈالر ہے۔ اب کچھ دیر ہوئی ہے (3) ملین ڈالر جو اس تحریک کی ملکیت ہے برطانیہ حکومت کے زیرِ تسلط ہے۔ حزب اللہ بحرینی اس پر کوشاں ہے کہ یہ اسی راہ پر چلے جس پر احرار البحرین کی تحریک چلی تھی وہ ظاہر میں سیاسی اصلاح کا مطالبہ کرتی تھی اور فوجی شعبہ میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے متحرک تھی۔

تحریک حرکت اصرار البحرین کی اہم شخصیات:

یہ تحریک بھی ایک شیعہ تحریک ہے اس کا نمایاں لیڈر سعید شہابی ہے۔ یہ خارجی دنیا میں شیعوں کا مشہور ترین دفاع کرنے والا ہے اور رسالہ "العالم" کا مدیر اعلیٰ ہے۔ جو کہ لبنان سے شائع ہوتا ہے۔ اسے بحرین کے شاہ نے ملک میں آنے کا کہا تو اس نے جواب میں کہا: 

انا لا يشرفنی الرجوع الى البحرين وانت تحكمها بالحديد والنار۔ 

میں بحرین میں واپس آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا جب تک آپ اس پر آتش و آہن کے زور پر حاکم بنے بیٹھے ہو۔ اس تحریک کا ایک لیڈر منصور عبد الامیر جمری ہے جو رسالہ "الوسط" کامدیرِ اعلیٰ ہے جو کہ بحرین سے لگاتا ہے۔ ایک ڈاکٹر مجید علوی ہے جو کہ موجودہ وزیرِ داخلہ ہے ان میں سے سب سے زیادہ خطرناک لیڈر عبد الوہاب حسین ہے جس نے تحریک انقلاب کی قیادت کی اور بحرین میں بغاوت کروائی 1994ء سے لے کر 1998 ء تک اس نے شورش بپاکیے رکھی۔ اس تحریک کا ماسٹر مائنڈ ڈاکٹر علی عربی ہے اس نے نجف میں پڑھا اور یہ جامعہ بحرین کا سابقہ استاد بھی رہا ہے اور جعفریہ عدالت کا موجودہ قاضی ہے۔ 

حزب اللہ ایرانی کی تخریبی کاروائیاں:

بحرین میں 1994ء سے لے کر 1998ء تک کے چار سالہ عرصہ میں بہت ہی خطرناک حادثات پیش آئے قتل وغارت، جلاؤ گھیراؤ، تخریب کاری کے متعدد واقعات رونما ہوئے یہ سب کچھ حزب اللہ بحرینی نے کیا اور ایران نے انہیں تربیت دی تھی اور بحرین میں یہ عمل جاری کیا گیا۔ 1995ء میں جنوری کے مہینہ کے آغاز میں کئی دکانیں اور تجارتی منڈیانس منامہ کے بازاروں میں جلا دی گئیں۔ 

صفحہ 2 از 8