حزب اللہ کی شاخیں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حزب اللہ کی شاخیں

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 1 از 8

حزب اللہ کی شاخیں

 مطلب نمبر 1:

(بحرینی حزب اللہ کے جرائم )

حزب اللہ چند شیعی رافضی گروہوں کا مجموعہ ہےاس کے بحرین میں سیاسی مقاصد ہیں ان تمام سیاسی تنظیموں میں سے نمایاں اور معروف تنظیم حزب الدعوۃ ہے یہ بھی حزب اللہ کی ذیلی شاخ ہے یہ محمد باقر الصدر کی آراء اور افکار سے رہنمائی لیتی تھی 1981ء میں یہ بالکل ختم ہو چکی ہے بحرین میں حزب اللہ کی ایک شاخ الجمعة الاسلامیہ یہ بحرین کو آزاد کرانا چاہتی ہے اس کا سر براہ محمد علی شیرازی ہے اور حکومت بحرین کے اندر اس کا نمائندہ مادی مدرسی ہے اور اس کا بھائی محمد تقی مدرسی ہے جب انقلاب ایران کی تحریک ایران میں شروع ہوئی تو اس کے قرب و جوار میں تمام شیعی گروہوں کو حکم جاری ہوا تھا کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں خصوصاً بحرین کویت اور سعودی عرب میں شیعی نقطہ نظر کا اثر و نفوذ پیدا کیا جائے اور بحرین کا ملک جو کہ پر امن تھا اس کے متعلق ایران کے دارالخلافہ تہران سے شیعہ قیادت کی طرف سے یہ حکم جاری ہوا کہ یہاں مسلح طور پر شیعہ طرز کا انقلاب برپا کیا جائے تا کہ یہ بھی دینی اور سیاسی نظام میں طہران کے تابع ہو جائے کیونکہ بحرین میں کثیر تعداد میں شیعوں کی آبادی تھی اس لیے انہوں نے آرڈر جاری کر دیا کہ یہاں فساد کریں جبہ اسلامیہ تنظیم نے ایک اہم بیان جاری کیا جو اس کے اہداف و مقاصد کو نمایاں کرتا ہے۔ 

  1.  ہدف یہ بتایا کہ خلیفہ نظام سنی کی حکومت کو گرانے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ 
  2.  ہدف ہے جیسا کہ خمینی انقلاب نے ایران میں نظام شیعی قائم کیا ہے ہم نے بحرین میں وہی نظام قائم کرتا ہے۔ 
  3. ہدف یہ ہے کہ بحرین کو خلیجی ریاستوں سے تعاون ختم کر کے اسلامی جمہوریہ ایران سے مستقل رابطہ رکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ 

اس ہدف کی تاکید آیت اللہ صادق روحانی نے بھی کی تھی ماہِ فروری 1979ء طہران ریڈیو کے عربی پروگرام میں اس نے یہ اعلان کیا تھا اور اس نے اس پر بہت زور دیا کہ مملکت بحرین میں مسلح انقلاب کے لیے ایک تحریک کی ضرورت ہے جبہہ اسلامیہ تنظیم اخبارات کے ذریعے اپنے گروہی دوروں اور سیاسی دوروں کی راہ ہموار کرتی رہی ہے۔ الوطن السليب، الشعب الثائر الثوره والرساله وغیره اخبارات نے اس بارے میں بہت بڑا کردار ادا کیا تھا۔ عیسیٰ مرہون اس اعلامیہ کو جاری کرنے کا ذمہ دار تھا۔ 

79ء کے آخر میں جبہہ اسلامیہ کے پروگرام کے مطابق شیعہ بحرین کو آزاد کرانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اس نے مظاہروں کا پروگرام دیا۔ سعودی عرب کے علاقہ قطیف کے شیعوں نے بھی ان سے تعاون کیا اس کے باوجود ناکام ہوئے ان کے ناک میں دم آیا تو اس نے منامہ کے وسط میں بحرین کی مذاکراتی کمیٹی کے ایک رکن کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا جو رو بعمل نہ ہو سکا۔ 

1980ء میں محمد باقر کے مٹنے کے بعد جو کہ بعث پارٹی کے نظام عراقی کے ہاتھوں انجام کو پہنچا تھا بحرین میں پھر مظاہرے شروع ہو گئے اور بازار منامہ جل کر راکھ ہو گیا۔ 

حزب اللہ بحرینی کے المناک جرائم:

صفحہ 1 از 8